0
Monday 8 Jul 2019 07:42

ایٹمی معاہدے کے حوالے سے اگلا قدم

ایٹمی معاہدے کے حوالے سے اگلا قدم
اداریہ
ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان ہونے والے عالمی معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کے بعد یعنی 8 مئی 2019ء کو ایرانی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا کہ اگر اس معاہدے کے شریک دیگر ممالک نے اپنے وعدوں پر عمل نہ کیا تو ایران بھی مرحلہ وار اس معاہدے کی شقوں پر عمل کرنے سے ہاتھ کھینچ لے گا۔ ایران نے یورپی ممالک کو چھ ماہ کی مہلت دی کہ آپ اگر اس معاہدے کو صحیح سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پر مکمل عمل درآمد ہو تو چھ ماہ کے لیے آپ اپنے عمل و کردار پر غور و خوض کرکے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد شروع کر دیں اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ایران کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اس معاہدے سے ہٹ کر اپنی مرضی کے فیصلے کرے۔

یوں بھی اس معاہدے کی شق نمبر 26 اور 36 میں واضح طور پر آیا ہے کہ اگر معاہدے کے فریقین اس پر عمل نہ کر رہے ہوں تو ایران کو حق حاصل ہے کہ وہ معاہدے کی شقوں کو نظرانداز کرکے اپنی مرضی کے فیصلے کرے۔ ایران نے ایٹمی معاہدے کی شق نمبر 26 اور 36 کی روشنی میں پہلے مرحلے میں ان تمام امور سے ہاتھ کھینچ لیا، جو رضاکارانہ بنیادوں پر ایران نے قبول کیے تھے، اب جبکہ سات جولائی کو ایران کا اعلان کردہ الٹی میٹم ختم ہوگیا ہے تو ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار عباس عراقچی اور ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ ایران آج سے 3.67 فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ کرنا شروع کر دے گا اور تین سو کلوگرام سے زیادہ یورینیم ذخیرہ کرنے کے عمل کا بھی آغاز کر دے گا۔

اسی طرح اراک کے بھاری پانی کا جو ایٹمی ری ایکٹر ایٹمی معاہدے کیوجہ سے ختم کر دیا گیا تھا اور جس کی تعمیر اور نئے ڈیزائن کا وعدہ معاہدہ کے شریک ممالک نے کیا تھا، اس کی نئے ڈیزائن کے ساتھ دوبارہ تعمیر شروع کر دے گا۔ ایران کے اس فیصلے پر امریکہ اور بعض یورپی ممالک بہت زیادہ شور و غل کر رہے ہیں۔ فرانس کے صدر میکرون نے تو صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی سے ٹیلی فون پر تفصیلی بات چیت کی، لیکن صدر ایران نے زبانی وعدوں کی بجائے فرانس اور یورپی ٹرائیکا سے عملی قدم اٹھانے کی تاکید کی۔ ایران نے ایک آزاد و خود مختار اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ایک عالمی معاہدے پر عمل درآمد کی مکمل کوشش کی، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یورپ امریکہ کے خوف سے اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں۔ ایران نے بھی یورپ کی ٹال مٹول کا قانونی جواب دیے دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 803790
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب