0
Tuesday 9 Jul 2019 08:21

ایک مستحسن قدم

ایک مستحسن قدم
اداریہ
عراق میں صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران عراق تعلقات میں جوہری تبدیلی آئی، دونوں ممالک میں مشترکات بہت زیادہ تھے اور اختلافات نہ ہونے کے برابر۔ صدام نے عربی عجمی اور کبھی قوم پرستی کا نعرہ لگا کر دونوں ممالک کو اس حد تک دور کر دیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان آٹھ سال تک جنگ رہی۔ صدام کی جارحیت کے نتیجے میں دونوں ملکوں کو کتنا جانی, مالی اور سیاسی نقصان ہوا, اس کے اثرات اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ عالمی سامراج نے صدام کی حوصلہ افزائی کی, جس نے صدام کی شیطانی ماہیت کو مزید نمایاں اور واقع کر دیا۔ صدام کی گرفتاری اور عراق پر امریکی تسلط کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی اصولی سیاست اور عراقی عوام کے مفاد میں مثالی سفارتکاری انجام دی، جس کے نتیجے میں امریکہ کو عراق سے مجبورا نکلنا پڑا۔ عراق میں سیاسی استحکام اور بعد میں داعش دہشت گردی سے مقابلے کے لیے ایران نے ایک حقیقی برادر اور اسلامی ہمسایہ ہونے کا کردار ادا کیا۔

امریکہ عراق کو تین ملکوں میں تقسیم کرنے کا خواہشمند تھا اور اس میں اسرائیلی لابی پوری کی پوری ملوث تھی، لیکن ایران کا مثبت اور بھرپور کردار اس بات کا باعث بنا کہ کردستان کے بارزانی کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ علیحدہ ہونے کا اعلان کرے۔ اسی طرح سنی نشین علاقے کو ایک سازش کے تحت عراق سے جدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی، جسے ایران اور عراق کی مرجعیت نے اپنی دور اندیشی سے ناکام بنا دیا۔ اس وقت ایران اور عراق کے درمیان تقریباً بارہ ارب ڈالر سے زیادہ کا تجاری حجم ہے، جس کے اس سال کے اختتام تک بیس ارب تک پہنچنے کی توقع ہے۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں بالخصوص گیس اور بجلی کے میدان میں بہت قریب آچکے ہیں۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کی آمد و رفت بھی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ دونوں ممالک تمام تر بیرونی سازشوں کے باوجود تعلقات میں مزید فروغ لائیں گے۔

صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی کے گذشتہ سال کے دورہ عراق میں جہاں دیگر موضوعات پر اہم سمجھوتے اور معاہدے ہوئے، وہاں زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ دونوں ملکوں نے پہلے مرحلے میں ویزا فیس ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور اب گذشتہ روز کے ایک فیصلے کے مطابق امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے لیے عراق جانے والے تمام ایرانی زائرین کے لیے ویزے کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ امسال ایرانی زائرین ضروری ہم آہنگی کے بعد صرف پاسپورٹ اور بیمہ کارڈ دکھا کر چہلم کے ایام میں زیارت کے لیے عراق داخل ہوسکیں گے۔ دونوں ممالک کے اس مستحسن قدم کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے بعد اس بات کی امید رکھنی چاہیئے کہ ایران و عراق غریب اسلامی ممالک سے آنے والے امام حسین علیہ السلام اور امام رضا علیہ السلام کے زائرین کے لیے بھی اس سے ملتا جلتا اقدام کریں گے، جس سے آئمہ علیھم السلام کے ان مخلص اور سچے عاشقوں کو بھی زیارت کا موقع مل سکے گا، جو مالی مشکلات کی وجہ سے اس نعمت عظمیٰ سے محروم ہیں۔
خبر کا کوڈ : 804006
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب