0
Monday 8 Jul 2019 21:58

کشمیری عوام سب سے زیادہ امن کے خواہاں

کشمیری عوام سب سے زیادہ امن کے خواہاں
تجزیہ: جے اے رضوی

بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ جو حالیہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے دو روزہ دورے کے بعد واپس نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ دو روزہ دورے کے بعد انہوں نے بھارتی پارلیمنٹ میں اس بات کا انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر میں امن و قانون کی صورتحال اطمینان بخش ہے اور اس بات کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات اگلے چھ ماہ کے اندر اندر کروائے جاسکتے ہیں۔ یہ بات امت شاہ نے ایوان میں اس بل کو پیش کرنے کے موقعے پر کہی، جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں نافذ صدر راج کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کرنا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ گذشتہ ایک برس کے دوران ریاست جموں و کشمیر میں زبردست تبدیلیاں لائی گئی ہیں اور اب کشمیر میں خون خرابہ نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اب امن چاہتے ہیں، جس کا وعدہ بھاجپا نے کیا ہے اور جس کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں عسکریت کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی اور حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کا قلع قمع کرکے ہی دم لیں گے۔ بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ماضی میں جب بھی انتخابات ہوتے تھے تو کشمیر میں خون کی ندیاں بہہ جاتی تھیں، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پنچایتی اور پارلیمانی انتخابات پُرامن طور انجام پذیر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال قابو میں ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ نے کشمیر کا ہنگامی دورہ کیا اور اس دورے کے دوران جہاں انہوں نے امن و قانون کی صورتحال کا بھرپور انداز میں جائزہ لیا، وہیں انہوں نے انتخابات کے انعقاد سے متعلق سول پولیس اور فوجی حکام کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔

اگرچہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ فوجی ایجنسیوں نے امت شاہ کو کیا بتایا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ کشمیر میں امرناتھ یاترا کے نتیجے میں فوری طور پر اسمبلی انتخابات نہیں کروائے جاسکتے ہیں۔ اب پارلیمنٹ میں بھی وزیر داخلہ نے کشمیر میں نافذ صدر راج میں مزید چھ ماہ کی توسیع کا بل پیش کیا ہے، جس سے ایسا لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بھی کشمیر میں فوری اسمبلی انتخابات کروانے کے حق میں نہیں ہے۔ درایں اثناء مقبوضہ کشمیر کی تمام چھوٹی بڑی بھارت نواز سیاسی جماعتیں بلا تاخیر اسمبلی انتخابات کرانے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر اسمبلی انتخابات میں تاخیر کی جاتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان بھارت کو اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب یہاں پارلیمانی انتخابات کرائے گئے تو اسمبلی انتخابات میں اس قدر تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئندہ چھ ماہ میں یہاں اسمبلی انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جاسکتا ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا کسی کے پاس بھی کوئی جواب نہیں ہے، کیونکہ کشمیر کے حالات پر کوئی بھروسہ نہیں کہ کب کیا ہوگا۔ آج اگر مودی حکومت امرناتھ یاترا کی حفاظت کا بہانا بنا کر اسمبلی انتخابات کو ٹال رہی ہے تو کل اسکے لئے کوئی نیا بہانہ تراشنا بڑی بات نہیں ہے۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ برس بھارتیہ جنتا پارٹی و پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا سیاسی اشتراک ٹوٹنے کے بعد سے یہاں صدر راج نافذ ہے۔ اب اگر حقیقی امن و سلامتی کی بات کی جائے تو جہاں تک کشمیری عوام کا تعلق ہے تو وہ سب سے زیادہ امن کے خواہاں ہیں۔ کشمیری عوام کا ماننا ہے کہ پُرامن ماحول میں مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

کشمیری عوام ہمیشہ سے امن کے حامی رہے ہیں اور کشمیری عوام خون خرابے سے نفرت کرتے ہیں، کیونکہ اس سے کوئی بھی مسئلہ خواہ وہ کسی بھی نوعیت کا کیوں نہ ہو، حل نہیں ہوسکتا ہے، اس لئے بات چیت و مذاکرات کے لئے سازگار ماحول تیار کرنا ضروری ہے اور اس کی ذمہ داری بھارتی اور ریاستی دونوں حکومتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کس طرح یہاں امن و قانون کو برقرار رکھ کر متعلقین کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرتی ہیں۔ کشمیری عوام کا ماننا ہے کہ مذاکرات کے بغیر اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ نے بذات خود مذاکرات کی بات چھیڑ دی ہے، اس لئے اب اس معاملے میں تاخیر نہیں کی جانی چاہیئے، کیوںکہ بات چیت کے عمل کو عام کشمیریوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوگی اور کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ مذاکرات کے دوران کھلے دل و دماغ اور خلوص کا مظاہرہ کیا جائے
۔
خبر کا کوڈ : 803907
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب