0
Saturday 13 Jul 2019 12:38

داستان ظہور(9، 10)

داستان ظہور(9، 10)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی

لشکر سفیانی کا زمین میں دھنس جانا:
آج چودہ محرم کی رات ہے شہر مکہ کا آسمان بھی مہتابی ہے (چاند کی روشنی سے دمک رہا ہے) امام کے ظہور کی چوتھی رات ہے، شہر مکہ میں آرام و سکون ہے البتہ شہر سے باہر سفیانی کی فوج نے شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ (1)
لشکر سفیانی ڈرتا ہے کہ شہر میں داخل ہو اور امام کے لشکر کے ساتھ جنگ کرے۔
وہ انتظار کر رہے کہ مدینہ سے ان کے مددگار بھی آ جائیں، تاکہ امام کے ساتھ جنگ کر سکیں۔ آج کی رات مدینہ سے سفیانی کے تین لاکھ سپاہی مکہ کی جانب حرکت کرتے ہیں، سفیانی نے انہیں حکم دیا ہے کہ شہر مکہ پر قبضہ کرو، کعبہ کو منہدم اور امام کو قتل کر دو یہ سفیانی کا منصوبہ ہے۔ (2)
جی ہاں! امام زمانہ علیه السلام کے پاس تو صرف تین سو تیرہ سپاہی ہیں کیسے وہ تین لاکھ سے زائد فوج کا مقابلہ کریں گے؟
میں جانتا ہوں کہ خدا ہرگز اپنے ولی کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
سفیانی کا لشکر مدینہ سے مکہ کی جانب روانہ ہوتا ہے مدینہ سے خارج ہونے کے بعد سر زمین ”بیدا“ میں مستقر ہوتا ہے۔ (3)
کیا جانتے ہیں کہ سر زمین ”بیدا“ کہاں ہے؟
تقریباً مدینہ سے مکہ کی طرف جاتے ہوئے پندرہ کیلومیٹر باہر نکلیں تو ”بیدا“ نامی جگہ آتی ہے۔

تھوڑی سی رات گزرتی ہے۔
وہ کون مرد ہے جو آہستہ آہستہ اس سمت آ رہا ہے؟
دیکھو! ظاہر سے لگتا ہے کہ وہ اہل مکہ نہیں ہے وہ کسی اور راستہ سے آ رہا ہے۔ وہ شخص امام کا پوچھتا ہے گویا اسے کوئی اہم کام ہے۔ امام کے ساتھی اسے امام کے خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
وہ شخص آ کر کہتا ہے: اے میرے آقا! مجھے آپ کو ایک خوشخبری سنانے کا حکم دیا گیا ہے، ایک فرشتے نے مجھے حکم دیا ہے کہ آپ کے پاس آ
ں۔ (4)
میں اس ماجرا کو نہیں جانتا، اس شخص کی بات سے تعجب کرتا ہوں کیسے ممکن ہے کہ یہ شخص دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے فرشتوں کو دیکھا ہے؟
امام جو کہ ہر چیز سے آگاہ ہیں کہتے ہیں بتا
: اپنی بات مجھے بتا۔
وہ شخص امام کو مخاطب کر کے کہتا ہے:
میں آیا ہوں کہ آپ کو اطلاع دوں کہ سفیانی کا لشکرنابود ہو گیا ہے میں اور میرا بھائی سفیانی کے لشکر میں تھے اور سفیانی کے حکم پر مکہ پر قبضہ کرنے کے لئے نکلے تھے، جب سرزمین بیدا پہنچے تو رات کی تاریکی چھا گئی اسی لئے اس صحرا میں قیام کیا۔
اچانک اس بیابان میں ایک آواز سنائی دی، اے صحرائے بیدا اس ظالم قوم کو اپنے اندر نگل لو۔ (5)
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ تمام سپاہی اس میں گڑ گئے فقط میں اور میرا بھائی باقی بچے، اس فوج کا کوئی نام و نشان باقی نہیں بچا، میں اور میرا بھائی مبہوت رہ گئے۔
اچانک ایک فرشتہ نمودار ہوا اور میرے بھائی کو آواز دی اور کہا: اب سفیانی کے پاس جا
اور اس بات کی خبر دو اس کا لشکر زمین نے نگل لیا ہے۔ پھر وہ میری طرف مخاطب ہوا اور کہا، مکہ جاﺅ امام زمانہ علیه السلام کو اس کے دشمنوں کی نابودی کی اطلاع دو اور توبہ کرو۔ (6)

اب میرے لیے بہت سی چیزیں واضح ہو گئی ہیں۔
جی ہاں! خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا اور دشمن امام زمانہ علیه السلام کو نابود کر دیا۔
وہ شخص چونکہ اپنے کئے پر پشیمان ہے، جب امام مہربان کو دیکھتا ہے توبہ کرتا ہے اور اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے۔
کیا جانتے ہیں کہ جس فرشتہ نے اس شخص کے ساتھ بات کی کون تھا؟
وہ آواز جو صحرائے ”بیدا“ میں بلند ہوئی کیا تھی؟
وہ جبرائیل علیہ السلام تھے کہ جو حکم خدا سے آئے تھے کہ اس لشکر کو نابود کریں۔ (7)
لشکر سفیانی چاہتا تھا کہ کعبہ کو خراب کرے اور امام زمانہ علیه السلام کے ساتھ جنگ کرے تو خدا کے عذاب میں گرفتار ہو گیا اور زمین کے اندر دفن ہو گیا۔ (8)
سفیانی کے لشکر کی تباہی کی خبر ہر جگہ پھیل گئی اور جنہوں نے پہلے سے مکہ کا محاصرہ کر رکھا تھا اس خبر کو سنتے ہی فرار کر گئے۔
سفیانی شہر کوفہ میں ہے اس خبر کے سنتے ہی اس کا جسم خوف سے کانپنے لگتا ہے اور اس نے مکہ پر حملہ کی سوچ اپنے دماغ سے نکال دی۔


دس ہزار کے لشکر کا آنا:
مکہ کے لوگ جب سفیانی کے لشکر کی تباہی کی خبر سنتے ہیں، بہت ڈر جاتے ہیں اسی لئے شہر میں سکون ہو جاتا ہے اب کوئی امام سے دشمنی کرنے کی نہیں سوچتا۔
امام کی عالمی حکومت کا دارالخلافہ شہر کوفہ ہے میں انتظار کر رہا ہوں کہ کوفہ کی جانب سفر کروں۔
میں سننا چاہتا ہوں کہ امام کب کوفہ کی جانب روانہ ہوں گے، امام کے ایک قریبی صحابی کے پاس جاتا ہوں اور اس سے پوچھتا ہوں امام کوفہ کی جانب کیوں روانہ نہیں ہو رہے؟
وہ جواب میں کہتا ہے: امام انتظار کر رہے ہیں کہ ان کا تمام لشکر مکہ میں آ جائے۔
جی ہاں، جس وقت جبرائیل علیہ السلام نے آواز دی اور لوگوں کو امام کی جانب دعوت دی، بہت سے لوگ مکہ کی جانب چل دیئے انہیں مکہ کی جانب دعوت دی گئی ہے اور ان کی ذمہ داری ہے کہ امام کے ساتھ ملحق ہوں۔(9)
کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ پرندے کس طرح اپنے گھونسلوں میں پناہ لیتے ہیں؟
یہ لوگ بھی اسی طرح مکہ کی جانب روانہ ہوتے ہیں اور امام کی خدمت میں حقیقی آرام پاتے ہیں۔ (10)

خدا کا ارادہ یہ ہے کہ امام اس دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ سے خارج ہوں۔ (11)
اگر مکہ سے نکلیں تو دیکھیں گے کہ شیعہ کس شوق کے ساتھ مکہ کی جانب بڑھ رہے ہیں جیسے کوئی مقابلہ منعقد ہو رہا ہو کہ کون سب سے پہلے امام کی خدمت میں حاضر ہو گا۔(12)
یہ وہ شوق ہے کہ جو خداوند عالم نے شیعوں کے دل میں رکھا ہے کہ انہیں اس طرح بے قرار رکھا ہے۔ (13)
وہ مقدس عشق کے ساتھ بیابانوں کو گزارتے ہوئے راہ امام میں تمام سختیوں کو برداشت کر رہے ہیں۔ (14)
آپ خود جانتے ہیں کہ تین سو تیرہ افراد کس طرح مکہ میں داخل ہوئے وہ طی الارض کے ذریعہ مکہ میں داخل ہوئے اس لئے کہ وہ کمانڈر ہیں اور مستقبل قریب میں پوری دنیا میں امام کے نمائندے ہوں گے۔ (15)
لیکن یہ دس ہزار لوگ امام زمانہ علیه السلام کا لشکر ہیں وہ قائم آل محمد کی مدد کے لئے آ رہے ہیں۔


ناصرین امام علیه السلام:
آہستہ آہستہ دس ہزار لشکر کی تعداد پوری ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت مہربان ہیں گویا کہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ (16)
اے میرے ہمسفر! کیا اجازت دیں گے کہ ان افراد کی خصوصیات کے بارے میں بات کریں؟
وہ امام کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں اور امام کی بات کو جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔(17)
بہادر اور نڈر لوگ ہیں ان کے دل میں ذرہ برابر خوف نہیں جی ہاں! امام کو بھی بہادر اور یقین کامل والے افراد کی ضرورت ہے کمزور دل اور سست عقیدہ والے لوگ اس راستہ پر نہیں چل سکتے؟
لشکر امام کے افراد کا عقیدہ اور ایمان اتنا مضبوط ہے کہ شیطان انہیں گمراہ نہیں کر سکتا یہ پختہ ایمان والے شہر میں جو حق و حقیقت کے ساتھ ہیں۔ (18)
اگر رات کو ان کے پاس جائیں ،تو دیکھیں گے وہ عبادت میں مصروف ہیں ان کے گریہ و مناجات کی آوازیں سنائی دیتی ہیں دن میں بہادر شیروں کی طرح میدان میں آتے ہیں اور انہیں کسی چیز کا نہ کوئی خوف ہے نہ ڈر۔

شہادت کی دعا کرتے ہیں ان کی خواہش یہ ہے کہ امام کی رکاب میں شہید ہوں جی ہاں! اس سے بڑھ کر کیا سعادت ہے کہ انسان اپنی جان امام پر قربان کر دے۔ (19)
کیا اس فانی دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی خواہش ہو سکتی ہے؟
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ خواہش ہے۔
یقینا انسان کی زندگی ان اہداف کے ساتھ کتنی لذت بخش ہو جاتی ہے۔
بہر حال اصحاب امام ، امام کے گرد جمع ہیں اور سخت ترین شرائط میں امام کے ساتھ ہیں۔ (20)
کافی ہے کہ امام انہیں حکم دیں اس وقت دیکھیں کہ یہ کس طرح حکم امام پہ عمل کرتے ہیں۔ (21)
خدا نے انہیں اچھی جسمانی طاقت دی ہے کہ اپنے امام کا دفاع کر سکیں۔ (22)
جب وہ کسی سر زمین سے گزرتے ہیں تو وہ زمین دوسری زمینوں پر فخر کرتی ہے کہ صحابی امام اس پر سے گزرا ہے۔ (23)
تمام مخلوقات اصحاب امام کی فرمانبردار ی کرتی ہیں حتیٰ کہ پرندے اور وحشی جانور بھی۔ (24)
_______________________________________

منابع:
1۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "ینادی مناد من السماء أوّل النهار یسمعه کلّ قوم... فیثبّت الله الذین آمنوابالقول الثابت علی الحقّ ، وهو النداء الأوّل؟: الغیبه للنعمانی ص 268۔
2۔ ابن عبّاس: «فإذا أتوا البیداء، فنزلوها فی لیله مقمره»: کتاب الفتن للمروزی ص 202.
3۔ الإمام الصادق(علیه السلام): "فیقول الرجل:... نرید إخراب البیت وقتل أهله": بحار الأنوار ج 3 ص 10۔
4۔ "البیداء: اسم لأرض ملساء بین مکّه والمدینه، بطرف المیقات المدنی الذی یُقال له ذو الحلیفه": معجم البلدان ج 1 ص 523، تاج العروس ج 4 ص 368. عن الإمام الصادق(علیه السلام): "فیقول الرجل: عددنا ثلاثمئه ألف رجل نرید إخراج البیت وقتل أهله": بحار الأنوار ج 53 ص 10.
5۔ یا سیّدی، أنا بشیر، أمرنی ملک من الملائکه أن ألحق بک...: مختصر بصائر الدرجات ص 182، بحار الأنوار ج 53 ص 6.
6۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "فینادی مناد من السماء: یا بیداء أبیدی القوم ، فیخسف بهم البیداء...»: الاختصاص ص 256، تفسیر العیّاشی ج 1 ص 245.
7۔ الإمام الصادق (علیه السلام): «فیقول الرجل:... فلمّا صرنا فی البیداء عرسنا فیها ، فصاح بنا صائح: یابیداء أبیدی القوم الظالمین ، فانفجرت الأرض وابتلعت کلّ الجیش ، فإذا نحن بملک قد ضرب وجوهنا فصارت إلی وراءنا کما تری ، فقال لأخی: ویلک یا نذیر، امضِ إلی الملعون السفیانی... وقال لی: یا بشیر الحق بالمهدی بمکّه وبشّره بهلاک الظالمین...": مختصر بصائر الدرجات ص 182، بحار الأنوار ج 53 ص 6.
8۔ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): «بعث الله سبحانه جبرئیل فیقول: یا جبرئیل اذهب فأبدهم...»: تفسیر الثعلبی ج 8 ص 95، تفسیر القرطبی ج 14 ص 315۔
9۔ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): "لیؤمن هذا البیت جیش یغزونه، حتّی إذا کانوا ببیداء من الأرض یُخسف بأوسطهم...": صحیح مسلم ج 8، 167، سنن ابن ماجه ج 2 ص 1350، سنن النسائی ج 5 ص 207، المستدرک للحاکم ج 4 ص 429، السنن الکبری ج 2 ص 385، المعجم الکبیر ج 24 ص 75، الجامع الصغیر ج 2 ص 445، التاریخ الکبیر ج 5 ص 119۔
10۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "یصبح أحدکم و تحت رأسه صحیفه علیها مکتوب: طاعه معروفه": کمال الدین ص 654، بحار الأنوار ج 52 ص 305۔ عن رسول الله(صلی الله علیه وآله وسلم): "إذا کان عن خروج القائم ینادی مناد من السماء... فالحقوا بمکّه": الاختصاص ص 208، بحار الأنوار ج 52 ص 304۔
11۔ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): "تؤوب إلیه أُمّتی کما تؤوب الطیر إلی أوکارها": دلائل الإمامه ص 445، الدرّ النظیم ص 799۔
12۔ الإمام الصادق(علیه السلام): "ومایخرج إلاّ فی أولی قوّه، وما یکون أولو قوّه إلاّ عشره آلاف...": کمال الدین ص 654، التفسیر الصافی ج 4 ص 65، بحار الأنوار ج 52 ص 323۔
13۔ "و یتسارع الناس إلیه من کلّ وجه، ویملأ الأرض عدلاً": الملاحم والفتن ص 140، کتاب الفتن للمروزی ص 217۔
14۔ یقذف الله محبّته فی قلوب الناس فیسیر...»: کتاب الفتن للمروزی ص 217.
15۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "یا سدیر، الزم بیتک وکن حِلساً من أحلاسه، واسکن ما سکن اللیل والنهار، فإذا بلغک أنّ السفیانی قد خرج فارحل إلینا ولو علی رجلک؎: الکافی ج 8 ص 265، بحار الأنوار ج 52 ص 271
16۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "هم النجباء والفقهاء ، وهم الحکّام ، وهم القضاه»: دلائل الإمامه ص 562، الملاحم والفتن ص 380.
17۔ وإنّ أصحاب القائم یلقی بعضهم بعضا کأنّهم بنو أب وأُمٍّ": دلائل الإمامه ص 562، الملاحم والفتن ص 380.
18۔ الإمام الصادق(علیه السلام): "هم أطوع له من الأمه لسیّدها...": بحار الأنوار ج 52 ص 307۔
19۔ الإمام الصادق(علیه السلام): «رجال کأنّ قلبوهم زبر الحدید لا یشوبها شکّ فی ذات الله ، أشدّ من الحجر...»: بحار الأنوار ج 52 ص 308.
20۔ الإمام الصادق(علیه السلام): «... رهبان باللیل لیوث بالنهار... یدعون بالشهاده ویتمنّون أن یُقتلوا فی سبیل الله...»: بحار الأنوار ج 52 ص 308، مستدرک الوسائل ج 11 ص 114۔
21۔ الإمام الصادق(علیه السلام): «... ویحفّون به، یقونه بأنفسهم فی الحرب...»: بحار الأنوار ج 52 ص 308.
22۔ رسول الله(صلی الله علیه وآله وسلم): «کدّادون مجدّون فی طاعته...»: عیون أخبار الرضا ج 2 ص 64۔
23۔ الإمام الباقر(علیه السلام): "وجعل قوّه الرجل منهم قوّه أربعین رجلاً...": الکافی ج 8 ص 294، الخصال ص 541، شرح الأخبار ج 3 ص 569، مشکاه الأنوار ص 151۔
24۔ الإمام الباقر(علیه السلام): "حتّی تفخر الأرض علی الأرض وتقول: مرّ بی الیوم رجل من أصحاب القائم...": الإمامه والتبصره ص 131، کمال الدین ص 673
خبر کا کوڈ : 804351
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب