0
Tuesday 16 Jul 2019 08:16

یمن سازشوں کے سائے میں

یمن سازشوں کے سائے میں
اداریہ
سعودی عرب نے گذشتہ چار سال سے بلکہ اب تو پانچویں سال کو بھی شروع ہوئے تین ماہ ہوچکے ہیں، غریب عرب ملک کو اپنی ننگی جارحیت کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ ان برسوں میں یمن کے عوام پر کیا بیتی، ایک ایسی المناک داستان ہے، جس کو سن کر انسان کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک باشعور انسان چیخ اٹھتا ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی ایسا ظلم روا رکھا جا سکتا ہے؟ سعودی عرب اور اس کے عرب اور مغربی اتحادیوں کے مسلسل حملوں میں اس ملک ک انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ لاکھوں افراد جاں بحق و زخمی ہوچکے ہیں۔ لاکھوں خطرناک وبائوں کی زد میں ہیں، لیکن عالمی ادارے انسانی حقوق کی اس وسیع پامالی پر آواز اٹھانے کی بجائے غیر ضروری مسائل مین مشعول رہ کر اپنے کو انسانی حقوق کا علمبردار کہلوانے پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ عالمی اور علاقائی ادارے بالخصوص عرب دنیا کے تمام ادارے من جملہ عرب لیگ، خلیج فارس تعاون کونسل حتیٰ او آئی سی سعودی عرب کے خوف و تسلط کی وجہ سے مکمل خاموش یا سعودی عرب کے مظالم کے ساتھ کھڑی ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ کبھی کبھی خواب سے بیدار ہوتا ہے اور ایک آنکھ کھول کر یمن کے مظالم کی طرف دیکھتا ہے اور پھر لمبی تان کر سو جاتا ہے۔

یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے مختلف نمائندے یمن میں جنگ بندی کے لیے آتے جاتے رہے، لیکن سعودی عرب کی بھرپور لابنگ اور عالمی اثر و رسوخ اس بات کا باعث بنا کہ مسئلہ یمن جوں کا توں ہے۔ کویت مذاکرات میں سعودی وفد کی خرمستیاں اور من مانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ عالمی برادری کے بے حد دبائو کے بعد آخر کار 6 دسمبر 2018ء کو سوئیڈن میں فریقین کے مذاکرات ہوئے، جس میں الحدیدہ بندرگاہ کی حساسیت کی وجہ سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارتھن گریفیٹس کی سربراہی میں ایک ہفتہ تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا اور بالاخر 13 دسمبر 2018ء کو الحدیدہ صوبے کی حد تک جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت متحارب گروہوں کی افواج الحدیدہ بندرگاہ سمیت یمن کی دو شمالی بندرگاہوں "راس عیسیٰ" اور "الصلیف" کو مکمل طور پر خالی کر دیں گی اور اس کی جگہ اقوام متحدہ کی فورسز لے لیں گی۔آج اس معاہدے کو چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس دوران سعودی اتحاد نے ہزاروں بار اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور اس علاقے کو اپنی بمباری اور ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا۔

یمن میں جنگ بندی کے لیے ایک بار پھر سہ فریقی اجلاس گذشتہ ہفتے الحدیدہ بندرگاہ میں اقوام متحدہ کے بحری جہاز میں منعقد ہوا اور ایک بار پھر الحدیدہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کو ابھی تک اس بات کا یقین ہی نہیں آرہا کہ یمن کے غریب اور نہتے شہری سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جدید ترین جنگی مشینری کے سامنے اتنی دیر تک ٹھہر سکتے ہیں۔ آل سعود اور ان کے مغربی و عربی مشاورین بھوکھلا چکے ہیں، وہ یمن کے عوام کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور ان کے دفاع کی عملی صورتحال کا جائزہ لینے ہیں تو حیران و ششدر رہ جاتے ہیں کہ آخر کون سی قوت نہتے یمنیوں کو جدید ترین فوجی ہتھیاروں اور شدید ترین بمباری مین سینہ تانن کر کھڑے رہنے کی جرات عطا کر رہی ہے۔ سعودی عرب اور اس کے امریکی، اسرائیلی، برطانوی اور فرانسیسی اتحادی اپنا سارا زور لگا چکے ہیں، لیکن انصار اللہ یمن کے مجاہدین ان کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں، وہ دن دور نہیں جب جارح طاقتیں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں گی۔
خبر کا کوڈ : 805304
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب