0
Sunday 14 Jul 2019 07:58

داستان ظہور (11، 12)

داستان ظہور (11، 12)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی

نہ جلنے والا لباس اور حیرت انگیز عصا
اب امام کے تمام اصحاب مکہ جمع ہو گئے ہیں وہ آئے ہیں تاکہ امام پر اپنی جان قربان کریں۔
امام جنگی لباس پہن کر مدینہ کی جانب روانگی کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ امام کا جنگی لباس وہی حضرت یوسف کی قمیض ہے؟
ارے امام نے یہ لباس کیوں پہنا ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ امام کا یہ لباس کوئی معمولی لباس نہیں ہے بلکہ یہ وہ لباس ہے جیسے آگ نہیں لگ سکتی۔(1)
تعجب نہ کریں آئیں آپ کو تاریخی واقعہ سناتا ہوں۔
حضرت یوسف کی قمیض دراصل حضرت ابراہیم کی قمیض تھی۔
جب نمرود نے چاہا تھا کہ خدا پرستی کے جرم میں حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالے، حضرت جبرائیل علیہ السلام زمین پر آئے تاکہ توحید کے پرچمدار کی مدد کریں، وہ جنت سے ان کے لئے لباس لائے۔ جس کی وجہ سے آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نہ جلا سکی۔ (2)
پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ لباس ان کی اولاد کو وراثت میں ملا اور حضرت یوسف تک پہنچ گیا اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کی روشنی کا باعث بنا۔
یہ لباس نسل بہ نسل ہوتا ہوا پیغمبر اسلام تک پہنچا اور پھر بعد میں آئمہ معصومین علیہم السلام کو ایک دوسرے سے وراثت میں ملا۔ (3)
اب واضح ہوا کہ کیوں خدا نے اس لباس کو امام زمانہ علیه السلام تک محفوظ رکھا؟

اے میرے ہمسفر! کیا اس زمانہ میں نمرود کی آگ کوئی معمولی آگ تھی؟
اس آگ کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے۔
نمرود نے اس آگ کو جلانے کے لئے اپنے تمام امکانات سے استفادہ کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس کے درمیان پھینک دیا؛ لیکن خدا نے اپنے نبی کو اس لباس کے ذریعہ بچایا اور آج وہ لباس امام کے پاس ہے۔
امام روانہ ہونے کے لئے تیار ہو گئے، میں دیکھ رہا تھا کہ امام کس اسلحہ کو دشمنوں کے ساتھ جنگ کے لئے اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
امام کے پاس اسلحہ کی بجائے ایک چھڑی ہے!
میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ اس فوج کے کمانڈر نے اپنے ساتھ اس لکڑی کی چھڑی کو کیوں رکھا ہے؟
آخر آج کی جنگ تو توپ ٹینک جہاز اور میزائل کی ہے، جتنا بھی سوچتا ہوں جواب نہیں ملتا، اسی لئے امام کے ایک صحابی سے پوچھتا ہوں امام نے اسلحہ کی جگہ اس چھڑی کو کیوں اٹھا رکھا ہے؟
وہ مجھے جواب دیتا ہے کہ امام کے ہاتھ میں جو چھڑی ہے یہ وہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہے۔ (4)
باوجود کہ یہ چھڑی ہزاروں سال قبل ایک درخت سے توڑی گئی تھی لیکن ابھی تک تر و تازہ ہے جیسا کہ ابھی درخت سے کاٹی گئی ہو۔ (5)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں لوگ جادو میں زیادہ مہارت رکھتے تھے ۔
آج کی اصطلاح میں وہ سحر و جادوگری کا دور تھا لیکن جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنی چھڑی کو پھینکا تو وہ ایک اژدھا بن گئی اور ان کے تمام سانپوں کو نگل لیا۔
آج انسان جتنی مرضی ترقی کرے امام زمانہ علیه السلام اسی چھڑی سے دشمن کا مقابلہ کریں گے۔
یہ عصا بھی تعجب خیز ہے امام اس کے ساتھ جو حکم دیں گے وہ انجام پائے گا۔
ابھی پتہ چلا کہ یہ عصا جو امام کے پاس ہے یہ امام کے ساتھ باتیں بھی کرتی ہے۔ (6)

جی ہاں! اب تک انسان نے جو کچھ بنایا ہے ٹینک، توپ، جہاز، میزائل کافی ہے کہ امام اس کو حکم دے اور ان تمام چیزوں کو کنٹرول کرلے۔ (7)
قرآن نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے عصا کے بارے میں بات کی ہے کہ اس عصا پر جادو و سحر کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ اس نکتہ کو تو قبول کرتے ہیں کہ قرآن جو بات کہتا ہے وہ ذہن سے دور نہ ہو گی، پس اس عصا سے بھی ٹینک، توپ، میزائل اور جہاز کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
اس زمانہ میں ہنر جادو تھا آج جو کچھ بھی ہے خدا کے حکم سے اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
کیا جانتے ہیں کہ جب امام اس عصا کو زمین پر پھینکیں گے وہ عصا کس چیز میں تبدیل ہو جائے گی؟
میں نہیں جانتا کہ کونسے لفظ کا استعمال کروں؟
کیا کہہ سکتا ہوں کہ وہ کس پڑے اژدھا میں تبدیل ہو جائے گی؟
ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ نہ کہہ دیں مصنف نے بھی کیا عجیب و غریب باتیں شروع کر دی ہیں۔ میں واقعتا نہیں جانتا کہ کیا کہوں؟
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے زبان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔
آپ تو ان کی بات کو قبول کرتے ہیں آپ نے فرمایا: " جب ہمارے قائم اس عصا کو زمین پہ ماریں گے وہ زمین کو چیر دے گی اور بہت بڑا گڑھا جس کا فاصلہ زمین و آسمان تک ہو گا نمودار ہو گا جو کوئی اس کے مقابلہ میں ہو گا اس میں گر جائے گا۔ (8)
یقینا خدا کس حکمت کے ساتھ اس عصا کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور پھر اپنے آخری ولی کی مدد کرے گا۔(9)


ہزاروں فرشتوں کا مدد کے لیے آنا:
دیکھو! اصحاب امام کس نظم و ضبط کے ساتھ کھڑے ہیں اور منتظر ہیں کہ انہیں روانگی کا حکم دیا جائے اس جوان کو دیکھ رہے ہیں کہ جو لشکر سے آگے نورانی پرچم کو اٹھائے کھڑا ہے؟
کیا اسے جانتے ہیں؟
وہ شعیب بن صالح اس عظیم لشکر کے علمدار ہیں۔ (10)
ان کے ہاتھ میں جو یہ پرچم ہے کیا اس پرچم کو پہچانتے ہو؟ 
یہ وہی پرچم ہے جسے حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم جنگ بدر میں لائے تھے۔ (11)
کیا جانتے ہو کہ یہ پرچم صرف دو مرتبہ استعمال ہوا ہے؟
پہلی مرتبہ جب جبرائیل علیہ السلام اس پرچم کو حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے لئے لائے اور انہوں نے جنگ بدر میں اس کو کھولا اور لشکر اسلام کو کامیابی نصیب ہوئی۔
حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے اس پرچم کو سمیٹ کر رکھ دیا تھا اور کسی بھی جنگ میں نہ کھولا اور پھر حضرت امام علی علیہ السلام کے حوالہ کر دیا انہوں نے بھی اس پرچم کو صرف جنگ جمل میں کھولا اور پھر کبھی استعمال نہ کیا۔ (12)

کیا جانتے ہیں کہ یہ پرچم دنیاوی، روئی، پٹ سن اور حریر کا بنا نہیں بلکہ یہ پرچم بہشتی گھاس کا بنا ہوا ہے۔ (13)
یہ پرچم اس قدر نورانی ہے کہ مشرق و مغرب کو روشن کر سکتا ہے۔ (14)
جب یہ پرچم کھولا جائے گا دشمن اس سے خوف و ہراس کھائیں گے اور کوئی اقدام نہ کر سکیں گے۔ (15)
اور دوسری طرف یہ پرچم اصحاب امام کے دلوں میں ایسی شجاعت پیدا کر دے گا کہ ان کے دلوں میں کسی قسم کا خوف ہی نہ رہے گا۔ (16)
مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس پرچم کی لکڑی بھی جنت سے آئی ہے !!جب بھی امام اپنے دشمن کو نابود کرنا چاہیں تو کافی ہے کہ صرف اس پرچم کی طرف اشارہ کریں اور وہ حکم خدا سے ہلاک ہو جائیں۔ (17)
کیا آپ جانتے ہیں کہ جب اس پرچم کو کھولا جائے گا، فرشتوں کے سات دستے امام کی مدد کے لئے آئیں گے.

پہلا دستہ: ان فرشتوں کا جنہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں مدد کی تھی 
دوسرا دستہ: وہ فرشتے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مدد کے لئے آئے تھے۔
تیسرا دستہ: وہ فرشتے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے، جب دریائے نیل حکم خدا سے شق ہوا اور قوم بنی اسرائیل نے عبور کیا۔
چوتھا دستہ: وہ فرشتے جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ساتھ آسمان پہ گئے تھے۔

پانچواں دستہ: وہ چار ہزار فرشتے جو ہمیشہ حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کی رکاب میں رہتے تھے۔
چھٹا دستہ: تین سو تیرہ فرشتے جنہوں نے جنگ بدر میں حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کی مدد کی۔
ساتواں دستہ: وہ فرشتے کہ جو کربلا میں امام حسین کی مدد کے لئے آئے تھے۔

ان تمام فرشتوں کی تعداد تیرہ ہزار تین سو تیرہ ہے کہ جو امام زمانہ علیه السلام کی مدد کے لئے آئیں گے۔ (18)
اگر اس لشکر کے دائیں جانب دیکھیں تو آپ کو جبرائیل علیہ السلام اور بائیں طرف میکائیل علیہ السلام نظر آئیں گے۔ (19)
تمام زمینی و آسمانی طاقتیں آپ کے حکم کے انتظار میں ہیں۔
جب امام کا لشکر روانہ ہو گا دشمنوں کے دل میں عجیب خوف و ہراس ہو گا یہی دلیل ہے کہ یہ لشکر ہمیشہ کامیاب ہو گا۔ (20)
جی ہاں جو لوگ نور خدا کے ساتھ دشمنی کرنا چاہتے ہیں ان کو عجیب خوف محسوس ہو گا،
لیکن جو کئی سالوں سے نور خدا کی جستجو میں ہوں گے ان کے دلوں میں محبت پیدا ہو گی وہ اس آسمانی تحریک سے خوف نہ کھائیں گے بلکہ ہر لمحہ خواہش کریں گے کہ حضرت مہدی کی حکومت تشکیل پائے تاکہ حقیقی عدالت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ (21)

________________________________________
منابع:

1۔ الإمام الباقر(علیه السلام): "لیس من شیء إلاّ وهو مطیع لهم، حتّی سباع الأرض وسباع الطیر...": بحار الأنوار ج 52 ص 673۔
2۔ "إنّ القائم إذا خرج یکون علیه قمیص یوسف...": کمال الدین ص 143، تفسیر نور الثقلین ج 2 ص 464۔
3۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "إنّ إبراهیم لمّا أُوقدت النار، أتاه جبرئیل بثوب من ثیاب الجنّه فألبسه إیّاه، فلم یضرّه معه حرّ ولا برد": بصائر الدرجات ص 209، الکافی ج 1 ص 232۔
4۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "وکلّ نبیّ ورث علماً أو غیره، فقد انتهی إلی محمّد وآله": علل الشرائع ج1 ص 53، کمال الدین ص 142۔
5۔ وإنّ القائم إذا خرج یکون علیه قمیص یوسف ومعه عصا موسی»: کمال الدین ص 143، الغیبه للطوسی ص 266، بحار الأنوار ج 52 ص 12.
6- الإمام الباقر (علیه السلام): "وتصنع ما تؤمر": الاختصاص ص 270، بحار الأنوار ج 26 ص 219۔
7۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "وإنّها لتنطق إذا استنطقت...": الکافی ج 1 ص 231، الاختصاص ص 270، بحار الأنوار ج 26 ص 219۔
8۔ (وَ أَوْحَیْنَآ إِلَی مُوسَی أَنْ أَلْقِ عَصَاکَ فَإِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَأْفِکُونَ): (الأعراف، 117)۔
9- الإمام الباقر (علیه السلام): "۔۔۔۔یفتح له شعبتان، أحداهما فی الأرض والأُخری فی السقف۔۔۔۔۔تلقف مایأفکون بلسانها۔۔۔" :بصائر الدرجات ص 203، الإمامه والتبصره ص 116، بحار الأنوار ج 52 ص 318۔
10۔ الإمام الباقر (علیه السلام): «".. أُعدّت لقائمنا، یصنع بها ما کان یصنع موسی...": بصائر الدرجات ص 203، الإمامه والتبصره ص 116، بحار الأنوار ج 52 ص 318۔
11۔ ثمّ یخرج المهدی علی لوائه شعیب بن صالح»: الغیبه للطوسی ص 463، الملاحم والفتن ص 12۔
12۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "وهی رایه رسول الله نزل بها جبرئیل یوم بدر": الغیبه للنعمانی ص 320، بحار الأنوار ج 19 ص 32۔
13۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "لمّا التقی أمیر المؤمنین(علیه السلام) و أهل البصره، نشر الرایه رایه رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم)، فزلزلت أقدامهم... فلمّا کان یوم صفّین سألوه نشر الرایه فأبی علیهم، فتحمّلوا علیه بالحسن والحسین و عمّار بن یاسر، فقال للحسن: یا بنیّ، إنّ للقوم مدّه یبلغونها، و إنّ هذه الرایه لاینشرها بعدی إلاّ القائم": الغیبه للنعمانی ص 320، بحار الأنوار ج 32 ص 21۔
14۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "ما هی والله قطن ولا کتّان ولا خزّ ولا حریر، قلت: من أیّ شیء؟ قال: منورق الجنّه": الغیبه للنعمانی ص 320بحار الأنوار ج 19 ص 32۔
15۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "ذا نشرها أضاء لها ما بین المشرق والمغرب...": دلائل الإمامه ص 457، بحار الأنوار ج 52 ص 391۔
16۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "یسیر الرعب قدّامها شهراً ووراءها شهراً وعن یمینها شهراً وعن یسارهاشهراً": بحار الأنوار ج 52 ص 360۔
17۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "فإذا هزّها لم یبق مؤمن إلاّ صار قلبه أشدّ من زبر الحدید": الغیبه للنعمانی ص 322۔
18۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "... عمودها من عمد عرش الله و رحمته... لا یهوی إلی شیء إلاّ أهلکه": الغیبه للنعمانی ص 319، بحار الأنوار ج 52 ص 326۔
19۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "وهم الذین کانوا مع نوح فی السفینه، والذین کانوا مع إبراهیم حیث أُلقی فی النار...": الغیبه للنعمانی ص 323۔
20۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "جبرئیل عن یمینه ومیکائیل عن یساره...": الغیبه للنعمانی ص 320۔
21۔ أمیر المؤمنین (علیه السلام): "یسیر الرعب بین یدیه، لا یلقاه عدوّ إلاّ هزمهم...": الملاحم والفتن ص 138، کتاب الفتن للمروزی ص 215۔

 
خبر کا کوڈ : 805061
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش