4
Sunday 14 Jul 2019 15:03

اینگلو امریکن اتحاد کا آپریشن جبرالٹر بھی ناکام!

اینگلو امریکن اتحاد کا آپریشن جبرالٹر بھی ناکام!
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
اینگلو امریکن اتحاد سے مراد برطانوی اور امریکی سامراجی اتحاد ہے اور بین الاقوامی سیاست میں بارہا اس اتحاد کی غیر قانونی سرگرمیاں بے نقاب ہوتی رہی ہیں۔ اس اتحاد کی تازہ ترین غیر قانونی سرگرمی جبرالٹر کے علاقے میں ایران کے خلاف سامنے آئی۔ جمعرات چار جولائی علی الصبح برطانیہ کی شاہی بحریہ (رائل نیوی) نے ایران کے تیل بردار بحری جہاز (آئل ٹینکر) کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ چار جولائی یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کا یوم آزادی ہے اور تین یا چار جولائی 1988ء کو امریکا نے ایران کے مسافر بردار طیارے کو خلیج فارس میں ایرانی فضائی حدود میں مار گرایا تھا۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ اس طیارے میں سوار سارے مسافر شہید ہوئے تھے۔ البتہ اس مرتبہ امریکی مخبری پر برطانیہ نے چار جولائی کو یہ کارروائی کی۔

جبرالٹر کے وزیراعلیٰ فابیئن پکارڈو کے مطابق ایرانی گریس ون سپر ٹینکر کو اس لئے تحویل میں لیا گیا ہے کہ وہ خام تیل لے کر شام کی بنیاس آئل ریفائنری جا رہا تھا، جس پر یورپی یونین کی پابندی عائد ہے۔ یاد رہے کہ یورپی یونین نے شامی حکومت اور اداروں پر سال 2011ء سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ البتہ اسپین کے قائم مقام وزیر خارجہ جوزف بوریل کا کہنا ہے کہ امریکا کے کہنے پر برطانوی رائل نیوی نے ایرانی تیل بردار جہاز پر قبضہ کیا ہے۔ البتہ یورپی ملک سوئیڈن کے سابق وزیراعظم، سابق وزیر خارجہ، بین الاقوامی شہرت یافتہ سفارتکار کارل بلٹ کو برطانوی موقف میں سازش چھپی نظر آرہی ہے۔ سات جولائی 2019ء کو انہوں نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر رائے دی کہ
The legalities of the UK seizure of a tanker heading for Syria with oil from Iran intrigues me. One refers to EU sanctions against Syria, but Iran is not a member of EU. And EU as a principle doesn’t impose its sanctions on others. That’s what the US does.

کارل بلٹ کی رائے کا جائزہ ان حقائق کی روشنی میں لیا جانا چاہیئے کہ جبرالٹر ایک متنازعہ ساحلی جزیرہ ہے۔ یہ اسپین (ہسپانیہ) کا علاقہ ہے، جو مسلمان جرنیل طارق بن زیاد نے فتح کیا تھا، اسی مناسبت سے اسلامی تاریخ میں ہسپانیہ کو اندلس بھی کہا جاتا ہے اور اس علاقے جبرالٹر کو مسلمان و عرب جبل الطارق بھی کہتے ہیں۔ یہ اسپین کے جنوبی ساحل پر واقع ہے۔ آبنائے جبل الطارق بحیرہ روم (بحر متوسط یا میدیترانین سمندر) کو بحر اوقیانوس سے ملاتی ہے۔ جس طرح خلیج فارس میں ایک طرف ایران ہے اور سمندر کے دوسری طرف خلیجی عرب ممالک واقع ہیں، اسی طرح اسپین کے سامنے جو سمندر ہے، اس کے دوسری طرف مراکش ہے، مراکش کے ساتھ الجزائر، اس کے ساتھ تیونس، اس کے ساتھ لیبیا ہے۔ یعنی یہ جبرالٹر یا جبل الطارق کے سامنے سمندر کے دوسرے کنارے پر مراکش نامی عرب مسلمان ملک واقع ہے اور جبرالٹر کا شام کے ساحلی شہر بنیاس سے سمندری فاصلہ کم از کم نو سے دس دن تک طے کیا جاسکتا ہے، کیونکہ دو ہزار ناٹیکل میل سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔

ایران کے تیل بردار بحری جہاز کو جبرالٹر میں پکڑنے کے پیچھے ایک گہری سازش تھی، جس کے ذریعے اینگلو امریکن اتحاد بیک وقت ایک سے زائد اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسپین حکومت کے مطابق جبرالٹر اس کا حصہ ہے، جغرافیائی لحاظ سے اسی کے ساتھ ہے اور برطانیہ اٹھارہویں صدی کے دوسرے عشرے میں یہاں قابض ہوا تھا۔ برطانوی حکومت اس کو اوورسیز علاقہ کہتی ہے، پہلے اسے کراؤن کالونی کہا جاتا تھا۔ اب جب بریگزٹ کے ذریعے برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو رہا ہے تو جبرالٹر پر برطانیہ کا قبضہ ختم ہونے کا امکان ہے، کیونکہ یورپی یونین کے رکن ملک اسپین اور برطانیہ کے مابین یہ تنازعہ بھی حل کئے جانے کا امکان ہے۔ یورپ میں جبرالٹر کو برطانوی کالونی یعنی نوآبادی کہا جا رہا ہے، یعنی جیسے برطانیہ نے غیر منقسم ہند پر قبضہ کرکے اسے اپنی کالونی یا نو آبادی بنا دیا تھا، جبرالٹر کی حیثیت بھی اسی نوعیت کی ہے۔

اینگلو امریکن مشترکہ سازش سمجھنے کے لئے یہ نکتہ بھی یاد رکھیں کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ ای تھری یعنی یورپ کے تین ممالک کی حیثیت سے ایران نیوکلیئر ڈیل میں فریق کی حیثیت سے شامل ہے اور فریق کی حیثیت سے اس معاہدے میں برطانیہ اور دیگر دو یورپی ممالک بھی اپنے حصے کی ذمے داری کی ادائیگی کے پابند ہیں۔ امریکا کی اس ڈیل سے دستبرداری کے بعد وہ دونوں طرف سے دباؤ میں ہیں۔ امریکا کو ناراض کرتے ہیں تو نیٹو اتحاد سمیت پورا عالمی نظام جس میں مغربی بلاک حاوی ہے، اس کی حیثیت کمزور ہوتی ہے اور اگر ایران انکی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر ردعمل دکھاتے ہوئے نیوکلیئر ڈیل پر اپنے حصے کے کام کو انجام دینے سے معذرت کر لیتا ہے تو اس خطے میں مغربی بلاک کے سہولت کار حکمران اور خاص طور پر جعلی ریاست اسرائیل واویلا مچاتے ہیں۔

پھر ٹائمنگ بھی ایک اہم فیکٹر ہے۔ ہر سال تین یا چار جولائی کو دنیا بھر میں ایرانی مسافر بردار طیارے کے شہیدوں کی یاد منانے سے امریکا کا وحشی چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔ اس لئے اسی دن امریکا کے کہنے پر برطانوی بحریہ نے ایران کے تیل بردار بحری جہاز کو جبرالٹر میں پکڑا اور یورپی یونین کی پابندیوں کو جواز کے طور پر پیش کیا، جبکہ قانونی لحاظ سے یورپی یونین کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ بین الاقوامی سمندر میں کسی بھی جہاز کو صرف اس وجہ سے پکڑ لے کہ وہ خام تیل لے کر ایسے ملک جا رہا ہے، جس پر یورپی یونین کی پابندی ہے۔ دنیا میں صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کی بائنڈنگ پابندیوں کے تحت ایسا کیا جاسکتا ہے۔ ایران کے خام تیل کی فروخت پر اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل نے ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔

ویسے تو پورے یورپ میں بحیثیت یورپی یونین بھی اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ امریکا کی حکم عدولی کرسکے, لیکن تاحال برطانیہ اور فرانس ہی ٹرمپ حکومت کے زیادہ وفادار اور فعال سہولت کار بنے نظر آرہے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے انکے تین بڑے ممالک یعنی برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ای تھری کے عنوان سے ایران نیوکلیئر ڈیل یا مشترکہ جامع منصوبہ عمل (جے سی پی او) پر دستخط کئے ہیں۔ ان کے ساتھ دیگر تھری یعنی تین ممالک میں روس اور چین تاحال اس معاہدے کے فریق ہیں جبکہ صرف امریکا یکطرفہ دستبردار ہوا ہے۔ اس لئے برطانیہ جاتے جاتے بھی یورپی یونین کو ایران کے خلاف فریق بنانے کی امریکی سازش میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ لہٰذا برطانیہ نے ایک کوشش کی ہے کہ نیوکلیئر ڈیل پر جو دباؤ اس پر اور دیگر دو یورپی ممالک پر ہے, اس کو ختم کرکے ایران پر یورپی دباؤ ڈالے کہ وہ یکطرفہ طور پر نیوکلیئر ڈیل پر کاربند رہے۔ یعنی ایران کو نیوکلیئر ڈیل کے تحت کوئی ریلیف نہ دیا جائے, تاکہ امریکی اسرائیلی بلاک بھی راضی رہے، یہ اس سارے منصوبہ کا بنیادی ہدف ہے۔

لیکن ایران نے برطانوی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ نیوکلیئر ڈیل پر دیگر فریق اگر اپنے حصے کی ذمے داری انجام نہیں دیں گے تو ایران بھی جزوی طور پر اپنے حصے کی ذمے داری کی انجام دہی کا پابند نہیں رہے گا، یعنی ڈیل پر یکطرفہ عمل نہیں کرے گا۔ اب اینگلو امریکن اتحاد جھوٹی خبروں کے ذریعے ایران کی ناکامی ظاہر کرنا چاہ رہا ہے، جبکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ تاحال انہوں نے برطانیہ کے کسی جہاز کو خلیج فارس میں تو روکنے کی کوشش نہیں کی، البتہ وہ جب چاہیں ایسا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اصل میں ایران نے امریکا کے ڈرون طیارے کو ایرانی حدود میں مار گرا کر برطانیہ سمیت دنیا پر یہ حقیقت پہلے ہی ظاہر کر دی ہے کہ وہ کس حد تک جاسکتا ہے۔ برطانیہ بے چارہ تو نہر سوئز کے بحران میں جمال عبدالناصر کے مصر سے ہی شکست کھا چکا تھا، تبھی تو اس کی سپرپاور حیثیت کا خاتمہ ہوا تھا اور امریکا نے اس خطے میں اپنی بالادستی کا باقاعدہ آغاز کیا تھا اور اب یہ دونوں مل کر بھی ایران کو جھکانے میں ناکام رہے ہیں۔ البتہ اس پورے قضیے کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ طول تاریخ میں برطانیہ کی شہرت بحری قزاق کے عنوان سے رہی ہے، میں نے سنا ہے کہ ہر شے اپنی اصل پر پلٹتی ہے، برطانیہ نے ایران کے خلاف بحری قزاقی کرکے اپنی اصلیت ظاہر کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 805024
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے