0
Thursday 18 Jul 2019 07:59

دور حاضر کے نئے صدام

دور حاضر کے نئے صدام
اداریہ
سن اسیّ کا عشرہ اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا۔ بعض اتفاقات و واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے لگے، اگرچہ بظاہر ان کا آپس میں کوئی جوڑ نظر نہیں آتا۔ جولائی 1977ء میں پاکستان آمریت کا شکار ہوتا ہے اور جنرل ضیاء الحق ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کو ختم کرکے مارشل لا نافذ کر دیتے ہیں، اسی دوران فروری 1979ء میں ایران کا اسلامی انقلاب کامیاب ہو جاتا ہے اور ایران پر مسلط ایک قدیم شہنشاہیت اور آمریت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے ہمسائے میں واقع ملک افغانستان میں اسی سال سویت یونین کی فوجیں حملہ کرکے افغانستان میں داخل ہو جاتی ہیں۔ ابھی ان تبدیلیوں پر بات چل رہی ہوتی ہے کہ عراقی ڈکٹیٹر صدام اسلامی جمہوریہ ایران کے نوخیز انقلاب کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ایران پر حملہ کر دیتا ہے۔ ان سب واقعات کی کڑیاں ملائی جائیں تو ایک بات مشترکہ طور پر سامنے آتی ہے کہ ان سب واقعات میں امریکہ براہ راست ملوث نظر آتا ہے۔ امریکہ کی اس براہ راست مداخلت میں امریکی ڈپلومیسی کی بجائے امریکی ہتھیاروں کی ان ممالک میں ریل پیل نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے۔

سویت یونین کا افغانستان میں مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو استعمال کیا جاتا ہے اور عربوں کے پیٹرو ڈالر سے امریکی ساخت کا اسلحہ پاکستان کے ذریعے افغانستان پہنچتا ہے۔ ادھر ایران پر حملے میں شدت لانے کے لئے صدام کو امریکی ہتھیار فراہم کئے جاتے ہیں۔ صدام اور افغانستان کے حوالے سے ایک چیز جو مشترک نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ دونوں کو امریکی ساخت کے ہتھیار دیئے جاتے ہیں اور ان ہتھیاروں پر اٹھنے والی رقم کی ادائیگی عرب ممالک کی طرف سے کی جاتی ہے۔ امریکہ بھی ہتھیاروں کی سپلائی کی صورت میں کچھ خرچ ضرور کرتا ہے، لیکن اس سود اور منافع سے جو ہتھیاروں کے ان بڑے سودوں میں اسے وصول ہوتا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ میں صدام کو ہر طرح کی مالی، سیاسی، سفارتی، اسلحہ جاتی اور انٹیلی جنس کے میدان میں بھرپور حمایت کی جاتی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ایران کو خاردار تار بھی درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آج ایک بار پھر اسی تاریخ کو دہرایا جا رہا ہے۔

ایران کے حوالے سے ایرانو فوبیا کا ماحول بنا کر خطے کے عرب ممالک کو جس طرح امریکی، فرانسیسی اور برطانوی ہتھیار فروخت کئے جا رہے ہیں، اس کی کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ہتھیاروں کی اس دوڑ میں سب سے زیادہ نقصان خطے کے ممالک کو ہو رہا ہے۔ لیکن سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین سمیت خلیج فارس کے بعض ممالک بغیر سوچے سمجھے یورپ سے ہتھیار خرید کر امریکی ہتھیاروں کی مردہ صنعت کو نئی زندگی دے رہے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اسی تناظر میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ادھر ادھر کی ہانکنے کی بجائے نئے صداموں کو اسلحے کی فروخت کا سلسلہ بند کرے۔ بلا شک و شبہ خطہ ایران عراق جنگ کی طرح کسی طویل جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ امریکی و یورپی ہتھیاروں کی اس دوڑ اور ریل پیل کو روکنا ہوگا، ورنہ خطے کے ممالک کے حصے میں نقصان اور بربادی کے علاوہ کچھ نہں آئے گا۔
خبر کا کوڈ : 805688
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے