0
Friday 19 Jul 2019 08:10

حافظ سعید، ڈونالڈ ٹرامپ اور عمران خان

حافظ سعید، ڈونالڈ ٹرامپ اور عمران خان
اداریہ
پاکستان کے وزیراعظم امریکہ یاترا کے لیے تیار ہیں، جہاں ان کی ملاقات صدر ڈونالڈ ٹرامپ سے ہونی ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ دونوں اس بات کی تیاریوں کے سلسلے میں مختلف اقدامات انجام دے رہی ہیں، ان تیاریوں میں سے ایک پاکستان کے معروف مذہبی رہنما اور ہندوستان کی نگاہ میں دہشت گردوں کے سرغنہ حافظ سعید کی گرفتاری ہے۔ حافظ سعید کی سرگرمیوں کے مثبت یا منفی ہونے کے مسئلے کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک عام پاکستانی شہری کی حیثیت سے ان کی گرفتاری پر جب غور و خوض کیا جاتا ہے تو کئی پرانی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ طالبان کی تشکیل میں پاکستان اور امریکہ کا کردار کسی سے پوشیدہ نہین، لیکن ایک موقع ایسا بھی آیا، جب پاکستان نے جنرل مشرف کے زمانے میں طالبان کے لیڈروں کو چن چن کر امریکہ کے حوالے کیا، جن میں طالبان کے کئی اعلیٰ سطح کے حکومتی حکام اور سفارتکار بھی شامل تھے۔ ان کے ساتھ جو غیر اخلاقی سلوک کیا گیا، وہ بھی کتابوں میں آگیا ہے۔

اب پھر اسی تاریخ کو دہرایا گیا اور حافظ سعید کو گرفتار کرکے امریکہ کو پیغام دیا گیا کہ جنرل مشرف کی طرح موجودہ حکمران بھی امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوئی بھی قربانی دے سکتے ہیں۔ حافظ سعید کی گرفتاری پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے ٹویٹ نے مزید حیران کر دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ دس سال کی تلاش کے بعد ممبئی حملوں کے نام نہاد ماسٹر مائنڈ کو پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی صدر کے ٹویٹ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا کالعدم جماعت الدعواۃ کے امیر گذشتہ دس سالوں سے روپوش تھے اور پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیاں اس کو تلاش کر رہی تھیں اور اب وہ گرفتار ہوگئے ہیں۔ صدر ٹرامپ کی یہ بے خبری جہاں اس کی پاکستانی سیاست میں عدم دلچسپی کا مظہر ہے، وہاں حافظ سعید کو قربانی کو بکرا بنانے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ تم جس کو گرفتار کرکے امریکی صدر سے ملاقات کو کامیاب بنانا چاہتے ہو، اس کے بارے میں امریکی صدر کی معلومات کس قدر کم ہیں۔

وزیراعظم عمران خان امریکی صدر سے ملاقات کو کامیاب بنانے کے لیے جو جتن کر رہے ہیں، وہ ان کے نعروں اور شخصیت کے خلاف ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ ایک منہ پھٹ انسان ہیں، انہیں اگر اس بات کا احساس ہوگیا کہ پاکستان دبائو قبول کرنے پر آمادہ ہے تو اس نے اگر عمران خان سے ریاست مدینہ کے تصور سے پیچھے ہٹنے کا کہہ دیا تو پاکستانی وزیراعظم کیا جواب دیں گے۔؟ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے چند دن پہلے ایک خطاب میں سامراجی طاقتوں کے انداز سیاست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ طاقتیں مخالف پر پہلے مرحلے میں بھرپور دبائو ڈالتی ہیں اور اگر حریف دبائو قبول کر لے تو ان کا دبائو بڑھتا ہی رہتا ہے، لیکن اگر مخالف اپنے موقف پر ڈٹ جائے تو سامراجی طاقتیں ڈھیر ہو جاتی ہیں۔ بہرحال عمران خان کے پاس دونوں آپشنز کھلے ہیں، امریکی دبائو کا انکار کرکے انہیں ڈھیر بھی کرسکتے ہیں اور دبائو قبول کرکے ماضی کے حکمرانوں کی روش کو بھی اختیار کرسکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 805736
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے