0
Thursday 18 Jul 2019 13:13

ٹیکس نیٹ یوں بھی بڑھائیں

ٹیکس نیٹ یوں بھی بڑھائیں
تحریر: طاہر یاسین طاہر

جو بھی لکھا خوب لکھا دسترس ہوتا اگر
چومتا میں ہاتھ اپنے کاتب ِتقدیر کا

خواجہ حیدر علی آتش کا یہ شعر بھی یقیناً ہم جیسے "ٹیکس پیشہ" ہجوم کے لیے لکھا تھا۔ شاید اس وقت بھی حالات ایسے ہی تھے، مگر یوں مہذب طریقے سے لوٹ مار نہ ہوتی تھی۔ حملہ آور آتے اور مال مویشی، آٹا دانہ، عورتیں بچے ہانک کر لے جاتے، جسے یقین نہ آئے وہ تاریخ کو عقیدت کی آنکھ سے پڑھنے کے بجائے مضمون کے طور پر پڑھے تو اسے احمد شاہ ابدالی اور غزنوی کی "اسلام دوستی" سمجھ آجائے گی۔ پنجابی کہاوت بڑی مشہور ہے "کھادا پیتے لائے نا، تے باقی احمد شاہے نا" یعنی احمد شاہ ابدالی کے حملہ آور ہونے سے پہلے پہلے جو کچھ کھا پی لیا، جو کچھ کہیں چھپا لیا، وہی اثاثہ حیات ہے، باقی تو احمد شاہ ابدالی اپنے بے رحم حملہ آور لشکر کے ساتھ آئے گا اور سب کچھ لوٹ کے لے جائے گا۔ احمد شاہ ابدالی نے اس خطہ بے تقدیر پر کتنے حملے اور کیوں کیے؟ تاریخ کے دامن میں سب محفوظ ہے۔ انگریز آئے تو کیا ہوا؟ ہمارے آباو اجداد نے ٹیکس دیئے۔ آج جو بڑے بڑے جاگیر دار ہیں، ان کے آباء نے انگریزوں سے وفاداری کے عوض بڑی بڑی جاگیریں پائیں۔ یہ تاریخ کا ایک المناک سچ ہے، جسے کسی بھی طور جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ جھٹلانا تو ایک طرف کوئی اسے دل ہی دل میں جھوٹ بھی نہیں کہہ سکتا۔ تقدیر اور شے ہے اور تقدیر کے نام پر کسی چرب زبان کے سامنے اپنی ہمت ہار جانا کارِ دگر است۔

انسان اپنے افعال میں قادر ہے یا کلی طور پر تقدیر کے تابع؟ یہ بڑا دلچسپ موضوع ہے اور اس فلسفیانہ موضوع پر سینکڑوں کتب لکھی جا چکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جیسے عوام ہوں گے، ویسے ہی حکمران ان پر مسلط کیے جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ علمائے کرام کو اس حوالے سے جدید تفسیری فکر کو بروئے کار لاتے ہوئے اس حدیث پر مزید تحقیق کرنی چاہیئے۔ اگر تو سارا قصور عوام کا ہے تو پھر میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو قید کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ پھر شہباز شریف کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامات کیوں؟ پھر مہنگائی بڑھنے پر عمران خان اور ان کی ٹیم کو برا بھلا کیوں کہا جا رہا ہے؟ جب قصور ہی عوام کا ہے تو حکمران قہر الٰہی بن کر نازل ہوں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اللہ رب لعزت کی ذات عادل ہے۔ قدر و جبر کا نظریہ ایک علمی اور دقیق فلسفیانہ بحث ہے۔ ہم اس سے صرفِ نظر کرتے ہیں۔ کسی دوسرے مقام پر سلسلہ وار اس حوالے سے لکھیں گے۔

عمران خان جب 2011ء کے بعد "اچانک مشہور" ہوگئے اور موقع پرست سیاست دان جوق در جوق ان کی "انصاف" پارٹی میں انصاف کی تلاش میں آنے لگے تو خان صاحب کو یقینِ کامل تھا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں ان کی جماعت بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر ملک کی کایا پلٹ دے گی۔ مگر جو ہوا وہ خان صاحب کے لیے حیران کن بھی تھا اور تکلیف دہ بھی۔ حکومت نون لیگ نے بنائی اور کم از کم جیسے تیسے کرکے بجلی کے شدید تر بحران سے عوام کی جان چھڑائی۔ کیسے؟ یہ اسحاق ڈار نے اپنی حکمت عملی سے کام کیا اور عوام کا غصہ ٹھنڈا کیا۔ یہی سیاسی حکمت ہے۔ اس کے ما بعد اثرات پر البتہ نون لیگ کی حکومت نے یکسوئی سے کام نہ کیا، جس کا خمیازہ نون لیگ اور پوری پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ نون لیگ کے عہد میں جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی تھیں تو عمران خان اپنا مشہور جملہ ہر چینل پر دہراتے تھے کہ جب 47 روپے کا پیٹرول 65 روپے میں ملے تو سمجھ لیں کہ آپ کا وزیراعظم کرپٹ ہے۔ سوشل میڈیا کی ایجاد نے عوام کی یادداشت کو تازہ کیا ہوا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ میں آتے ہی ٹیکس نیٹ کو بڑھاوں گا، بڑے مگرمچھوں کو پکڑوں گا اور عام آدمی کو ریلیف دوں گا۔

جذبات انسانی حیات کی پہچان ہیں، مگر گاہے انسان جذبات کی رو میں بہہ کر کیا سے کیا کہہ جاتا ہے۔ میری نظر میں ایک لیڈر کو جذباتی نہیں ہونا چاہیئے، ورنہ نقصان لیڈر کے ساتھ ساتھ پوری قوم کا ہوتا ہے۔ ٹرمپ اور عمران خان کی مثال ہمارے سامنے ہے، دونوں میں قدرِ مشترک جارحیت اور جذباتیت ہے۔ میں چونکہ عام آدمیوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہوں، لہٰذا اصل رائے ان ہی کی ہوتی ہے، جو ملک کی کثیر آبادی ہے، اسلام آباد اور دیگر محل سرائوں میں ناشتے اور برگر کھانے والے اپنے اور اپنے اپنے خاندان کے مفادات کا پہلے سوچتے ہیں، کک بیکس لیتے ہیں اور اپنے فرنٹ مینوں کو نوازتے ہیں۔ عمران خان اور ان کے لائق فائق سابق وزیر خزانہ ہر شام ٹی وی پر بیٹھ کر ملکی مسائل منٹوں میں حل کر دیا کرتے تھے۔

 مراد سعید کا کہنا تھا کہ ایک دن عمران خان وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے تو دوسرے دن بیرون ملک پاکستانی دو ارب ڈالر پاکستان بھجوا دیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس بار عمران خان اور ان کی ٹیم پر وہ اعتماد نہیں کیا، جس کی انہیں تمنا تھی۔ اس ناامیدی کا بدلہ حکومت نے عام آدمی سے لینے کا فیصلہ کیا۔ آٹا، دال چینی، سیمینٹ، سریا، ادویات، غرض ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے، کہیں پر بھی پرائس کنترول کمیٹیاں نہیں ہیں۔ ڈالر کنٹرول میں نہیں آرہا اور وزیراعظم صاحب اب بھی اپوزیشن کے لہجے میں کہتے ہیں کہ ٹیکس دیں یا سزا بھگتنے کے لیے تیار ہو جائیں، جب وہ اس لہجے میں بات کر رہے ہوتے ہیں تو ان کا مخاطب عام آدمی ہوتا ہے۔ ٹیکس نیٹ میں کتنا اضافہ ہو؟ حکومت نے اس حوالے سے کیا اقدامات کیے؟ انہی غریبوں پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جو ماچس کی ڈبیا پر ٹیکس دیتے ہیں، حالانکہ وہ سیلز ٹیکس ہوتا ہے، لیکن سیلز مین کنزیومر سے لے رہا ہوتا ہے۔

ریاستِ مدینہ کا "سلوگن" بھیجنے کے بجائے عمران خان ریونیو بڑھانے کے لیے دیگر سنجیدہ اقدامات اٹھائیں، جس سے عام آدمی مثاثر نہ ہو، بلکہ بڑے بڑے ارب پتی، شوگر ملز مالکان اور دیگر بڑے کاروباری طبقات اپنا پیسہ مارکیٹ میں لائیں۔ ایک بینکر دوست مجھے بتا رہے تھے کہ ایمنسٹی سکیم کے تحت ایک شخص نے کوئی 16/17 کروڑ روپے جون کے تیسرے ہفتے میں جمع کرائے، قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد چوتھے ہفتے میں وہ رقم نکلوا کر بیرون ملک ٹرانسفر کر دی۔ اس حوالے سے حکومت نے کوئی پالیسی بنائی؟ حکومت اگر صرف گدی نشینیوں کو پابند کر دے بلکہ کسی غیر ملکی فرم سے چھوٹی بڑی گدیوں کا آڈٹ کرائے، ان پیروں، عاملوں کے اثاثوں کی چھان بین کرائی جائے تو ملک کا آدھا قرضہ اتر جائے گا۔ بخدا اگر صرف پنڈی اسلام آباد کی تین چار بڑی گدیاں، قوالوں پر نذرانے اتارنے کے بجائے سالانہ بیس بیس کروڑ روپیہ قومی خزانے میں جمع کرائیں تو ملکی معیشت سنبھل جائے گی۔

اگر چھوٹے بڑے سارے پیر، عاملین اپنے اپنے مریدین کو حکم دیں کہ ہر مرید ایک سو روپیہ قومی خزانے میں جمع کرائے، نیز مدارس والے اپنے چندوں کا کچھ حصہ بھی خزانے میں جمع کرائیں تو ملکی معیشت پر بوجھ کم ہو جائے گا۔ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ کیا شاہ محمود قریشی، صمصام بخاری اور تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں میں بیٹھے وڈیرے اور گدی نشین ایسا کوئی بل اسمبلی سے پیش ہونے دیں گے؟ ان کا تو سارا دھندہ ہی نذرانوں پر چلتا ہے۔ ہر عامل، ہر پیر تیسرے چوتھے ہفتے لندن چلا جاتا ہے کہ مریدوں نے بلایا ہے۔ اگر ایف بی آر والے ان کے ٹیکس ریٹرن کا آڈٹ کریں تو لگ پتہ جائے۔ حکومت الٹا انہیں ہی نان فائلر کہہ رہی ہے، جو صدیوں سے جبری ٹیکس کی چکی میں پس رہے ہیں، "کبھی بہ حیلہء مذہب کبھی بنام وطن" بارِ دگر عرض ہے اگر ملک کے گدی نشینوں اور مدارس والوں کو براہِ راست ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر جمع نہ ہو جائیں۔ اس کے لیے خواہ ایگزیکٹو آرڈر ہی کیوں نہ پاس کرنا پڑے۔
خبر کا کوڈ : 805668
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب