0
Friday 12 Jul 2019 07:55

میڈیا وار اور امریکہ

میڈیا وار اور امریکہ
اداریہ

ذرائع ابلاغ کے مثبت اور منفی کردار سے آج کون آگاہ نہیں۔ دنیا کے کئی ملکوں میں میڈیا حکومتیں تبدیل کرنے میں موثر کردار کا حامل بن چکا ہے۔ رسائل، جرائد، ڈائجسٹ، ناول، اخبارات، اشتہارات، سائن بورڈز، ریڈیو، ٹی وی، کیبل نیٹ ورک، انٹرنیٹ، ٹیلیفون، موبائل فون وغیرہ، یہ سب ذرائع اور آلات سمجھے جاتے ہیں، لیکن پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا نے سب کی جگہ لے لی ہے۔ آج کا دور میڈیا کا دور ہے اور میڈیا کو کسی ملک، سلطنت اور حکومت کا اہم ستون قرار دیا جاتا ہے۔ اب تو حکومتوں کے بننے اور بگڑنے میں میڈیا کا اہم رول اور بڑا کردار تصور کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ میڈیا جس کو چاہے بامِ عروج تک پہنچا دے اور جسے چاہے بیچ چوراہے کے ذلیل و رسوا کردے۔ بین الاقوامی طور پر اس وقت پورے میڈیا پر مغرب بالخصوص صیہونی میڈیا کا تسلط اور اس کے کارندوں کا قبضہ ہے۔ یہ لوگ میڈیا کے ذریعے وہی پروگرام نشر کرتے ہیں، جو حیا سوز، تہذیب و تمدن کو پامال اور بے ایمانی اور بے راہ روی کو فروغ دینے اور پروان چڑھانے والے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانیت کو ذہنی غلامی، ڈر، خوف، بزدلی، بے ہمتی، بے غیرتی، بے شرمی، جھوٹ، فریب، لوٹ کھسوٹ، چوری، ڈکیتی، مار دھاڑ کے نت نئے طریقے اور راستے میڈیا کے ذریعے بتائے اور یہ زہریلے انجکشن اُنہیں اِسی کے ذریعے لگائے جاتے ہیں۔

یہ میڈیا کی اس محنت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہر انسان مرد ہو یا زن، جوان ہو یا بوڑھا، چھوٹا ہو یا بڑا، سب ہی کسی نہ کسی اعتبار سے میڈیا سے متأثر اور مرعوب نظر آتے ہیں۔ آج میڈیا کو جہاں کلچر کی تباہی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، وہاں اس سے سیاسی مقاصد بھی حاصل کئے جاتے ہیں اور اس حوالے سے صیہونی لابی کا کردار سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ دنیا بھر میں موجود صیہونی لابی اپنے محصوص انداز سے عالمی میڈیا پر قابض ہے۔ امریکہ کے اندر بھی یہ لابی اتنی قوی ہے کہ وائٹ ہاوس کی انتظامیہ بھی اسکے سامنے سربسجود رہتی ہے۔ ایران کے خلاف عالمی سطح پر ماحول بنانے میں صیہونی عالمی میڈیا کا خصوصی کردار ہے۔ اسی لابی کے اشارے پر امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف میڈیا وار کا ایک وسیع جال بچھایا ہوا ہے، لیکن حال ہی میں برطانوی میڈیا نے ایک خبر لیک کی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس متنازعہ پروجیکٹ سے جس کے تحت ٹرمپ کی ایران مخالف پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، سے اپنی حمایت واپس لے رہی ہے۔

رواں سال کے آغاز میں ایک رپورٹ جاری ہوئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی وزارت خارجہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کے لئے ایران ڈس انفارمیشن پروجیکٹ کا استعمال کر رہی ہے۔ خبروں کے مطابق ایران کے خلاف یہ کمپیئن دو ہزار اٹھارہ کے موسم گرما میں شروع ہوئی تھی، جس میں ٹرامپ کی ایران مخالف پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کی امریکا کے مختلف حلقوں میں شدید مذمت کی جا رہی تھی اور امریکی رائے عامہ سخت برہم تھی، چنانچہ اب امریکی وزارت خارجہ نے اس کمپیئن کے لئے اپنا بجٹ روک دیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد ایران مخالف پابندیوں پر تنقید کرنے والوں کی شخصیت کو خراب کرنا تھا۔ اس خبر کی حقیقت اور اس کے اثرات پر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے مسلسل جھوٹوں نے امریکی میڈیا کی ساکھ کو پہلے سے زیادہ خراب کر دیا ہے، اگر وہ ٹرامپ کی بات مانیں تو عوام اس پر تنقید کرتی ہے اور اگر حقیقت لکھیں تو ٹرامپ کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے ہیں، شاید اسی لئے میڈیا کے حوالے سے انہوں نے ایران کے خلاف پروپیگنڈے کا انداز بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 804658
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب