0
Wednesday 17 Jul 2019 22:12

کرم حلقہ PK109 کے مضبوط ترین امیدوار

کرم حلقہ PK109 کے مضبوط ترین امیدوار
تحریر: روح اللہ طوری

قبائلی ضلع کرم میں صوبائی اسمبلی کے لئے دو حلقے مختص کئے گئے ہیں۔ حلقہ پی کے 108 اور حلقہ پی کے 109۔ موخر الذکر کرم ایجنسی کا دوسرا حلقہ ہے۔ اس حلقے سے ایک درجن کے قریب امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے تھے۔ تاہم امیدواروں کی اکثریت ایک دوسرے کے حق میں دستبردار ہونے کی وجہ سے اس وقت صرف پانچ قابل ذکر امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔ جن میں پی ٹی آئی کے سید اقبال میاں، پیپلز پارٹی کے کرنل ریٹائرڈ جاوید اللہ خان، آزاد امیدوار عنایت علی طوری، آزاد امیدوار ابرار حسین جان اور آزاد امیدوار حاجی ظاہر حسین مالی خیل شامل ہیں۔ اپنے قارئین کو ہر امیدوار کی پوزیشن سے آگاہ کرنے کیلئے ذیل میں ایک سروے جاری کیا جا رہا ہے۔

1۔ سید اقبال میاں:
سید اقبال میاں کا تعلق کرم کے میاں سادات کے نامی گرامی خانوادے سے ہے اور عقیدتاً غیر تقلیدی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس خاندان کا اپنا ایک ووٹ بینک موجود ہے اور انہوں نے ہر الیکشن کے دوران اپنی تیسری پوزیشن ثابت کر دی ہے۔ پہلی پوزیشن کا حامل عموماً قومی مرکز کا حمایت یافتہ امیدوار ہی ہوا کرتا ہے، جبکہ دوسری پوزیشن تحریک حسینی کا نظریہ رکھنے والا امیدوار حاصل کرتا رہا ہے، جو کہ پچھلی تین مرتبہ ریٹائرڈ آئی جی پولیس سید ارشاد حسین اور انکے برادران کے حصے میں آتا رہا ہے۔ خیال رہے کہ اس مرتبہ اور پچھلی مرتبہ تحریک اور مرکز نے غیر جانب دار رہنے کا اعلان کیا تھا۔ اس مرتبہ سید ارشاد کے خاندان کے خود الیکشن سے باہر رہنے اور انکی جانب سے سید اقبال میاں کی حمایت کرنے کی وجہ سے  پوزیشن کسی حد تک برعکس نظر آرہی ہے۔ یعنی اس مرتبہ سید اقبال میاں کی پوزیشن سب سے مضبوط ہے۔ تاہم متقابل امیدواروں کی جانب سے تقلید اور غیر تقلید کا پراپیگنڈہ کرنے کی وجہ سے سید ارشاد کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد عنایت، ابرار یا ظاہر حاجی کی جانب جاسکتی ہے۔ خصوصاً سید راحت حسینی کی حمایت اور انکے سٹیج پر تقریر کرنے کی وجہ سے تقلیدی افراد کی ایک بڑی اکثریت کا ووٹ انکے خلاف جاسکتا ہے۔

2۔ عنایت علی طوری
عنایت علی طوری کا تعلق پاراچنار کے نواحی گاؤں ملانہ سے ہے۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق تنظیموں سے ہے۔ آئی ایس او کے علاوہ تحریک حسینی میں مذاکراتی ٹیم کے رکن رہنے کے علاوہ قومی مرکز میں بھی اہم شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ بنیادی طور پر تعلق تحریک حسینی سے تھا، تاہم ساجد طوری کے ممبر قومی اسمبلی بننے نیز خود ساجد طوری کی وفاداری بدلنے کے بعد عنایت علی طوری نے بھی تحریک حسینی کو الوداع کہہ کر مرکز کی جانب رجوع کر لیا۔ عنایت علی طوری ایک بہترین مقرر ہیں اور قومی موقف پیش کرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ مری جرگہ میں تحریک کے پانچ اراکین میں سے ایک تھے اور انہوں نے مری معاہدے کے دوران طوری بنگش اقوام کی نمائندگی احسن طریقے سے کی۔ چنانچہ کافی تعداد میں ووٹرز کی حمایت انہیں حاصل ہے۔ تاہم تین سال قبل یعنی مئی 2016ء میں تحریک حسینی اور ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ راجہ ناصر عباس کے خلاف پریس کانفرنس کرانے کی وجہ سے کافی تنظیمی افراد کی رائے ان کے خلاف جاسکتی ہے۔ اس کے باوجود ان کی پوزیشن کافی مضبوط بلکہ دوسرے نمبر پر دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں تک کہ آخری مراحل تک کوشش جاری رکھنے سے ان کی پوزیشن مزید مستحکم ہوکر پہلے نمبر پر بھی جاسکتی ہے۔

3۔ ابرار حسین جان طوری
ابرار جان طوری کا تعلق پاراچنار کے نواحی علاقے کچکینہ سے ہے۔ اس وقت مرکزی اور تحریکی وغیرہ کی باتیں اگرچہ ختم ہوچکی ہیں۔ تاہم نظریاتی لحاظ سے مرکزی رہ چکے ہیں۔ لہذا جو لوگ اس چیز کا شکار ہیں، وہ اسی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ ابرار جان اپنے مدمقابل تمام امیدواروں کی نسبت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ایک اچھے اور کامیاب سپیکر بھی ہیں۔ مجمع کو اپنے ساتھ لے جانے کا ملکہ رکھتے ہیں۔ انہیں کافی افراد کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم مرکزی نظریہ رکھنے والے امیدواروں کی تعداد چونکہ چار ہے۔ لہذا چار افراد میں یہی ووٹ تقسیم ہو جانے کی صورت میں فائدہ ڈائریکٹ سید اقبال میاں کو جاسکتا ہے۔ ابرار حسین جان کے حامیوں میں بیشتر خشک اور وسطی علاقوں یعنی کراخیلہ، کچکینہ، للمئے، بورڑکی نیز شنگک، نستی کوٹ کنج علی زئی وغیرہ کے لوگ شامل ہیں۔

4۔ حاجی ظاہر حسین
حاجی ظاہر حسین کا تعلق مالی خیل سے ہے، کوئی خاص قسم کا سابقہ تو نہیں رکھتے، تاہم مالی خیل قوم میں 90 فیصد ووٹ انہی کے لگ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر علاقوں خصوصاً سادات اور تحریک کے حامی کافی افراد کی حمایت بھی انہیں حاصل ہے۔ ان کا منشور اپنے دیگر مدمقابل امیدواروں کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ اپنی الیکشن مہم میں انہوں نے رنگ و نسل اور ذات پات کو کبھی نہیں چھیڑا، بلکہ اتفاق و اتحاد ہی پر زور دیتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے نظریاتی لوگوں کی ایک بڑی تعداد انہیں پسند کرتی ہے۔ تاہم ان کی پوزیشن کسی حد تک کمزور ہونے کی وجہ سے ان کے حامی شاید ووٹ کو ضائع ہوتے دیکھ کر ان کے حق میں استعمال کرنے سے گریز کریں، کیونکہ کرم کے عوام میں یہ رجحان کافی زیادہ ہے کہ وہ جب اپنے پسندیدہ امیدوار کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھتے تو اپنے سخت مخالف امیدوار کو ہرانے کیلئے اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں۔

5۔ کرنل ریٹائرڈ جاوید اللہ خان
جاوید اللہ خان کا تعلق لوئر کرم کے علاقے بلیامین سے ہے اور رشتے میں موجودہ ایم این اے ساجد طوری کے کزن لگتے ہیں۔ ساجد طوری ہی کے تعاون سے پیپلز پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، تاہم اس وقت ساجد طوری کی حمایت سے مکمل طور پر محروم ہیں بلکہ ساجد طوری کی حمایت عنایت علی کو حاصل ہے، لہذا ان کی پوزیشن نہایت کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ یہ سب کچھ ہم نے عوامی اجتماعات، گاڑیوں اور گھروں پر نصب تصاویر اور بازار اور سکولوں میں بچوں کی رائے جان کر حاصل کیا ہے، جبکہ اصل فیصلہ تو 20 اور 21 جولائی کی درمیانی رات کو ہوگا کہ کون کتنے پانی میں ہے۔
خبر کا کوڈ : 805511
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے