4
Thursday 18 Jul 2019 00:56

ٹرمپ و عمران ملاقات، کیا ہونے جا رہا ہے؟

ٹرمپ و عمران ملاقات، کیا ہونے جا رہا ہے؟
تحریر: محمد سلمان مہدی
 
یکایک امریکی حکومت کا موڈ تبدیل ہو رہا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو یوں شرف ملاقات بخش رہے ہیں کہ جب ترجمان دفتر خارجہ مورگن اورٹیگس سے واشنگٹن دفتر میں صحافی نے سوال کیا تو انکا جواب تھا کہ انہوں نے بھی (صحافیوں کی طرح) اس نوعیت کی خبریں پڑھیں تھیں، لیکن اس ضمن میں وائٹ ہاؤس (صدارتی دفتر) سے پوچھ کر ہی وہ بتا سکیں گی کہ آیا دورہ ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگلے ہی روز وائٹ ہاؤس سے پریس سیکرٹری کا بیان جاری ہوگیا کہ صدر ٹرمپ 22 جولائی کو وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو خوش آمدید کہیں گے۔

جب سے ڈونالڈ ٹرمپ امریکی صدر کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس سے امریکی حکومت چلا رہے ہیں، انہوں نے پاکستان کے بارے میں نازیبا اور طنزیہ تبصرے کئے۔ 21 اگست 2017ء کو افغانستان و پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء کے لئے اور 18 دسمبر 2017ء کو پوری دنیا کے لئے امریکا کی قومی سلامتی پالیسی کو بیان کرتے وقت بھی پاکستان کے کردار پر تنقید کی تھی۔ اس برس امریکی دفتر خارجہ کے بجٹ برائے جنوبی ایشیاء میں بھارت اور افغانستان کی معاونت کے لئے مختص بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کے لئے مجموعی بجٹ میں بے حد کمی کی گئی ہے اور فوجی معاونت کی مد میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ پاکستان کی فوجی معاونت کی مد میں ماضی کی رقوم کی ادائیگی پہلے ہی معطل کی جا چکی تھی۔ پاکستان کے خلاف الزامات کی جنگ بھی ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکی پالیسی برائے پاکستان کا جزو لاینفک رہی ہے۔

اس پس منظر میں ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ آناً فاناً ایسی کونسی تبدیلی رونما ہوئی کہ ٹرمپ حکومت وزیراعظم عمران خان سے اس حد تک راضی ہوگئی کہ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ انکا استقبال کرنے کے لئے بے چین ہو رہے ہیں۔ کیا صرف افغان طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی وجہ سے؟؟  کیا بھارت سے بعض ایشوز پر ناراضگی کی وجہ سے جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو امریکی مفاد کے تحت رکھنے کے لئے پاکستان کو کسی حد تک لفٹ کروائی جا رہی ہے؟ کیا چین کے ساتھ ساتھ روس سے قربتوں میں اضافے نے امریکی حکومت کو چمکارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یا پھر ایران کے خلاف کوئی ایسا گیم پلان ہے، جس میں امریکی حکومت پاکستان حکومت کے کاندھے استعمال کرنے کے موڈ میں ہے۔

موجودہ حالات کو ان سارے تناظر میں دیکھا جائے تو مذکورہ بالا سارے سوالات اس سے متعلق لگتے ہیں۔ لیکن پاکستان کا نظریاتی اور مذہبی طبقہ دیگر دو زاویوں سے سوچ رہا ہے۔ ان دو طبقوں کا خیال ہے کہ امریکا سمیت پورا مغربی بلاک پاکستان کو ایک سیکولر ریاست میں تبدیل کرنے کے حق میں ہے اور مغربی بلاک پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیاروں کو تلف کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے تحت چلنے والی انصافین مخلوط حکومت کو استعمال کرسکتا ہے۔ حالانکہ یہ آخری دو کام اتنے آسان نہیں ہیں کہ مغربی بلاک کے اقتصادی پیکیج پر قربان کر دیئے جائیں، لیکن پاکستانیوں کے بعض طبقات کو ایسا سوچنے سے کوئی روک بھی نہیں سکتا۔

البتہ اس حوالے سے امریکی بری فوج کے سربراہ جنرل مارک اے ملے نے بھی مجھ جیسوں کی کنفیوژن کو دور کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ انہیں امریکی مسلح افواج کے سربراہان کی مشترکہ کمیٹی کے سربراہ یعنی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کرنا چاہتے ہیں اور اس عہدے پر تقرری کے لئے سینیٹ کی منظوری کی ضرورت ہے۔اور یہی معاملہ ڈاکٹر مارک ٹی ایسپر کا ہے، جنہیں ٹرمپ امریکی وزیر دفاع مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل مارک ملے سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے سامنے 11 جولائی 2019ء کو اور ایسپر 16 جولائی2019ء کو پیش ہوئے اور انہوں نے ملتی جلتی باتیں کہیں۔ دونوں کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی تدابیر برائے جنوبی ایشیاء میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔

ٹرمپ حکومت کی مذکورہ تدابیر میں جنوبی ایشیاء میں امریکی مفادات پر پیش قدمی کرنے کے لئے پاکستان کو امریکا کا کلیدی شراکت دار تسلیم کیا گیا ہے۔ مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ The President’s South Asia Strategy recognizes Pakistan as a key partner in
advancing U.S. interests in South Asia, including developing a political settlement in
Afghanistan; defeating AQ and ISIS-K; providing logistical access for U.S. forces;
and enhancing regional stability.
 
البتہ امریکا کی جانب سے سکیورٹی معاونت معطل رہے گی۔ پاکستان کے فیصلوں پر امریکا اثر انداز ہونا چاہے گا۔ دفاعی تعلق اس طرح قائم رکھے گا کہ جب مرضی ہوگی فوجی قیادت کے دو طرفہ دورے و رابطے ہوا کریں گے، حتیٰ کہ امریکا پاکستان پر زور دیا کرے گا کہ وہ امریکی ”درخواست“ پر اقدامات کرے۔ مارک ایسپر کے مطابق افغان مفاہمت پر پاکستان نے چند تعمیری قدامات کئے ہیں۔ بھارت مخالف گروہوں کے خلاف ابتدائی اقدامات کئے ہیں، جیسا کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد کے خلاف جو کجھ علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ البتہ امریکا کے متوقع وزیر دفاع کی نظر میں ابھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ امریکی امداد کی معطلی کی وجہ سے پاکستان نے ایسا کیا ہے یا افغان مفاہمت میں پیش رفت اور پلوامہ حملے کے بعد کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے پاکستان یہ اقدامات کرنے پر مجبور ہوا۔
 
نیوکلیئر پروگرام سمیت خطے سے متعلق پاکستان کے تزویراتی نکتہ نظر کی تبدیلی امریکا کی اصل خواہش ہے۔ پینٹاگون کے متوقع سربراہ جو چاہتے ہیں، انہی کے الفاظ میں پڑھ لیجیے:
  If confirmed, I would aim to make use of all of the tools at our disposal to promote a change in
Pakistan’s strategic approach to the region. The strongest may be building relationships with Pakistan’s military; such relationships allow us insight and the  ability to encourage cooperation on key issues. Assistance and operational reimbursements, such as Coalition  support Funds (CSF) and International Military Education and Training (IMET), currently are  suspended but may be useful to reinforce positive actions Pakistan takes in response to U.S. requests related to terrorism, militant sanctuaries, and nuclear programs.
If confirmed, I will advocate for DoD to maintain the right set of tools and authorities to   maintain decision space and flexibility in our policy approach, in order to maintain a“bridge back”for Pakistan.
 
وزیراعظم عمران خان پر ٹرمپ حکومت خوامخواہ مہربان نہیں ہوئی ہے۔ اس کے پیچھے امریکا کی سامراجی ذہنیت اور سامراجی مفادات ہیں۔ امریکی حکومت کی اس خطے میں طاقت کے توازن کی پالیسی کے تحت بھارت کا کردار چین کے خلاف ہے، جبکہ افغانستان ایشو کے حل کے لئے امریکا کسی بھی طور روس، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے کردار کو پسند نہیں کرتا، کیونکہ ان ممالک کی موجودگی میں امریکا کی دال نہیں گلے گی۔ کہنے کی حد تک امریکا اس تنازعے میں ریجنل اپروچ کا قائل ہے، لیکن پڑوسی ممالک میں وہ پاکستان کو اس لئے گھسیٹنا چاہتا ہے، کیونکہ روس، ایران اور دیگر کو افغان امن عمل میں منفی امریکی مداخلت کی راہ میں ٹرمپ حکومت رکاوٹ سمجھتی ہے۔ یوں امریکا پاکستان کو روس اور چین سے بھی دور کرنا چاہتا ہے، کیونکہ جنرل مارک اے ملے نے سینیٹ کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ امریکی امداد کی معطلی کی وجہ سے پاکستان چین اور روس سے قریب ہوگیا ہے۔ مطلب یہ کہ امریکا کا محتاج نہیں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو امریکا مدعو کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کا یہ تین روزہ دورہ امریکا پاکستان کی آئندہ کی خارجہ و داخلہ پالیسی پر بہت زیادہ اثر انداز ہوسکتا ہے، اس لئے پاکستانی قوم کو اس دورے کو ہلکا نہیں لینا چاہیئے۔ بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ہشیار و بیدار رہنے کی ضرورت ہے!
خبر کا کوڈ : 805587
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے