0
Saturday 20 Jul 2019 07:59

ساکھ اور دھاک کا مسئلہ

ساکھ اور دھاک کا مسئلہ
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے عین اس وقت جب ایران نے خلیج فارس میں تیل اسمگل کرنے والے ایک غیر ملکی بجری جہاز کو اپنے قبضے میں لیا، ایک ٹوئیٹ میں خلیج فارس میں ایران کا ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کر دیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ڈونالڈ ٹرامپ کے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اپنے اس ڈرون طیارے کی فوٹیج جاری کر دی، جس میں یہ ایرانی ڈرون امریکی بحری جہاز کی مطلوبہ تصاویر لے کر بحفاظت اپنے اسٹیشن پر واپس پہنچا ہے۔ امریکی صدر کے ٹوئیٹس تو مشہور ہیں ہی، لیکن اتنے حساس مسئلے پر یہ دعویٰ کسی دیوانے کی بڑ سے زیادہ نہیں، جس نے امریکہ کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ آج کی جدید دنیا میں سیٹلائٹ سسٹم کی وجہ سے پوری دنیا یک ٹی وی اسکرین پر آچکی ہے۔ امریکی صدر کو بیان سے پہلے ایرانی ڈرون طیارے کے مار گرائے جانے اور اس کے ملبے کو میڈیا پر دکھانا چاہیئے تھا، جیسا کہ ایران نے امریکی ڈرون کے ملبے کو سب کے سامنے پیش کیا تھا۔ امریکہ نے یہ کام نہ کرکے اپنی دھاک کو بھی مشکوک بنا دیا۔

امریکی صدر اور ان کی ٹیم اس وقت شدید دبائو کا شکار ہے، ایک طرف تو ایران نے اس کا ڈرون طیارہ گرا کر اپنی طاقت اور عزم کا اطہار کر دیا ہے، دوسری طرف امریکہ ابھی تک بلند بانگ دعووں کے باوجود کوئی جوابی کارروائی انجام نہیں دے سکا ہے۔ اوپر سے ایران نے خلیج فارس کے اندر ایک غیر ملکی بحری جہاز کو روک کر ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ خلیج فارس کے اندر وہ اپنی حدود میں کسی کو بھی پر مارنے کی اجازت نہیں دے گا۔ امریکہ اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتا ہے، ایک زمانہ تھا کہ امریکی جنگی جہاز امریکہ سے روانہ ہوتا تھا تو امریکہ مخالف حکومتیں تبدیل ہو جاتیں اور امریکی جنگی بیڑے کے ڈر سے امریکہ مخالف حکمران یا تو اقتدار سے علیحدہ ہو جاتے یا واشنگٹن کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے۔ آج امریکہ، دھونس، دھمکی اور حملے کے کھلے اعلان کر رہا ہے، لیکن ایران ٹس سے مس نہیں ہو رہا ہے۔

آج تمام غیر جانبدار تجزیہ کار بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ایران کے اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومت نے امریکہ کی ساکھ اور دھاک دونوں کو ختم کر دیا ہے۔ امریکہ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا ہے اور خطے میں اس کے حامی ممالک کے حکمرانوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔ اسی طرح امریکہ اپنی دھاک بٹھانے کے لیے کبھی ابراہم لنکن نامی جدید ہتھیاروں سے لیس جنگی بیڑا خلیج فارس میں بھیجنے کا اقدام کرتا ہے اور کبھی ایران کے ڈرون طیارے کو مار گرائے جانے کے جھوٹے دعوے کرتا ہے۔ امریکہ اپنی ساکھ بھی کھو چکا ہے اور ماضی کی دھاک سے بھی محروم ہوچکا ہے۔ اب وہ وقت دور نہیں جب نہ امریکہ کی دھمکیوں سے کوئی خوف زدہ ہوگا اور نہ اس کی طاقت سے کوئی مرعوب ہو کر اس کی ڈکٹیشن قبول کرے گا، البتہ اس کے لیے ایرانی قیادت جیسی خود اعتمادی اور ایرانی عوام جیسا عزم بالجزم ضروری ہے۔
خبر کا کوڈ : 805943
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے