0
Thursday 18 Jul 2019 12:24

عالمی عدالت کا انوکھا فیصلہ، مدعی بھی خوش، ملزم بھی راضی

عالمی عدالت کا انوکھا فیصلہ، مدعی بھی خوش، ملزم بھی راضی
تحریر:تصور حسین شہزاد

پاکستان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پکڑا گیا تو ملٹری کورٹ نے اسے پھانسی کی سزا سنا دی۔ بھارت نے اس سزا کو عالمی عدالت میں چیلنج کر دیا۔ عالمی عدالت انصاف نے اب اس کیس پر اپنا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ فیصلہ ایسا ہے کہ اسے دونوں فریق اپنی اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔ زمینی حقائق کیا ہیں اور فیصلہ کس کے حق میں آیا ہے، اس حوالے سے تجزیہ کرنے سے پہلے بھارتی تجزیہ کاروں اور میڈیا کی رائے دیکھتے ہیں۔ خوشی سے بغلیں بجاتے بھارتی ماہرین و مبصرین کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادو کی پھانسی روک کر عالمی عدالت انصاف نے میرٹ کی بنیاد پر بھارت کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ بھارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے انڈین شہری کلبھوشن یادیو کی پھانسی کی سزا پر پابندی لگاتے ہوئے پاکستان کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنے اور اس کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے، پاکستانی ملٹری کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے  کا یہ فیصلہ بھارت کے موقف کی واضح جیت ہے۔
 
بھارتی مبصرین کا کہنا تھا کہ فیصلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ 16 ججوں کے پینل میں شامل چینی جج نے بھی بھارت کے حق میں فیصلہ دیا جو انڈیا کی بہت بڑی فتح ہے، اختلافی نوٹ صرف ایک جج نے لکھا جو پاکستانی تھا، یہ اختلافی نوٹ کسی طرح بھی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کی کوئی حیثیت ہے۔ بھارتی مبصرین کہتے ہیں وزیراعظم نریندرا مودی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کے فیصلوں کی وجہ سے آج پورے انڈیا میں لوگ خوشیاں منا رہے ہیں۔ بھارتی مبصرین کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادو کیس میں عالمی عدالت انصاف میں جانے کا فیصلہ نریندرا مودی نے کیا، بالا کوٹ میں سرجیکل سٹرائیک کرنے کا فیصلہ مودی نے کیا، وہ دن بھی جلد ہی آئے گا کہ لوگ کلبھوشن یادیو کے بھارت واپس آنے پر مٹھائیاں بانٹیں گے۔
 
بھارتی مبصرین نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے کے بعد کلبھوشن کیس سب سے پہلے ملٹری کورٹ سے سول کورٹ میں آنا چاہئے، سول کورٹ میں کیس آنے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی کوئی حیثیت نہیں، حصول انصاف کے تقاضے ملٹری کورٹ سے پورے نہیں ہوں گے۔ بھارتی مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ کلبھوشن کیس پر پاکستان چائنہ کی مدد سے سکیورٹی کونسل میں جا کر معاملے کو طول دینے کی کوشش کرے گا۔ ایک بھارتی مبصر کا کہنا تھا کہ بھارت نے عالمی عدالت میں پاکستان کیخلاف کیس درج کرنے سے پہلے تقریباً 13 بار پاکستان کو کلبھوشن یادیو کیلئے قونصلر رسائی کی اجازت مانگی تھی لیکن پاکستان نے انڈیا کی جانب سے بار بار درخواستوں کے باوجود اجازت نہیں دی۔ اسی بھارتی مبصر کے  مطابق پاکستان نے بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارت کو 2 ہفتے بعد اطلاع دی اور عالمی عدالت انصاف میں بھی بھارت کی فتح کی  یہی وجہ بنی۔
 
درحقیقت عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے انڈین جاسوس کی واپسی، رہائی اور فوجی عدالت کا فیصلہ ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عالمی عدالت انصاف کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے اور اسے دی جانیوالی سزا پر نظر ثانی کرے۔ عالمی عدالت انصاف نے بریت کی بھارتی درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ کلبھوشن یادیو کو سنائی جانیوالی سزا کو ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے ایک شاندار فیصلہ دیا ہے جس میں پاکستان کی واضح جیت ہوئی ہے۔ کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سب سے پہلے اللہ کا شکر ہے کہ اس نے پاکستان کو ایک ملک کے طور پر سرخرو کیا ہے، اس کامیابی پر پاکستانی قوم عدلیہ کا سسٹم، اٹارنی جنرل اور ان کے وکلا کی ٹیم اور دفتر خارجہ سمیت سب خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی عدالت میں انڈیا نے 5 مطالبات کیے تھے جو مسترد کردیئے گئے۔
 
انڈیا نے مطالبہ کیا کہ ملٹری کورٹ کی سزا کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جائے، جسے مسترد کر دیا گیا۔ انڈیا کے مطالبے "ملٹری کورٹ کی سزا کو ختم کیا جائے" کو بھی رد کر دیا گیا۔ کلبھوشن کو رہا کیا جائے اور اس کو انڈیا بھیجا جائے، پر بھی عالمی عدالت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ انڈیا کے مطالبے "اگر کلبھوشن کو رہا نہیں کیا جاتا تو ملٹری کورٹ کی سزا کو ختم کرکے سول کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے" پر عالمی عدالت نے اسے رہا نہیں کیا اور نہ ہی ملٹری کورٹ کے فیصلے کو ختم کیا ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم نے عالمی عدالت میں کہا کہ کلبھوشن یادیو نیوی کمانڈر ہے، عدالت نے اسے تسلیم کیا۔ ہم نے کہا وہ دہشتگرد ہے، ہمارا یہ موقف بھی درست ثابت ہوا۔ عالمی عدالت میں ہمارے کلبھوشن کے پاسپورٹ کے حوالے سے موقف کو بھی تسلیم کیا گیا اور پاکستان کی ملٹری کورٹ کی جانب سے دی جانیوالی سزا کو بھی قانون کے مطابق قرار دیا ہے۔ یہ بہت ہی شاندار فیصلہ ہے عالمی عدالت نے اس کیس کیساتھ انصاف کیا ہے۔
 
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ پاکستان کی عدلیہ اور پاکستان کی فتح ہے کیونکہ عالمی عدالت نے کلبھوشن کے کیس میں کہا ہے کہ پاکستان اس کو جس طریقے سے بھی چاہتا ہے اس کو دیکھے۔ جب بھی کسی ملزم کو عدالت موت کی سزا دیتی ہے تو اس پر نظر ثانی اسی سسٹم کے اندر ہوتا رہتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان پُراعتماد تھا کہ ہمارے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، اسی لیے ہمیں امید تھی کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔ پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی کے اختلافی نوٹ پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہوں نے تکنیکی بنیادوں پر یہ نوٹ لکھا ہے اور انہوں نے آئی سی جے کے دائرہ کار پر اپنا موقف دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی جیت ہوئی ہے، پاکستان بہت ہی تھوڑے عرصے میں عالمی عدالت گیا، ہم وہاں گئے اور عالمی قوانین کی پابندی کی جس کا ہمیں فائدہ ہوا کیونکہ اگر ہم وہاں نہ جاتے تو یہ کیس آج بھی متنازعہ ہوتا۔
 
دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کلبھوشن کا کیس عالمی عدالت انصاف میں لے کر گیا، بھارت نے عالمی عدالت میں مقدمہ پیش کیاکہ کلبھوشن بیگناہ ہے، رہا کیا جائے، عالمی عدالت نے بھارت کا موقف تسلیم نہیں کیا،عالمی عدالت انصاف کا یہ مناسب اور خوش آیند فیصلہ ہے، عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی فتح ہے، کلبھوشن کی سزا کو کالعدم نہیں کیا گیا، ہم عالمی عدالت کے فیصلے کا احترام کریں گے اورکلبھوشن سے پاکستانی قوانین کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن دہشتگردی میں ملوث تھا جس کا اس نے اعتراف بھی کیا، عالمی عدالت نے فوجی عدالت کا فیصلہ معطل یا منسوخ نہیں کیا، اللہ نے پاکستان کو سرخرو کیا ہے، کلبھوشن یادیو کے پاس رحم کی اپیل کی گنجائش تھی، کلبھوشن کے پاس صفائی اور بے گناہی پیش کرنے کا حق موجود ہے، کلبھوشن کو پاکستانی قوانین کے تحت پہلے ہی اپیل کا حق حاصل تھا اور ریویو کا یہ حق ہمارے قوانین کے مطابق تھا، عالمی عدالت نے پاکستانی قوانین کے مطابق کلبھوشن کو اپیل کا حق دیا ہے، عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کی فوجی عدالت کا فیصلہ منسوخ نہیں کیا اور کلبھوشن یادیو سے پاکستانی قوانین کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔
 
ان کے مطابق عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور فیصلہ سننے کے بعد اب وہ قانون کی روشنی میں اگلے قدم اٹھائے گا، عالمی عدالت انصاف نے انڈین نیوی کے کمانڈر کلبھوشن یادیو کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ سنا کر انڈین درخواست رد کر دی ہے۔ پاکستانی ماہرین قانون کہتے ہیں کہ  آج دنیا کی سب سے بڑی عدالت نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ جاسوسوں پر بھی ویانا کنونشن کا اطلاق ہوتا ہے، اب کلبھوشن پر ویانا کنونشن کا اطلاق ہوگا اور پاک بھارت کے درمیان 2008 میں ہونیوالے معاہدہ ویانا قوانین میں اضافہ کر سکتا ہے لیکن کمی نہیں، ممتاز قانون دان سلمان اکرم راجہ  نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد پاکستانی قوانین کے تحت ہی ریویو  ہو گا اور پاکستانی عدالتوں میں ہی ریویو ہو گا۔ عالمی عدالت نے یہ کہا ہے کہ  ریویو کس طرح کرنا ہے یہ ہم پاکستانی عدالتوں پر چھوڑتے ہیں؟ لیکن جب تک یہ ریویو نہیں ہو جاتا سزا پر عملدرآمد نہ کرنا ضروری ہے، ہم نے انٹرنیشنل کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ ملٹری کورٹ کے فیصلے ہائیکورٹ میں ریویو ہو سکتے ہیں اور ہم نے وہاں حوالہ دیا تھا پشاور ہائیکورٹ کا جہاں ایک فیصلے میں ملٹری کورٹس کی  ستر، 74  سزاؤں کو کالعدم قرار دیا تھا۔
 
عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ کے اُس فیصلے کا ذکر کیا ہے اور اس کی بنیاد پر ہمارے موقف کو بظاہر قبول کیا ہے  کہ پاکستانی عدالتیں ملٹری کورٹس کے  فیصلوں کیخلاف موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دوسرا اُنہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ضرورت سمجھے کہ ملٹری کورٹس کے حوالے کوئی قانون سازی کی جائے تو یہ بھی پاکستان کی صوابدید ہے، وہ کرے یا نہ کرے۔ دونوں جانب کی آراء اور تبصرے دیکھنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا موقف مضبوط ہے اور اس معاملے میں بھارت کو شکست ہوئی ہے۔ عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد یہ حق پاکستان کو دیدیا گیا ہے کہ وہ اب کلبھوشن کی تقدیر کا فیصلہ کرے۔ ظاہر ہے پاکستانی عدالت ہے تو وہ اسی بنیاد پر ہی فیصلہ دے گی جس بنیاد پر ملٹری کورٹ نے دیا تھا۔
 
کلبھوشن واقعی جاسوسی کیلئے پاکستان آتا تھا، اس نے بلوچستان میں بدامنی پھیلائی اور سی پیک جیسے منصوبوں کی راہ میں بھی رکاوٹ بن رہا تھا۔ جبکہ اس کا نیٹ ورک بلوچستان میں علیحیدگی کی تحریک پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا، یہ وہ تمام ٹھوس شواہد ہیں جو کلبھوشن کے اپنے اعترافی بیان میں سامنے آئے ہیں۔ جب ملزم خود اپنے جرم کا اعتراف کر رہا ہے تو نظر ثانی کی ہدایت کس طرح اسے موت کے پھندے سے بچا سکتی ہے۔ یقیناً یہ کیس اگر ہائی کورٹ میں بھی چلتا ہے تو اس میں بھی کلبھوشن کو دی گئی حالیہ سزا برقرار رہے گی۔ البتہ اس فیصلے میں جو نئی بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ اب جاسوسوں کے کیس بھی ویانا کنونشن کے مطابق قابل سماعت ہوں گے اور جاسوسوں کو بھی "حقوق" ملیں گے۔ یہ ایک خطرناک پہلو ہے۔ جسے شائد ابھی تک نظرانداز ہی کیا جا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 805615
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب