0
Thursday 11 Jul 2019 22:56

یہ معاملہ کوئی اور ہے

یہ معاملہ کوئی اور ہے
تحریر: اسماء طارق، گجرات
 
بنانے والی ذات ایک، سب کے خون کا رنگ لال، سب کے دل کے چار خانے، سب کو سانسں لینے کے لیے ہوا درکار ہے، مگر ایک دوسرے سے فاصلہ اتنا ہے کہ ساتھ بیٹھ کر بھی صدیوں پر محیط۔ ہم سب آجکل عجیب سی حالت میں ہیں، جہاں ہمیں اپنی ذات تو درست لگتی ہے، مگر دوسرا اتنا غلط کہ ہم ایک پل کے لیے نہیں سوچتے اور اسے غلط ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں۔ بس اس کی رائے ہماری رائے سے اور اس کا عقیدہ ہمارے عقیدے سے الگ نکلے سہی۔ ہم نے اپنے اپنے نظریات کی عینک چڑھائی ہوئی ہے اور پھر ہم سب کو اسی عینک سے دیکھتے ہیں۔ اب اگر کوئی اس عینک میں فٹ نہیں آتا تو ہم اسے جہنم واصل کر دیتے ہیں، کیونکہ اس معاشرے میں کسی ایسے فرد کو زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، جس کا عقیدہ یا نظریہ ہمارے جیسا نہیں ہے۔ شدت پسندی ہمارا خاصہ بن گئی ہے، جس نے ہمارے دلوں کو تنگ کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے علاوہ کسی کی کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ عدم برداشت ہم میں بہت بڑھ گئی ہے، جو انتشار پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔
 
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اسلام کا سب سے پہلا سبق انسانیت کا ہے اور اس سے منافی ہر قانون کی اسلام مذمت کرتا ہے۔ جب اللہ ایک، قرآن ایک، رسول ایک تو پھر ان کے ماننے والے ایک دوسرے کے دشمن کیسے ہوسکتے ہیں۔ بقول شاعر 
نہ میرا خدا کوئی اور ہے نہ تیرا خدا کوئی اور ہے
یہ جو راستے ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے
ہم سب نے اپنے فرقے بنا رکھے ہیں، حتیٰ کہ ان فرقوں کے بھی فرقے اور جو انہیں نہ مانے ہم اسے مانتے نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے مسلمان ہونے کے لئے صرف یہی فرقہ وارانہ اصول رکھ چھوڑے ہیں اور باقی اخلاق و آداب، حسن سلوک کو ذاتی معاملے پر چھوڑ دیا ہے، اسی لیے اس کا پرچار  بھی بہت کم ہے، حالانکہ اگر ہم سمجھیں تو یہی وہ بنیادی عقائد جو مسلمان کے لئے ضروری ہیں۔ فرقہ تو سب کا ذاتی مسئلہ ہے، جو عالمی اخوت کے سامنے اہمیت کا حامل نہیں ہوتا، جس کے سامنے سب مسلمان ہیں، جن کا رب ایک ہے اور وہ چاہے کسی بھی فرقے یا خطے سے تعلق رکھتے ہوں، سب بھائی بھائی ہیں۔
 
یہ بات افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے کہ ہمارے ہاں فرقہ وارانہ فسادات قوموں اور نسلوں کے قاتل ہیں، جو آئے دن بڑھ رہے ہیں اور انسانیت کو شرمسار کر رہے ہیں۔ عجیب بات ہے، ہم نے آج تک کسی اچھے مسلمان کو کافر کو بھی کافر کہتے نہیں سنا، وہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی انسانیت کو مدنظر رکھتا ہے اور ہم لوگ جن کو اپنے ایمان کی خبر نہیں، وہ دوسروں کا ایمان جانچتے رہتے ہیں۔ غیر مسلم چھوڑیئے، ہم تو اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو نہیں بخشتے۔ ہم اگر سوچیں تو کیا یہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں  ہے۔ خدا را مسلمان صرف خلیے ہی کا نام نہیں ہے، اس میں اخلاقی، سماجی اور معاشرتی ہر طرح کے رویوں کو اسلام کے مطابق ڈھالنے والا مسلمان ہونا ہے۔ ایک اللہ اور ایک رسول کے ماننے والوں کو اس طرح کے تفرقات رکھنا زیب نہیں دیتا۔ اللہ تعالٰی ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کے عقیدے کا بھی احترام کریں اور اس سے محبت کا رویہ رکھیں، تاکہ ہمارا ملک امن کا گہوارہ بن جائے۔ ہمیں محبت اور امن کے پیغام کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے اور ہمیں اپنے اندر برداشت کو بڑھانا ہوگا، تب ہی امن کی فضا قائم ہوسکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 804721
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب