0
Monday 8 Jul 2019 12:31

الاعیان من آل رضا علیہ السلام(1)

ماہ ولادت باسعادت امام رضا علیہ السلام کی مناسبت سے
الاعیان من آل رضا علیہ السلام(1)
تحریر: سید اسد عباس

تعارف
امام رضا علیہ السلام کی نسل پاک دنیا کے گوش و کنار میں آباد ہے، امام رضا علیہ السلام کی شخصیت اور اس کی دنیا کے لیے فیوض و برکات تو اپنی جگہ، ان کی نسل پاک کے افراد کی انسانیت اور عالم اسلام کے لیے خدمات بھی کسی معجزہ سے کم نہیں ہیں۔ اس نسل کے افراد کا معاشرہ کے لیے فیض رساں ہونا سورۃ کوثر میں کیے گئے دعویٰ پروردگار کی حقانیت پر ایک دلیل ہے۔ ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کیا۔ نسل کوثر میں سے امام رضا علیہ السلام کے اعقاب میں نمایاں شخصیات میں سے چند کا تعارف درج ذیل مقالہ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ تحریر اگرچہ اس موضوع کا مکمل احاطہ کرنے سے قاصر ہے، تاہم اہل علم اور محققین کے لیے تحقیق کے ایک نئے دریچے کی جانب نشاندہی ضرور کرتی ہے۔

ثامن الآئمہ امام علی رضا علیہ اسلام  امام موسیٰ الکاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین ابن علی بن ابی طالب کے فرزند ہیں۔ آپ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور طوس جو آج کل آپ کی نسبت سے مشھد کہلاتا ہے، میں مدفون ہیں۔ امام علی رضا علیہ السلام کی اولاد دنیا کے گوش و کنار میں پھیلی ہوئی ہے۔ سادات عموماً اپنے آپ کو پہلے معصوم جد سے منسوب کرتے ہیں جیسے حسنی، حسینی، باقری، جعفری، کاظمی اور نقوی، تاہم امام علی رضا علیہ السلام  کے علو مرتبت کے سبب نقوی سادات نے بھی اپنے آپ کو رضوی ہی کہلوایا۔ نقوی البھاکری الرضوی شاخ اسی نسبت کی ایک مثال ہے۔ یہ نسل امام علی نقی بن محمد تقی بن امام علی رضا علیہ السلام کے فرزند سے چلی، تاہم اپنے آپ کو نقوی الرضوی لکھواتے ہیں۔ اسی طرح امام محمد تقی علیہ السلام سے چلنے والی نسل کے افراد بھی اپنے آپ کو جوادی، برقعی اور تقوی کے علاوہ رضوی کی نسبت سے شناخت کرواتے ہیں۔ انساب کی قدیم کتب کے مطابق امام علی رضا علیہ السلام کی امام محمد تقی علیہ السلام کے علاوہ کسی بھی فرزند سے نسل باقی نہیں ہے۔ لہذا دنیا میں موجود رضوی درحقیقت تقوی ہی ہیں۔

امام علی رضا علیہ السلام کی نسل جو امام محمد تقی علیہ السلام کے فرزند موسیٰ مبرقع سے چلی، پر قدیم ترین کتاب تاریخ قم چوتھی صدی ہجری میں تحریر کی گئی۔ یہ کتاب قم کے ہی ایک مورخ حسن بن محمد بن حسن قمی جن کا تعلق اشعری قبیلہ سے تھا، نے لکھی۔ اسی نسب پر تحریر کی گئی ایک اور اہم کتاب علامہ محدث نوری کی ہے، جو البدر المشعشع در احوال ذریہ موسیٰ مبرقع کے عنوان سے شائع ہوئی۔ برصغیر کے رضوی مجتہد علامہ ابوالقاسم بن حسین نے امام علی رضا علیہ کے نسب پر ایک کتاب رسالۃ السادۃ فی سیادۃ السادۃ تحریر کی، جو قم سے شائع ہوئی ہے۔ مشہد مقدس کے ایک عالم مرزا محمد باقر کی کتاب شجرہ طیبہ در انساب سلسلہ سادات علویہ رضویہ بھی اس نسب کے حوالے سے تحریر کی گئی ایک اہم کتاب ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں کراروی سادات، سادات سامانہ انڈیا، کرمانی سادات اور کچھ دیگر نسلوں کے قلمی شجرے بھی اسی نسب کی شخصیات پر مشتمل ہیں۔

کسی بھی امام کی نسل کے افراد کا مکمل احاطہ ایک دقیق کام ہے، ہم ذیل میں امام رضا علیہ السلام کی نسل سے چند معروف شخصیات کا تذکرہ کرکے نسل کوثر کی ثناء خوانی کا فریضہ انجام دینے کی کوشش کریں گے۔ یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی نسل پاک سے وہ خاندان جو برصغیر پاک و ہند میں آباد ہیں، زیادہ تر معروف النسب ہیں، جس پر دقت اور تحقیق درکار ہے۔ چوتھی صدی ہجری کے نسابہ شیخ ابی نصر سھل بن عبد اللہ بخاری اپنی کتاب سر سلسلۃ العلویہ میں لکھتے ہیں: ولم یولد ذکرا ولا انثی الا ابنہ محمد بن علی علیہ السلام ولہ عقب۔(۱) "ان سے محمد بن علی کے علاوہ کوئی نرینہ و غیر نرینہ اولاد نہ ہوئی، ان (محمد بن علی) کی اولاد ہے۔" شیخ مفید نے بھی اسی قول کو قبول کیا ہے جبکہ دیگر کتب سیر میں امام علیہ السلام کے امام محمد تقی علیہ السلام کے علاوہ حسن، حسین، جعفر، ابراہیم نام کے فرزندوں کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔(۲)

الاعیان من آل رضا علیہ السلام
امام رضا علیہ السلام اپنے اجداد کی مانند خود بھی صاحب فضل و کرم تھے اور ان کی اولاد میں بھی فضیلت و کرامت کا سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے۔ امام رضا علیہ السلام کی نسل سے پیدا ہونے والے ائمہ میں امام محمد تقی الجواد، امام علی نقی الہادی، امام حسن عسکری اور حجت دوران صاحب عصر و زمان شامل ہیں۔ آپ کی اولاد میں ان آئمہ کے علاوہ بہت سے راویان حدیث، فقہاء، علماء، اطباء، حکماء، شعراء، عرفاء اور صاحب علم و فن پیدا ہوئے۔ ان مین سے چند ایک شخصیات کا تذکرہ ذیل میں تبرکاً کیا جا رہا ہے۔

امام محمد تقی علیہ السلام
آپ قبل ازیں ذکر کردہ روایت کے مطابق امام رضا علیہ السلام کے تنہا فرزند تھے اور امام رضا علیہ السلام کا سلسلہ نسب امام محمد تقی علیہ السلام سے ہی چلا۔ امام محمد تقی علیہ السلام امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد منصب امامت پر فائض ہوئے۔ دین اسلام کی ترویج، نشر و اشاعت اور دفاع کے لیے آپ کی خدمات قابل قدر ہیں۔ امام محمد تقی (ع) نے اپنے والد بزرگوار کی طرح سیاسی مشکلات کے باوجود سیاسی، فکری اور ثقافتی محاذ پر کام کیا۔ آپ نے زيديہ، واقفيہ، غالیوں اور مجسمہ جیسے فرقوں کے شبہات و اعتراضات کے جوابات دیئے اور اس کے مقابل حقیقی اسلامی تعلیمات کو آشکار کیا۔ غالی جنھوں نے حضرت علی (ع) کے مقام کو الھویت و ربوبیت تک بڑھا لیا تھا، کے خلاف امام محمد تقی علیہ السلام نے سخت موقف اخیتار کیا، حتی کہ ایک جگہ فرمایا:" ابو المہري اور ابن ابي الرزقاء کو جس طرح بھی ہوسکے قتل کیا جائے۔"
 
امام (ع) نے مجسمہ فرقہ کو جو مندرجہ ذیل آیات "يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ"  اور "الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى" سے غلط مطلب نکالتے ہوئے خداوند عالم کے جسم کے قائل تھے، ان کے بارے میں آپ (ع) نے فرمایا:" جو لوگ خدا کے جسم کے قائل ہیں، مکتب اہل بیت کے پیروکاروں کو ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیئے اور انہیں زکوٰۃ بھی نہیں دینی چاہیئے۔" معتزلہ جو ایک کلامی فرقہ ہے، یہ عباسیوں کے حکومت پر پہنچنے کے بعد میدان میں آیا اور عباسیوں کی خلافت کے سو سال کے اندر اپنے عروج تک پہنچ گیا، یہ بھی امام محمد تقی (ع) کے زمانے کے فکری و عقیدتی حوادث میں سے ایک ہے۔ اس زمانے میں امام محمد تقی (ع) کا اعتقادی حوادث کے مقابلہ میں طرز عمل اپنے والد بزرگوار کی طرح بڑی اہمیت کا حامل ہے، یہاں تک کہ یحییٰ بن اکثم جو اپنے زمانے کا بہت بڑا فقیہ شمار ہوتا تھا، اس سے امام محمد تقی (ع) کے مناظرے کو خالص اسلامی افکار و اصول سے معتزلیوں کی محاذ آرائی قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں کامیابی ہمیشہ امام محمد تقی (ع) کے ساتھ رہی ہے۔

امام محمد تقی (ع) نے عوام الناس کی راہنمائی کے لیے مختلف علاقوں میں اپنے نمائندوں کو معین کیا، یہاں تک کہ امام کے اہواز، ہمدان، رے، سيستان، بغداد، واسط، سبط، بصره، كوفه و قم وغیرہ میں فعال و سرگرم وکیل موجود تھے۔ امام محمد تقی (ع) نے بنی عباس کی حکومت میں نفوذ اور مختلف علاقوں میں عوام کی داد رسی و کے لئے "احمد ابن حمزه قمی" جیسے افراد کو حکومتی ذمہ داری سنبھالنے کی اجازت دی تھی، یہاں تک کہ "نوح  ابن دراج" جو امام (ع) دوستوں میں سے تھے، یہ کچھ زمانے تک بغداد کے قاضی رہے۔ اس کے بعد کوفہ کے قاضی بنے، بعض بزرگ اور مورد اعتماد محبان اہل بیت جیسے "محمد ابن اسماعيل ابن بزيع نيشابوري" خلفائے بنو عباس کے وزیروں میں شمار ہوتے تھے، یہ لوگ امام محمد تقی (ع) سے رابطہ رکھتے تھے۔(۳) امام علیہ السلام کی زندگی کے تفصیلی احوال کے مطالعہ کے لیے کتب تاریخ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

امام علی نقی علیہ السلام
امام علی نقی علیہ السلام امام محمد تقی علیہ السلام کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے۔ آپ نے سیاسی مشکلات اور حکومتی جبر کے باوجود اپنے والد اور اجداد کے سلسلہ رشد و ہدایت کو جاری و ساری رکھا۔ آپ نے نیابت اور وکالت کے سلسلے کو مزید مضبوط کیا، یہی وہ دور تھا، جب غیبت امام زمانہ کے لیے معاشرے کو آمادہ کیا جا رہا تھا۔ امام علی نقی علیہ السلام آٹھ برس کی عمر میں منصب امامت پر فائز ہوئے اور آپ کا دور قیادت 33 برسوں پر محیط ہے۔ آپ نے سخت حکومتی شکنجے کے اس طویل دور میں علمی مناظروں، مباحثوں، ارشادات، خطوط، نمائندوں اور وکلاء کے ذریعے دعوت و ارشاد کا سلسلہ جاری رکھا۔ زیارت امیر المومنین، زیارت جامعہ کی تعلیم کے ذریعے آپ نے مذہب حقہ کی تعلیمات کو زندہ رکھنے کے لیے اقدام کیا۔ اپنے اجداد کی مانند آپ بھی صاحب کرامت بزرگ تھے۔ آپ کی حیات طیبہ، علمی کارناموں، سیاسی حکمت عملیوں کے حوالے سے الگ سے کتابیں موجود ہیں۔

امام حسن عسکری علیہ السلام
آپ امام محمد نقی علیہ السلام کے فرزند ہیں، جنھوں نے بابا کی شھادت کے بعد منصب رشد و ہدایت سنبھالا، چونکہ امام علی نقی علیہ السلام کو سامرہ کے محلہ عسکر میں محصور رکھا گیا تھا، تاکہ آپ کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے، اسی لیے امام حسن بن علی عسکری کے نسبت سے معروف ہوئے۔ ان دونوں اماموں کو امامین عسکریین کے عنوان سے بھی جانا جاتا ہے۔ آج بھی ان دونوں آئمہ کا مزار سامرہ عراق میں مرجع خلائق ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے والد اور اجداد کے منصب رشد و ہدایت کو سنبھالا۔ تدوین حدیث کے لئے بے شمار مواد امام حسن عسکری (ع) کے عہد میں تیار ہوا۔ محدثین اور مفسرین نے کثرت سے آپ سے نقل کیا ہے، ان میں ابو ہاشم داؤد، محمد بن حسن، ابراہیم ابن ابی حفعی و غیرہ شامل ہیں۔ دور عسکرین کے فقہا میں حسن بن محبوب، احمد بن نصر بزنطینی، حسین بن سعید اہوازی اور فضل بن شاذان کے نام قابل ذکر ہیں۔ امام حسن عسکری کی علمی فیوض کے ذیل میں درود طوسی کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ بعض عرفا خواجہ نصیر الدین طوسی کی نسبت سے اس کو درود طوسی کہتے ہیں۔ بر روایت شیخ صدوق اس درود کی اصل دعائے توسل ہے اور ائمہ معصومین سے منسوب ہے۔ ہر امام کے لئے مختلف اور مخصوص الفاظ اور القاب کا ذکر معصوم ہی کا حق ہے کہ کون سا معصوم کس لقب کا حقدار ہے۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
۱۔ ابی نصر سھل (341ھ)  ، سر سلسلۃ العلویۃ، ص 38 ط مکتبہ کاظم الکبشی، 1962 م
۲۔ کَشْفُ الغُمَّة فی مَعْرِفَةِ الأئمّة( علی بن عیسی اربلی) ، حبیب السیر، حدیقۃ الشیعہ
( مقدس اردبیلی)، بحار الانوار (علامہ مجلسی)، تذکرہ الخواص (ابن جوزی)
۳۔ ماخوذ از:
http://www.ardebili.com/ur/Sireh/View/11/
۴۔ ماخوذ ازhttp://alhassanain.org/urdu/?com=content&id=177
خبر کا کوڈ : 803836
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب