0
Monday 15 Jul 2019 11:30

الاعیان من آل رضا علیہ السلام(3)

ثامن الائمہ امام رضا علیہ السلام کے ماہ ولادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر
الاعیان من آل رضا علیہ السلام(3)
تحریر: سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
تعارف
امام رضا علیہ السلام کی نسل پاک دنیا کے گوش و کنار میں آباد ہے، امام رضا علیہ السلام کی شخصیت اور اس کی دنیا کیلئے فیوض و برکات تو اپنی جگہ، انکی نسل پاک کے افراد کی انسانیت اور عالم اسلام کیلئے خدمات بھی کسی معجزہ سے کم نہیں ہیں۔ اس نسل کے افراد کا معاشرہ کیلئے فیض رساں ہونا سورۃ کوثر میں کیے گئے دعویٰ پروردگار کی حقانیت پر ایک دلیل ہے۔ ہم نے آپکو خیر کثیر عطا کیا۔ نسل کوثر میں سے امام رضا علیہ السلام کے اعقاب میں نمایاں شخصیات میں سے چند کا تعارف درج ذیل مقالہ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ تحریر اگرچہ اس موضوع کا مکمل احاطہ کرنے سے قاصر ہے، تاہم اہل علم اور محققین کیلئے تحقیق کے ایک نئے دریچے کیجانب نشاندہی ضرور کرتی ہے۔

اس نسل کے بہت سے بزرگوں کے اسماء تاریخ و انساب کی کتب میں درج ہوئے ہیں، طوالت کے مدنظر ان اسماء سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم برصغیر میں آباد ال رضا علیہ السلام  کے خانوادوں اور شخصیات کا تذکرہ قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند میں نسل امام رضا (ع) سے اہم شخصیات اور خانوادے:
جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر کیا گیا کہ برصغیر پاک و ہند میں آباد نقوی، تقوی، رضوی، کرمانی، ترمذی، بھاکری، بخاری سادات کا سلسلہ نسب امام رضا علیہ السلام تک جاتا ہے، لہذا اس خطے میں آل رضا علیہ السلام سے بہت سی شخصیات تشریف لائیں اور انہوں نے تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑے۔

رضوی
ہندوستان کے شہر سامانہ کے رضوی سادات جو میر امان اللہ کی نسل سے ہیں، اپنا سلسلہ نسب امام رضا علیہ السلام تک لے کر جاتے ہیں۔ ان کا تذکرہ عمدۃ الطالب لکھنو ایڈیشن جو میرزا محمد علی کی تحریر ہے، کے حاشیہ میں موجود ہے۔ اس خانوادے کی بہت سی شخصیات ہجرت کرکے پاکستان تشریف لائیں اور مختلف شعبہ ہائے حیات میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھی رضوی سادات کے کچھ خانوادے آباد ہیں، جن میں آیت اللہ ابو القاسم رضوی لاہوری کا نام قابل ذکر ہے، جن کی کتاب رسالۃ السادۃ فی سیادۃ السادۃ کا تذکرہ سطور بالا میں کیا گیا ہے۔ آپ نے تفسیر شہیر کے نام سے قرآن کریم کی تفسیر بھی تحریر کی۔ علاوہ ازیں علم حدیث کی کتاب کافی کی تخریج بھی آپ کے کارناموں میں سے ہے، آپ اپنے وقت کے مناظر اور صاحب علم فرد تھے۔

كراروی
یہ سادات اپنا سلسلہ نسب سید عبداللہ زربخش بن سید یعقوب بن سید احمد نقیب قم کی وساطت سے موسیٰ مبرقع نیز امام محمد تقی اور امام علی رضا علیہ السلام تک پہنچاتے ہیں۔(۱۷) اسی لیے رضوی کراروی معروف ہیں۔ اس نسب میں بھی کئی ایک اہم علمی و سیاسی شخصیات نے جنم لیا۔ سید نجم الحسن کراروی اور معروف سیاسی شخصیت علی غضنفر کراروی مرحوم اسی خاندان سے ہیں۔ یہ لوگ سیادت میں معروف ہیں، اس خانوادے کا تذکرہ بھی عمدۃ الطالب لکھنو ایڈیشن کے حاشیہ میں درج ہے۔

کرمانی
پاکستان میں آباد کرمانی سادات موسیٰ مبرقع کی وساطت سے اپنا سلسلہ امام محمد تقی علیہ السلام اور امام رضا علیہ السلام تک لے کر جاتے ہیں۔ اس سلسلے کے ایک بزرگ سید داود بندگی تصوف میں ایک بڑا نام ہیں، جن کا مزار شیر گڑھ، اوکاڑہ میں مرجع خلائق ہے۔ اسی طرح سید داود بندگی سرکار کے بھتیجے شاہ ابو المعالی بھی تصوف کا بڑا نام ہیں، جن کے بارے ۱۷مغل شہنشاہ دارا شکوہ لکھتا ہے کہ آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔(۱۸) یہ سادات بھی معروف النسب کے زمرے میں آتے ہیں۔

زنجانی
یہ سادات ایران کے علاقے زنجان سے ہجرت کرکے برصغیر پاک و ہند آباد میں ہوئی، ان کا سلسلہ نسب بھی موسیٰ مبرقع کی وساطت سے امام محمد تقی علیہ السلام اور امام رضا علیہ السلام پر منتہی ہوتا ہے۔ زنجانی سادات کے ایک بزرگ میراں حسین زنجانی کا مزار لاہور کے مضافات میں مرجع خلائق ہے، اس نسل کے افراد ستارہ شناسی اور روحانی علوم میں مہارت رکھتے ہیں۔

نقوی سادات
خاندان اجتہاد

یہ خانوادہ 410 ہجری میں ایران کے شہر سبزوار سے ہجرت کرکے ہندوستان کے علاقے رائے بریلی میں آباد ہوا، اس خانوادے کو ان کی اجتہادی اور علمی خصوصیات کے سبب خاندان اجتہاد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس خاندان کے چشم و چراغ گذشتہ آٹھ نسلوں سے ہندوستان بلکہ برصغیر کی علمی، مذہبی، ادبی اور معاشرتی فضا کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ یہی خاندان تھا جس کے مورث اعلیٰ نے ہندوستان میں اجتہاد کی بنیاد ڈالی۔ غفران مآب ؒ کی دعا تھی کہ میرے خاندان میں تا قیام قیامت اجتہاد باقی رہے، جو کم سے کم آج کی تاریخ تک حرف بہ حرف صحیح ہوتی نظر آتی ہے۔ انہوں نے ہی ہندوستان میں پہلی بار نماز جمعہ و نماز جماعت کا قیام کیا اور برصغیر کی عزاداری کو وہ شکل دی، جو آج نظر آتی ہے۔(۱۹) اس خاندان کے معروف مجتہدین میں آیت اللہ دلدار نقوی غفران ماب، آیت اللہ محمد صاحب، آیت اللہ سید سبط حسن نقوی، آیت اللہ سید احمد، آیت اللہ سید ابراہیم، آیت اللہ سید تقی، آیت اللہ سید علی نقی نقوی المعروف نقن صاحب، آیت اللہ سید کاظم، آیت اللہ محسن نقوی، علامہ نصیر اجتہادی، آیت اللہ سید علی انور، علامہ ڈاکٹر محسن نقوی اور ڈاکٹر قلب صادق قابل ذکر ہیں۔ اس خاندان میں علماء کا سلسلہ کافی طویل ہے اور ان علماء کی دین اسلام کے لیے خدمات یقیناً یاد رکھے جانے کے قابل ہیں۔

نقوی البخاری
یہ خانوادہ بھی اپنی علمی و معنوی خدمات کے سبب ہندوستان و پاکستان بھر میں معروف ہے اس کے بزرگ سید جلال شاہ سرخ پوش بخارا سے برصغیر پاک و ہند آئے۔ اسی سبب یہ نسل اپنے آپ کو بخاری کے عنوان سے شناخت کرواتی ہے۔ سید جلال شاہ سرخ پوش کی نسل میں متعدد اہل علم اور صاحبان عرفان نے جنم لیا، جن میں مخدوم جہانیاں جہاں گشت، سید عیسیٰ شاہ قتال، سید وہاب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اسی خانوادے نے علم دین کی دنیا میں بھی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ تقی شاہ نقوی، علامہ سید ریاض حسین نجفی وغیرہ اسی خانوادے کے جشم و چراغ ہیں۔ سیاسی، سماجی، ثقافتی میدانوں میں اس خانوادے کے فرزند ملک و قوم کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں۔

نقوی البھاکری
یہ خانوادہ پاکستان میں اپنے جائے سکونت بھاکر یعنی پرانا سکھر کے سبب بھاکری کے عنوان سے معروف ہوئے، ان کے جد سید محمد محمود مکی حامل علم و عرفان اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔ آپ کے والد سید شجاع الدین اور دادا سید ابراہیم جوادی بھی ایران کے اہل علم میں شمار ہوتے تھے۔ بھاکری خاندان میں بھی بہت سے علماء، فضلاء اور عرفاء نے جنم لیا۔ ہیر رانجھا کے معروف مصنف اور صوفی بزرگ سید وارث شاہ کا تعلق اسی خانوادے سے تھا۔ یہ خانوادہ ایک روایت کے مطابق اسماعیل حریفا بن جعفر الزکی بن امام علی نقی علیہ السلام کی اولاد ہے۔(۲۰)

سادات امروہہ
امروہہ سادات کا مرکز ہے، جہاں سادات کے بہت سے خانوادے آباد ہیں، جن میں نسل امام رضا علیہ السلام سے نقوی اور تقوی خانوادہ آباد ہے۔ نقوی سادات کا خانوادہ عراق کے علاقے واسط سے ہجرت کرکے امروہہ تشریف لایا، اس کے بزرگ سید حسین شرف الدین، امام علی نقی علیہ السلام کی نویں پشت سے ہیں۔ یہ صاحب کرامت بزرگ تھے۔ تقوی سادات کے بزرگ سید اشرف دانشمند ہیں، جو جہانگیر بادشاہ کے زمانے میں امروہہ میں آکر آباد ہوئے۔ امروہہ کا تیسرا خانوادہ کرمانی الاصل ہے اور شاہ ابن بدر چشتی کی اولاد سے ہے، یہ بھی اپنے آپ کو نسل امام رضا علیہ السلام سے بتاتے ہیں۔(۲۱) سادات امروہہ کو برصغیر پاک و ہند میں خاص علمی و سیاسی مقام حاصل تھا۔ سادات امروہہ کی بعض شخصیات مغل حکمرانوں کے خاص مصاحبوں میں شامل تھیں۔

ترمذی
ترمذی ایک بلدی نسبت ہے، برصغیر پاک و ہند میں ترمذ سے بہت سے خانوادے ہجرت کرکے آئے، ان میں نقوی الترمذی سادات کا سلسلہ امام علی نقی علیہ السلام کی وساطت سے امام رضا علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ بونیر، سوات کے معروف صوفی بزرگ پیر بابا سید علی غواص ترمذی برصغیر پاک ہند میں ترمذی خاندان کے جد تصور کیے جاتے ہیں۔(۲۲)
نوٹ: نسل امام رضا علیہ السلام کی علمیو سیاسی، سماجی، دینی، عرفانی اور ادبی فیوض و برکات کا مکمل احاطہ ایک دقت طلب اور تحقیقی کام ہےو جس کے لیے ان صفحات کی وسعت کافی نہیں ہے۔ اپنی تحریر کا اختتام اس شعر کے ذریعے اپنی نارسائی کا اظہار کرکے کرنا چاہوں گا:
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانا نور کا

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
۱۷۔ ریاض الحسن، شجرہ طیبہ قلمی، ص ۴۲، ط ۱۹۸۲ کراچی
۱۸۔ مفتی غلام سرور لاہوری، خزینۃ الاصفیاء جلد اول، صفحہ 229، مکتبہ گنج بخش لاہور
۱۹۔ غیبت حضرت حجۃؑ و خدمات مرجعیت نمبر، ماہنامہ اصلاح، لکھنؤ۔ جون تا اگست۲۰۱۲
۲۰۔ معین الحق، جھانسوی، ترجمہ منبع الانساب، ص ۳۱۲، ناشر مدرسہ فیضان مصطفیٰ زہرہ باغ نئی آبادی، ط علی گڑھ ہندوستان ۲۰۱۰ء
۲۱۔ محمود احمد، تاریخ امروہہ، ص ۱۸۱ تا ۱۸۶، ط امروہہ ۱۹۳۰
۲۲۔ قمر، اعرجی، مدرکۃ الطالب فی انساب ال ابی طالب، ص ۴۳۰، ط اسلام آباد
خبر کا کوڈ : 805128
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب