1
Tuesday 16 Jul 2019 21:57

مغربی کنارے کیلئے اسرائیل کا خطرناک منصوبہ

مغربی کنارے کیلئے اسرائیل کا خطرناک منصوبہ

تحریر: محمد مرادی
گذشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو اپنے ساتھ ملحق کرنے کی کوششوں کے بارے میں خبریں منظرعام پر آئی ہیں۔ جنوری 2019ء کو سننے میں آیا تھا کہ اسرائیلی کابینہ کے دسیوں وزیر اور لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والی اسرائیلی پارلیمنٹ اراکین نے ایک خط پر دستخط کئے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ وہ 20 لاکھ یہودیوں کیلئے مغربی کنارے میں یہودی بستی تعمیر کریں گے۔ اس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے الیکشن مہم کے دوران مغربی کنارے کو اسرائیل سے ملحق کرنے کا عندیہ دیا۔ اس کے بعد مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے ایک انٹرویو کے دوران اعلان کیا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے بعض حصے اپنے ساتھ ملحق کرنے کا حق حاصل ہے۔ آخر میں فلسطین کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مائیکل لنک نے پریشانی کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیل مزید سرزمینوں پر قبضے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس مسئلے کے کیا مختلف پہلو ہیں اور اسرائیل مغربی کنارے پر قبضہ کر کے کیا اہداف حاصل کرنے کے درپے ہے؟
 
اس مسئلے کو سمجھنے کیلئے اس بارے میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بطور صدر منتخب ہو کر برسراقتدار آنے کے بعد واشنگٹن نے اسرائیل کی غیر مشروط اور ہمہ جانبہ حمایت کی پالیسی اختیار کر لی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سینچری ڈیل نامی معاہدہ پیش کر کے مسئلہ فلسطین کو اسرائیل کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پہلے مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کرنے کا حکم جاری کیا تاکہ اس طرح قدس شریف پر اسرائیل کی حاکمیت کو قانونی شکل عطا کی جائے۔ مزید برآں، واشنگٹن میں پی ایل او کا دفتر بند کر دیا گیا۔ ستمبر 2018ء میں امریکی وزارت خارجہ نے فلسطینی مہاجرین کی سرپرستی کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے آنروا کو دی جانے والی تمام امداد بند کر دینے کا اعلان کر دیا۔ آخرکار مارچ 2019ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت اسرائیل کے زیر قبضہ شام کے علاقے گولان ہائٹس کو بھی قانونی طور پر اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا گیا۔ موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ مغربی کنارے کا الحاق سینچری ڈیل کا اہم ترین ہدف ہے۔
 
اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر کی پالیسی کئی وجوہات پر مبنی ہے اور اسرائیل مسلسل اس پر عمل پیرا ہوتا نظر آتا ہے۔ 1948ء میں اسرائیل نامی ریاست کے وجود کے اعلان کے بعد سرزمین کی محدودیت کے باعث یہ نئی اور جعلی ریاست ہمیشہ سے تزویراتی گہرائی نہ ہونے سے متعلق شدید پریشانی کا شکار رہی ہے۔ لہذا صہیونی رژیم نے اپنی سکیورٹی اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں اس کمزوری کو دور کرنے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرے کے احساس پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اسرائیل نے "یہودی بستیوں کی تعمیر" کو اپنی نئی حکمت عملی کے طور پر انتخاب کیا اور اسے جامہ عمل پہنانے کیلئے کوشاں ہو گیا۔ فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کر کے یہودی بستیوں کی تعمیر پر مبنی پالیسی کا دوسرا ہدف مستقبل میں فلسطین نامی ریاست کی تشکیل کو ناممکن بنانا ہے۔ مختلف علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور وہاں اسرائیل کے فوجی مراکز قائم ہونے کے بعد باقی سرزمینوں سے اس کا رابطہ منقطع ہو جاتا ہے اور یوں فلسطینیوں کی سرزمین چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔
 
موجودہ حالات میں اسرائیل مغربی کنارے میں موجود یہودی بستیوں کو اپنے ساتھ ملحق کر کے پہلے مرحلے پر ایک وسیع اور متحد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف مغربی کنارے پر اپنے مکمل قبضے کا زمینہ بھی فراہم کرنے کے درپے ہے۔ اسرائیل کی اندرونی مشکلات اور چیلنجز نے اسرائیلی حکمرانوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ حال ہی میں ہرزلیا میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں اندرونی مشکلات اور چیلنجز کو اسرائیل کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ صہیونی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل بے سابقہ قسم کی انارکی اور انتشار کا شکار ہے جو ملک کے تمام شعبوں پر منفی اثرات کا باعث بن رہا ہے۔ اسی طرح اس کانفرنس میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں ہونے والا عوامی احتجاج مغربی کنارے تک پھیل جانے کا امکان موجود ہے۔ اسرائیلی حکمرانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 20 لاکھ انسان جبکہ مغربی کنارے میں 28 لاکھ انسان بستے ہیں۔ وہ سب اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کو اپنے سیاسی، دینی اور سماجی حقوق کے حصول کا بنیادی اور اہم ذریعہ سمجھنے لگے ہیں جس کے باعث اسرائیل ایک بہت بڑے چیلنج سے روبرو ہو گیا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 805385
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب