0
Sunday 21 Jul 2019 08:01

بحری جہاز رانی کے بین الاقوامی قوانین کا نفاذ

بحری جہاز رانی کے بین الاقوامی قوانین کا نفاذ
اداریہ
خلیج فارس میں ایک غیر ملکی آئل ٹینکر کے ایرانی فورس کے ہاتھوں پکڑے جانے کی خبر ابھی عالمی میڈیا میں گردش کر رہی تھی کہ ایران کے سپاہ پاسداران کے بحریہ کے یونٹ نے ایران کے جنوبی علاقے آبنائے ہرمزگان میں برطانوی آئل ٹینکر (Stena Imper) کو بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی بدولت اور صوبے ہرمزگان کے شیپنگ اینڈ پورٹس کے ادارہ کی درخواست کی وجہ سے اپنی تحویل میں لے لیا۔ ہرمزگان کے پورٹس اینڈ سمندری معاملات کے ڈائریکٹر جنرل نے میڈیا کو بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں برطانوی آئل ٹینکر کو حراست میں لینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے راستے میں پیش آنے والے بعض واقعات کا باعث بنا۔ برطانوی آئل ٹینکر کو حراست میں لینے کی یقیناً کوئی وجہ ہوگی، کیونکہ یہ کسی بھی ملک کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی سرحدون کے قریب کسی ایسے جہاز کو جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو، اپنی حراست میں لے کر اس کی تلاشی لے سکتا ہے۔

خلیج فارس کا سمندری علاقہ اپنی جغرافیائی حیثیت بالخصوص تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کی وجہ سے ہمیشہ حساس رہا ہے اور آج کل تو امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی وجہ سے حساسیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج خلیج فارس میں انتہائی کشیدہ ماحول ہے، جہاں کسی بھی وقت جنگ کی چنگاری شعلہ میں بدل سکتی ہے۔ امریکہ دنیا بھر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں اپنے مذموم اہداف کے حصول کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے۔ اس میں ایک منفی حربہ ایران کی تیل کی سپلائی کو روک کر ایران پر زیادہ سے زیادہ دبائو کی پالیسی کو عملی بنانا ہے۔ خلیج فارس کا 1800 کلومیٹر کا ساحل ایران سے لگتا ہے، جس پر ایران کے تیس کے لگ بھگ آباد و غیر آباد جزیرے موجود ہیں۔ ایران ماضی میں بھی اور اب بھی خلیج فارس بالخصوص آبنائے ہرمز کی سلامتی کا اصل ذمہ دار ہے۔ آبنائے ہرمز سے عبور کرنے والے آئل ٹینکروں اور اس حساس سمندری علاقے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ایران کا قانونی حق اور بنیادی دفاعی ضرورت بھی ہے۔

ایران اپنی زمینی، ہوائی سرحدوں کی طرح اپنی سمندری سرحدوں کو بھی محفوظ رکھنے کا ذمہ دار ہے، یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کے آئل ٹینکرز نے جونہی آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی ماہی گیری کے جہاز کو ٹکر ماری، ایرانی فورسز نے فوری ردعمل کا اظہار کیا اور اس سمندری روٹ کو پرامن کرنے کے لیے برطانوی آئل ٹینکر کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایران نے اس اقدام سے علاقے اور مشرق وسطیٰ کے داخلی امور میں مداخلت کرنے والی بیرونی طاقتوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ ایران اپنی زمینی، فضائی اور سمندری حدود کے دفاع کے لیے کسی بھی طرح کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں، اگر ڈرون طیارہ فضائی سرحدی حدود کو عبور کرے گا تو اسے لمحوں میں گرا دیا جائے گا اور اگر کسی بحری جہاز نے سمندری حدود کی معمولی سی خلاف ورزی کی تو اسے بھی کسی طرح کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اسی تناظر میں ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ آبنائے جبل الطارق میں ہونے والی سمندری ڈکیتی کے برخلاف خلیج فارس میں برطانوی آئل ٹینکر کو روکنے کا ایرانی اقدام بجری جہاز رانی کے بین الاقوامی قوانین کا نفاذ ہے۔
خبر کا کوڈ : 806100
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے