0
Monday 15 Jul 2019 07:50

ناطقہ سر بہ گریبان ہے

ناطقہ سر بہ گریبان ہے
اداریہ
گذشتہ دنوں امریکہ میں تعینات برطانوی سفیر کم ڈیروش اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے درمیان لفظی جنگ مغربی میڈیا کی دلچسپی کا موضوع بنی رہی۔ اس لفظی جنگ اور اس کے پیچھے محرکات کی تفصیلی رپورٹ تو سامنے نہیں آسکی، لیکن جو خبریں عالمی میڈیا میں سامنے آئیں، اس نے امریکی اور برطانوی چہرے کو مزید آشکار کر دیا ہے۔ آزادی اظہار اور سفارتی استثنیٰ نیز عالمی و جمہوری پروٹوکول سب کے سب دھرے رہ گئے اور امریکی صدر کے اعتراضات اور برطانوی حکومت کے اقدامات نے ڈپلومیسی کے اصولوں کی دھجیاں اڑا دیں۔ شروع میں حکومت برطانیہ نے اپنے سفیر کم ڈیروش کا ساتھ دینے کا اعلان کیا، لیکن برطانوی حکومت بہت جلد ٹرامپ کے دبائو کا شکار ہو کر اپنے سفیر سے استعفیٰ لینے پر مجبور ہوگئی۔ یہ واقعہ مئی 2018ء سے شروع ہوا، جب برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن امریکہ کے دورہ پر آئے اور انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب سے ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان ہونے والے اہم معاہدے کے بارے میں امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ برطانوی وزیر خارجہ کی خواہش تھی کہ عالمی ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایسا راستہ اختیار کیا جائے، جس سے ایران کو بھی فائدہ نہ پہنچے اور یورپ کی بھی عالمی برادری میں ساکھ مزید بلند ہو جائے کہ اس نے سفارتکاری کے ذریعے دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک بہت بڑے بحران کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

دوسری طرف امریکہ اس معاہدے کے اس لیے بھی خلاف تھا کہ ایک تو اس سے ایران کو فائدہ پہنچ سکتا تھا، دوسرا اس کا کریڈٹ امریکہ کی بجائے یورپی یونین کو جا رہا تھا۔ بہرحال امریکہ نے اس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر دیا اور برطانوی وزیر خارجہ امریکی حکام کو اس معاہدے میں باقی رہنے پر تیار نہ کرسکے۔ برطانوی وزیر خارجہ کے دورہ واشنگٹن کے چند گھنٹے بعد امریکہ میں تعینات برطانوی سفیر نے ایک خفیہ مراسلہ اپنی حکومت کو بھیجا، جس میں انہوں نے ڈونالڈ ٹرامپ کے فیصلے کو ذاتی نوعیت بلکہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ سے ذاتی عناد کا شاخسانہ قرار دیا۔ برطانوی سفیر نے اس مراسلے میں واضح طور پر بیان کیا کہ ڈونالڈ ٹرامپ نے باراک اوباما کو اشتعال دلانے کے لیے یہ اقدام انجام دیا۔ برطانوی سفیر کا یہ تجزیہ درست ہے یا غلط، اس پر کوئی رائے قائم کرنے کی بجائے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اکیسویں صدی میں ایک برطانوی سفیر کو صرف اس لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا کہ اس نے ایک خفیہ مراسلے میں ڈونالڈ ٹرامپ کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔
خامہ انگشت بہ دندان کہ اسے کیا لکھے
ناطقہ سر بہ گریبان ہے کہ اسے کیا لکھے


سفارتی پروٹوکول کہاں ہیں، برطانیہ اپنے آپ کو دنیا کا مثالی جمہوری نظام کہتا ہے، لیکن ایک خفیہ سفارتی خط پر اپنے سفیر کا دفاع نہ کرسکا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کو ایک لا ابالی اور منہ پھٹ شخص قرار دیا جاتا ہے، لیکن برطانوی سفیر کے ایک موقف پر برطانوی حکومت کی پسپائی ناقابل فہم ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے چاہے باراک اوباما کو اشتعال دلانے کے لیے عالمی ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے یا صہیونی لابی کو خوش کرنے کے لیے یہ اقدام انجام دیا ہے، اس کا نتیجہ انتہائی بھیانک ہے۔ دنیا کا سفارتی معاہدوں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ آئندہ کی عالمی سیاست میں کوئی بھی ملک ایک اہم معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد بغیر کسی وجہ کے اس معاہدے سے نکل سکتا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ عالمی ایٹمی معاہدے سمیت دوسرے عالمی معاہدوں سے نکل کر دنیا کو کہیں جنگل کے قانون کی طرف تو نہیں لے جا رہے ہیں۔؟
خبر کا کوڈ : 805088
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب