0
Friday 19 Jul 2019 14:57

بھارت، خواتین اور اطفال کیخلاف بڑھتے جرائم

بھارت، خواتین اور اطفال کیخلاف بڑھتے جرائم
رپورٹ: جے اے رضوی

بھارت میں حالیہ عرصہ کے دوران خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر قومی دارالحکومت نئی دہلی میں اِس قسم کے زیادہ واقعات پیش آرہے ہیں جس کے خلاف سخت احتجاج کے نتیجہ میں بی جے پی کی حکومت سخت انسداد عصمت ریزی قانون منظور کرنے پر مجبور ہوگئی ہے لیکن اس سخت قانون کی منظوری کے باوجود خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی تعداد میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ اس کے برخلاف اضافہ دیکھا گیا۔ صرف نئی دہلی ہی نہیں بلکہ بھارت کے تمام شہروں، قصبوں یہاں تک کہ دیہاتوں سے بھی عصمت ریزی، اجتماعی آبروریزی اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعدد واقعات منظرعام پر آئے ہیں۔ بعض واقعات تو اتنے گھناؤنے تھے جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ کئی بدبخت افراد کے ذریعہ اپنی اولاد کا جنسی استحصال کرنے کی اطلاعات بھی منظرعام پر آئیں جس سے انسانیت کا سر شرم سے جھک گیا۔

ان واقعات میں اضافہ سے ظاہر ہوگیا کہ اس قسم کے واقعات کا انسداد سخت قوانین کی منظوری یا نفاذ سے ناممکن ہے۔ اِن واقعات کے انسداد کے لئے درحقیقت انسانی ذہنیت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں تعلیمی ادارے، فلاحی و سماجی ادارے، محلہ کمیٹیاں اور مدارس اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ نوجوانوں کی ذہن سازی، ان اداروں کی ہی ذمہ داری ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب اسکولوں کے تعلیمی نصاب میں ایک مضمون دینیات اور اخلاقیات کا ہوا کرتا تھا۔ پھر یہ مضمون نصاب سے خارج کردیا گیا جس کے نتیجہ میں نہ صرف معاشرہ میں اخلاقی انحطاط پیدا ہوا بلکہ خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے واقعات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا۔ یہ درست ہے کہ ایسے واقعات میں اضافہ کا ذمہ دار صرف یہی ایک عنصر نہیں ہے بلکہ دیگر کئی عناصر بھی اِن کے پیچھے کارفرما ہیں۔

معاشرہ کے اس اخلاقی انحطاط میں عصری ٹکنالوجی کے تین ذرائع کا انتہائی اہم کردار ہے۔ ان تینوں آتش فشاں پہاڑوں میں سے ایک انٹرنیٹ، دوسرا ٹیلی ویژن چینلز اور تیسرا اشتہارات ہیں۔ انٹرنیٹ بے شک معلومات کا ایک خزانہ رکھتا ہے لیکن انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ ہر مفید شئی کو غلط استعمال کا طریقہ بھی ڈھونڈ نکالتا ہے۔ چنانچہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والے نوجوان اُن سے تعلیمی استفادہ کرنے کے بجائے فحش اور عریاں مواد کے مشاہدے کے لئے اس کا استحصال کر رہے ہیں۔ ٹیلی ویژن جب سے تجارتی مسابقت کا میدان بن گیا ہے ہر چینل اپنے پروگراموں کو زیادہ سے زیادہ پُرکشش بنانے کے لئے ایسے پروگرام پیش کر رہا ہے جن کا مشاہدہ پورا خاندان ایک ساتھ بیٹھ کر کرنے میں جھجھک محسوس کرتا ہے۔ گلوبلائزیشن اور فراخدل معیشت کے نئے فتنوں نے اشتہارات کے شعبہ میں بھی منفی مسابقت پیدا کردی ہے اور اشتہارات بھی جسم کی زیادہ سے زیادہ نمائش کررہے ہیں۔ اس پر بھی توجہ دینے اور اس کا علاج تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر حکومتی سظھ پر بھی روک لگائی جاسکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 805673
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے