0
Friday 19 Jul 2019 21:52

بھارت کی ریاستی دہشتگردی عالمی سطح پر ثابت

بھارت کی ریاستی دہشتگردی عالمی سطح پر ثابت
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزاء سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے، ایک جانب ہندوستان نے اسے اپنی فتح قرار دیا ہے تو دوسری طرف پاکستان نے عالمی عدالت کے اس فیصلہ کو اپنے موقف کے حق میں قرار دیا۔ درحقیقت عالمی عدالت نے بھارت کی صرف اس درخواست کو قبول کیا کہ کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دی جائے اور پاکستان کی ملٹری عدالت سزاء کے فیصلہ پر نظرثانی کرے۔ واضح رہے کہ ہندوستان نے عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے یہ درخواست کی تھی کہ پاکستان کو کلبھوشن کی سزاء ختم کرنے، اسے رہا کرنے اور واپس بھارت بھیجنے کا حکم دیا جائے۔ عالمی عدالت نے نہ تو کلبھوشن کی سزاء ختم کرنے کا حکم دیا، نہ اسے رہا کرنے، نہ ہی بھارت واپس بھیجنے کی بات کی اور ان الزامات کو مسترد کیا، جو کہ کلبھوشن پر دہشتگردی اور جاسوسی کے حوالے سے عائد کرتے ہوئے اسے سزاء سنائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ کلبھوشن سدھیر یادو کو بلوچستان میں رنگے ہاتھوں جاسوسی کرتے ہوئے 3 مارچ 2016ء کو ایک آپریشن میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کلبھوشن یادو نے گرفتاری کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی را سے وابستگی اور کراچی و بلوچستان میں خفیہ تخریب کاری کا بھی اعتراف کیا۔
 
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی بحریہ کا حاضر سروس جوان کلبھوشن سدھیر یادو گرفتاری کے وقت را کے لئے کام کر رہا تھا۔ 2003ء سے وہ جاسوسی کے نیٹ ورک سے جڑا ہوا تھا۔ اس کے قبضے سے اسی نام کے ساتھ کئی جعلی دستاویزات بھی برآمد ہوئیں، جن میں جعلی پاسپورٹ بھی شامل تھا۔ اس جعلی پاسپورٹ پر اس کا نام حسین مبارک پٹیل تھا، جنم بھومی مہاراشٹرا میں ہے۔ خود کو مسلمان ظاہر کرنے کیلئے بھارت میں ہی کسی ماہر ڈاکٹر سے بنوائی تھی۔ ’’پلاسٹک سرجری‘‘ بھی کروائی ہوگی۔ گرفتاری کے وقت اس کا لیپ ٹاپ بھی پاکستانی انٹینوں کے ذریعے کام کر رہا تھا۔ پاکستانی ادارے اس کے فون کی مانیٹرنگ کر رہے تھے، وہ مزے سے اپنے خاندان کے ساتھ مراٹھی زبان میں ہیلو ہائے کر رہا تھا۔ پاکستانی اداروں کے مطابق کلبھوشن نے 2013ء سے ہی پاکستان میں اپنی تخریب کاری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس وقت کے وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کے مطابق وہ انتہاء پسندوں سے رابطے میں تھا، بلوچستان میں فرقہ پسندی اسی نے پھیلائی۔ کراچی میں بے چینی کا ذمہ دار بھی وہی تھا، وہ علیحدگی پسندوں کو تربیت دیتا رہا اور اس کا مقصد گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو تخریب کاری کے ذریعے نقصان پہنچانا تھا۔ دوران تفتیش اس نے فنڈنگ کی تفصیلات اور ذریعے کا بھی اعتراف کیا۔
 
معلوم ہوا ہے کہ 16 اپریل 1970ء کو پیدا ہونے والا کلبھوشن یادو 1987ء میں بھارتی فوج میں بھرتی ہوگیا تھا، 1991ء میں بحریہ میں کمیشن حاصل کیا۔ 14 سالہ سروس کے بعد 2003ء میں اسے خفیہ سروس میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔ کمانڈر رینک کے اس افسر نے گرفتاری کے بعد اپنے گناہوں پر پردہ نہیں ڈالا بلکہ انہیں مان گیا۔ وہ 14 سال سے جاسوسی اور تخریب کاری میں ملوث تھا۔ اسی لئے اس کی گرفتاری کے بعد تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی۔ اس کے اقبالی بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی ملٹری عدالت نے جاسوسی کا نیٹ ورک چلانے پر اسے 10 اپریل 2017ء کو سزائے موت سنا دی۔ بھارت 18 مئی 2017ء کو عالمی عدالت انصاف سے سزائے موت کے خلاف عبوری حکم امتناعی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ عالمی عدالت میں بھارت نے اسی مؤقف کا اعادہ کیا کہ کلبھوشن کو پاکستان نے ایرانی سرحد سے گرفتار کیا، مگر اپنے دلائل کے حق میں کسی قسم کی فوٹیج یا کوئی تکنیکی ثبوت پیش نہ کرسکا۔ البتہ بھارت نے اسے سابق افسر مان لیا۔ سابق بھارتی وزیر خارجہ نے یادو کے بحریہ سے سابقہ تعلق کا اعتراف کیا۔ یاد رہے کہ پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ وہ قونصلر رسائی کا مستحق نہیں اور نہ ہی کبھی یہ کہا کہ وہ قونصلر رسائی نہیں دے گا۔
 
عالمی عدالت کے فیصلہ کو دیکھا جائے تو اس میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ کلبھوشن بے قصور ہے، جاسوس و تخریب کار نہیں، اس کی سزاء عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بلکہ اس فیصلہ نے یہ مہر ثبت کر دی ہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس اور پاکستان میں غیر قانونی و تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ عالمی عدالت کے فیصلہ پر بغلیں بجانے والی بھارتی سرکار درحقیقت عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھا کر خود پھنس گئی ہے۔ اب اس عالمی سطح پر ہونے والی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں بھارتی میڈیا اپنی حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔ اس عدالتی فیصلہ میں پاکستان سے یہ سفارش ضرور کی گئی ہے کہ سزاء پر نظرثانی کی جائے، تاہم کسی قسم کا عدالتی حکم نہیں ہے۔ البتہ قونصلر رسائی کا حکم ضرور دیا گیا ہے، جسے پاکستان نے کبھی مسترد نہیں کیا۔ عدالتی فیصلہ اس طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں کی جانے والی تخریبی و دہشتگردانہ سرگرمیوں کو ہندوستانی سرکار کی سپورٹ حاصل تھی، یوں عالمی سطح پر پاکستان پہلی مرتبہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوا ہے کہ بھارت دوسرے ممالک میں دہشتگردی میں ملوث رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 805883
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے