0
Wednesday 10 Jul 2019 20:59

داستان ظہور(7، 8)

داستان ظہور(7، 8)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی

کعبہ کے پاس کیا ہو رہا ہے؟
اب جبکہ سورج نکل آیا ہے مکہ کے لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ مسجد الحرام میں کچھ خاص خبریں ہیں۔
وہ ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں: یہ کون ہے کہ جو کعبہ کے پاس کھڑا ہے اور کچھ لوگوں نے اسے گھیرا ہوا ہے؟
اس دوران ہر جگہ آواز آتی ہے۔ (1)
غور سے سنو! یہ جبرائیل علیہ السلام کی آواز ہے:
اے لوگو! یہ مہدی آل محمد ہیں ان کی پیروی کرو۔ (2)
تمام لوگ اس آواز کو سنتے ہیں۔ (3)
عجیب یہ ہے کہ ہر کوئی اس آواز کو اپنی زبان میں سنتا ہے اگر عرب ہے تو عربی میں اگر فارس ہے تو فارسی میں، اگر پاکستانی ہے تو اُردو میں۔ (4)
جب لوگ اس آواز کو سنتے ہیں تو ایک دوسرے سے ظہور کے بارے میں بات کرتے ہیں اور سمجھ جاتے ہیں کہ خدا کا وعدہ پورا ہو گیا ہے۔ (5)
مکہ کے لوگ یہ آواز سننے کے بعد مسجد الحرام کی طرف بڑھتے ہیں تاکہ دیکھیں وہاں کیا ہو رہا ہے۔
وہ دیکھتے ہیں کہ اصحاب امام علیه السلام، امام علیه السلام کے ساتھ جمع ہیں۔
اب امام لوگوں کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں آپ کی رائے میں امام کی پہلی بات کیا ہو گی؟

امام کعبہ کے پاس جا کر دیوار کعبہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے ہیں اور یہ کہتے ہیں:
"اے لوگو! میں مہدی ہوں! 
حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کا بیٹا ہوں،
جو کوئی آدم، ابراہیم، موسٰی، عیسٰی اور محمد کو دیکھنا چاہتا ہے مجھے دیکھے،
اے لوگو! میں تم سے مدد طلب کرتا ہوں کون ہے جو میری مدد کرے گا؟ " (6)
اب مکہ کے لوگوں کو بہت بڑا امتحان پیش آ جاتا ہے باوجود اس کے کہ امام ہزار سال سے زیادہ عمر رکھتے ہیں لیکن ایک جوان کی شکل میں ظہور کرتے ہیں۔ (7)
مکہ کے لوگ شک و تردد میں ہیں کچھ لوگ یقین نہیں کررہے کہ یہ وہی مہدی ہیں۔ (8)
وہ چالاکی کرتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ امام کو قتل کر دیں لیکن بھول گئے ہیں کہ امام کے کتنے باوفا اصحاب ہیں، جنہوں نے عہد کیا ہے کہ آخری سانس تک امام کا دفاع کریں گے۔ (9)
جب لوگ دیکھتے ہیں کہ امام کے اصحاب دفاع کے لئے تیار ہیں تو پشیمان ہو جاتے ہیں اور مسجد الحرام کو ترک کر دیتے ہیں۔

ایک مدت کے بعد لوگوں نے جبرائیل علیہ السلام کی آواز کو سنا ہے ان کے دل امام کی طرف مائل ہو چکے ہیں سب چاہتے ہیں کہ امام کو دیکھیں۔ (10)
ٹھیک ہے کوفہ و مدینہ ابھی تک سفیانی کے قبضہ میں ہے لیکن اگر ان دو شہروں میں جائیں تو دیکھیں گے کہ سفیانی کے سپاہی اپنے کمانڈر کے حق ہونے میں شک کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سفیانی کی قید سے چھٹکارہ پا کر امام کے ساتھ مل جائیں۔

شیطان چونکہ انسانوں کی سعادت کا دشمن ہے چاہتا ہے کہ ہر طریقہ سے لوگوں کو گمراہ کرے اب بھی لوگوں کو دھوکہ دینے کی سوچ رہا ہے کہ لوگ امام کے ساتھ نہ مل سکیں۔
وہ جانتا ہے کہ امام زمانہ علیه السلام کے ظہور کے بعد دنیا پر خدا کے نیک لوگوں کی حکومت ہو گی اور برے لوگوں کے لئے زمین پر ٹھکانہ نہ ہو گا۔
اسی لئے جب غروب آفتاب کا وقت ہوتا ہے شیطان کی آواز بلند ہوتی ہے۔ شیطان بلند آواز سے پوری دنیا کے لوگوں سے خطاب کرتا ہے اور کہتا ہے اے لوگو! آگاہ رہو کہ سفیانی اور اس کے اصحاب برحق ہیں۔ (11)
تمام لوگ اس آواز کو سنتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ یہ شیطان کی آواز ہے کچھ گمراہ ہو جاتے ہیں، وہ شیطان کا دھوکہ کھا جاتے ہیں اور امام زمانہ علیه السلام سے بےزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ (12)
مجھے ان لوگوں پر افسوس ہو رہا ہے کہ کیسے شیطان کے جال میں پھنس گئے ہیں۔
آئمہ معصومین علیہم السلام کے ارشادات میں آیا ہے۔
کہ زمانہ ظہور میں دو آوازیں بلند ہوں گے۔
پہلی آواز کہ طلوع آفتاب کے نزدیک ہے کانوں میں پڑے گی جو جبرائیل علیہ السلام کی آواز ہے اور غروب کے وقت جو آواز سنائی دے گی وہ شیطان کی آواز ہے۔
شیعہ چونکہ پہلے سے اس بات کو جانتے ہیں لہٰذا دھوکہ نہ کھائیں گے وہ جانتے ہیں کہ حکومت عدل بہت نزدیک ہے۔ (13)

________________________________________
منابع:


1۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... لهم سیوف من حدید غیر هذا الحدید ، لو ضرب أحدهم بسیفه جَبَلاً لَقدَّه حتّی یفصله": بصائرالدرجات ص 512، مختصر البصائر ج 6 ص 27، بحار الأنوار ج 27 ص 43.
2۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "فینادی المنادی بمکّه باسمه... حتّی یسمعه أهل الأرض کلّهم...": بحار الأنوار ج 52 ص 222، تفسیر العیّاشی ج 1 ص 65.
3۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "فإذا طلعت الشمس وأضاءت صاح صائح بالخلائق: یا معشر الخلائق ،هذا مهدی آل محمّد... فأوّل من یقبّل یده الملائکه ثمّ الجنّ ثمّ النقباء ، ویقولون: سمعنا وأطعنا...": مختصر بصائر الدرجات ص 183، بحار الأنوار ج 53 ص 8۔
4۔ قلت لأبی عبدالله (علیه السلام): "النداء حقّ؟ قال: أی والله حتّی یسمعه کلّ قوم بلسانهم": الغیبه للنعمانی ص 283، بحار الأنوار ج 52 ص 244۔
5۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "ینادی مناد باسم القائم (علیه السلام)... یُسمع کلّ قوم بلسانهم...": کمال الدین ص 650، بحار الأنوار ج 52 ص 205۔
6۔ أمیر المؤمنین (علیه السلام): "فعند ذلک یظهر المهدیّ علی أفواه الناس ، ویشربون حبّه ، فلا یکون لهم ذکر غیره": الملاحم والفتن ص 128، کنز العمّال ج 14 ص 587۔
7۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "فینادی: أیّها الناس إنّا نستنصر الله ، فمن أجابنا من الناس؟": الغیبه للنعمانی ص 29، الاختصاص ص 256، بحار الأنوار ج 52 ص 238۔
8۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "من أعظم البلیه أن یخرج إلیهم صاحبهم شابّاً وهم یحسبونه شیخاًکبیراً": الغیبه للنعمانی ص 194، بحار الأنوار ج 2 ص 287۔
9۔ أمیر المؤمنین (علیه السلام): یُبعث وهو ما بین الثلاثین وإلی الأربعین": الملاحم والفتن ص 154۔
10۔ الإمام السجّاد (علیه السلام): "فیقومون إلیه لیقتلوه، فیقوم ثلاثمئه وینیف علی الثلاثمئه فیمنعونه منه'": بحار الأنوار ج 52 ص 199۔
11۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "فلا یبقی فی الأرض یومئذ أحد إلاّ خضع وذلّت رقبته لها": الغیبه للنعمانی ص 268، بحار الأنوار ج 52 ص 292۔
12۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "صعد إبلیس فی الهوا حتّی یتواری عن أهل الأرض ، ثمّ ینادی...": الغیبه للنعمانی ص 268، بحار الأنوار ج 52 ص 268. عن الإمام الصادق (علیه السلام): "ثمّ ینادی إبلیس لعنه الله فی آخر النهار: الا أنّ الحقّ فی السفیانیوشیعته...": کمال الدین ص 652، بحار الأنوار ج 52 ص 206. وعن الإمام الصادق (علیه السلام): "إنّ الشیطان لا یدعهم حتّی ینادی کما نادی برسول الله یوم العقبه": الغیبه للنعمانی ص 273۔
13۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "فعند ذلک یتبرّون منّا ویتناوّلونا...": بحار الأنوار ج 52 ص 293۔
خبر کا کوڈ : 804349
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب