0
Sunday 21 Jul 2019 19:48

سفر عشق

سفر عشق
تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

 انسان کے لئے بعض مواقع ایسے آتے ہیں، جن میں وہ صحیح معنوں میں خدا کی خوشنودی اور قرب  کو حاصل کر سکتا ہے اور یہی ہر انسان کی دلی تمنا ہوتی ہے۔ ہر انسان فطرتا نیک اور خدا جو ہوتا ہے لیکن زمانے اور حالات کے سبب انسان اپنے خالق حقیقی کو فراموش کر لیتے ہیں، لیکن زندگی کے کسی موڑ پر جب اسے ہوش آ جاتا ہے تو وہ یہ جان چکا ہوتا ہے کہ خدا کے سوا اس کا کوئی نہیں۔ انسان کی  شروع سے ہی یہی کوشش  رہتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقہ سے خدا کی خوشنودی حاصل کرے اور اعمال و عبادات کے ذریعہ اپنے خالق کے حضور بڑا مقام حاصل کر لے۔ اللہ تعالی نے بندوں کے لئے کچھ عبادات فرض کی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ ان عبادات کے ذریعہ بلند مقام و مرتبہ پر فائز ہو۔ ہر عبادت کا اپنا خاص وقت اور زمانہ معین ہے۔ کچھ عبادات یومیہ ہے اور کچھ عبادات ایسی ہیں جو سال میں ایک دفعہ صاحب استطاعت انسانوں کے لئے بجا لانا ضروری ہیں۔ اس عظیم اجتماعی عبادت کا نام حج ہے۔ حج کی اہمیت کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں، خدا را اپنے پرودگار کے گھر کے بارے میں جب تک زندہ ہو توجہ سے کام لو اور اسے خالی نہ چھوڑو کیونکہ اگر حج ترک کر دیا گیا، تو خدا تمہیں مہلت نہیں دے گا۔

حج اصل میں تمام پابندیوں، مصروفیتوں اور وابستگیوں سے دامن کش ہو کر اپنی فطرت کی جانب ہجرت اور بازگشت کا نام ہے، لیکن انسان کو اس کی زندگی کے معمولات، جھوٹی سچی ضرورتیں، طرح طرح کی مشغولیات اور علاقائی صورتحال اس کے بنیادی مقصد اور الٰہی وظائف سے روکتی ہیں اور اسے اس کے اصل اور اس کے سچے وطن سے دور کر دیتی ہے۔ حج تمام مسلمانوں کے عمومی اجتماع میں حاضری اور ان لوگوں سے خدا پسند ملاقات کا نام ہے، جو ایک دین کو مانتے ہیں اور خدائے واحد کی عبادت کرتے ہیں۔ میقات میں حاضر ہونا، لبیک کا ورد کرنا، طواف، نماز، سعی، تقصیر اور ساتھ ہی عرفات، مشعر اور منی میں قیام اور قربانی پیش کرنا یہ سب ایسی منزلیں ہیں، جن میں ہزار ہا رموز پوشیدہ ہیں۔ چھوٹی چھوٹی فکریں اور محدود مفادات مسلمانوں کے اس عظیم اور عالمی اجتماع میں اپنا وجود کھو دیتے ہیں اور ان کی جگہ عمومی اور وسیع طرز فکر پیدا ہو جاتی ہے۔ حاجی اس ابراہیمی حج میں شریک ہونے کے ساتھ ہی انبیاء و مرسلین کی تاریخ سے جڑ جاتا ہے اور اپنی تاریخ حثیت و وجود کی بازیافت کرتا ہے۔ لبیک اللہم لبیک کی مقدس آواز اسے اپنے کئے ہوئے دیرینہ عہد اور میثاق فطرت کی یاد دلاتی ہے۔

انسان احرام کا سفید جامہ پہن کر خود خواہی، خود نمائی، دنیا کی لذتوں اور ناپسندیدہ عادات اور اطوار سے آزاد ہو کر خدا سے قریب ہو جاتا ہے اور حمد و ستایش اور نعمت و قدرت کو خدا ہی سے مخصوص سمجھتا ہے۔ خدا کے حکم اور اس کی خوشنودی کے لئے جگہ جگہ ٹہرنا اور چل پڑنا انسان کو ابراہیمی زندگی کی راہ سکھاتا ہے۔ قربانی پیش کرتے ہوئے وہ حرص و آرزو کے گلے پر بھی چھری پھیرتا ہے اور دوبارہ طواف خانہ خدا کے لئے روانہ ہو جاتا ہے۔ رمی، جمرات یعنی منی میں چھوٹے بڑے شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہوئے، وہ ہر طرح کے شرک اور شیطانی وسوسوں سے اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ حج کی غرض و غایت چند خاص مقامات کی صرف زیارت ہی نہیں بلکہ اس کی پشت پر ایثار، قربانی، محبت اور خلوص کی ایک درخشان تاریخ موجود ہے۔ حضرت ابراہیم، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام جیسے عظیم ہستیوں کے خلوص و عزمیت کی بےمثال داستان ہے۔ حج ایک جامع عبادت اور اس کا سب سے بڑا فائدہ گناہوں کی بخشش ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں، جو کوئی خالصتا اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں حج کرتا ہے اور دوران حج فسق و فجور سے باز رکھتا ہے، وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے گویا ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔

حج جیسی جامع عبادت میں تمام عبادات کی روح شامل ہے۔ حج کے لئے روانگی سے واپسی تک دوران سفر نماز کے ذریعہ قرب الٰہی میسر آتا ہے۔ حج کے لئے مال خرچ کرنا زکوۃ سے مشابہت رکھتا ہے۔ نفسانی خواہشات اور اخلاقی برائیوں سے پرہیز اپنے اندر روزہ کی کیفیت رکھتا ہے۔ جب ایک شخص اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر اور دنیوی دلچسپیوں سے منہ موڑ کر ان سلے کپڑوں کو اوڑھ کر لبیک اللہم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے خانہ خدا میں حاضر ہوتا ہے تو اس کا یہ سفر ایک طرح سفر آخرت کا نمونہ بن جاتا ہے۔ میدان عرفات کے قیام میں اسے وہ بشارت یاد آتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے دین اسلام کی صورت میں مسلمانوں پر اپنی نعمت نازل کی ہے۔ مقام منٰی میں وہ اس عزم کے ساتھ اپنے ازلی دشمن کو کنکریاں مارتے کہ اب اگر یہ میرے اور میرے اللہ کے درمیان حائل ہونے کی کوشش کرے گا، تو اسے پہچاننے میں غلطی نہیں کروں گا۔ جب بیت اللہ کے سامنے پہنچتا ہے تو اس کی روح اس خیال سے وجد میں آ جاتی ہے کہ اس مقدس گھر کی زیارت کے لئے آنکھیں نمناک تھیں، دل مضطرب تھا وہ نظر کے سامنے ہے۔ اللہ سے لو لگائے رکھنے کی یہ کیفیت حاجی کے لئے تسکین قلب اور روح کی مسرت کا باعث بنتی ہے۔

حج خداوند عالم کا حکم، حضرت آدم کی دیرینہ سنت اور اللہ کے خلیل، ابراہیم کا طریقہ ہے۔ حج انسان اور رحمان و رحیم خدا کے درمیان موجود وعدہ کے وفا کرنے کا مقام اور راہ ابراہیمی پر چلنے والوں کے لئے اتحاد کا مرکز ہے۔ حج شیطان اور خود پرستی سے مقابلہ، شرک سے بیزاری اور انبیاء کے راستہ سے وابستگی کا اعلان ہے۔ حج انسانوں کی عبادت کا سب سے بڑا اور پائیدار مظاہرہ ہے، حج ایک دوسرے سے آشنا ہونے کی جگہ اور عظیم امت اسلامی کے درمیاں ارتباطات و تعلقات کا مرکز اور آگہی، آزادی اور خود سازی کی تربیت گاہ ہے۔ حج قیام قیامت کا نمونہ، انسانوں کی اجتماعی حرکت کا جلوہ مرکز، دعا، عبادت اور وحی کے نزول اور قرآن کی تلاوت کا مقام ہے۔ ایام حج کوتاہ بینی اور خود محوری و غفلت اور دنیا پرستی کے جال سے نجات پانے کے لئے بہترین فرصت ہے۔ اعمال حج کا شمار عظیم ترین سیاسی و عبادی فرائض میں سے ہوتا ہے کہ اگر یہ اعمال صحیح اور عمیق آگہی اور شناخت کے ہوتے ہوئے قصد قربت و خلوص کے ساتھ انجام پائیں تو افراد اور جوامع اسلامی کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور ہوا و ہوس کے شیطان کو اندر سے اور بڑے شیطان کو اسلامی سر زمینوں سے نکل جانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اتحاد و اتفاق کا جو منظر خانہ خدا میں دیکھنے کو ملتا ہے، وہی دیگر مقامات پر بھی ہو۔ اسلام اور مسلمانوں کی خوشبختی اور کامیابی اتحاد و اتفاق میں ہی مضمر ہے اور حج اس کا بہترین نمونہ عمل ہے۔

حج ابراہیمی جو اسلام نے مسلمانوں کو ایک تحفے کے طور پر پیش کیا ہے، عزت، روحانیت، اتحاد اور شوکت کا مظہر ہے؛ یہ بدخواہوں اور دشمنوں کے سامنے امت اسلامیہ کی عظمت اور اللہ کی لازوال قدرت پر ان کے اعتماد کی نشانی ہے۔ اسلامی اور توحیدی حج، "أَشِدّاءُ عَلَى الْكُفّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ" کا مظہر ہے۔ (فتح، 29) مشرکین سے اظہار بیزاری اور مومنین کے ساتھ یکجہتی اور انس کا مقام ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای  اس عظیم عبادت اور حجاج کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ایک پیغام میں فرماتے ہیں، "قال الله تعالى، وَ أَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ يَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ"۔ "اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے کہ تیرے پاس پا پیادہ اور پتلے دبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے آئیں۔ تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لئے حاضر ہوں۔ اور (قربانی کے) ایام معلوم میں"۔ (حج، 27، 28) یہ آسمانی آواز بدستور دلوں کو بلا رہی ہے اور صدیاں اور زمانے بیت جانے کے بعد بھی انسانیت کو توحید کے محور پر جمع ہو جانے کی دعوت دے رہی ہے۔ یہ دعوت ابراہیمی تمام انسانوں کے لئے ہے اور اس اعزاز سے سب کو نوازا گیا ہے۔ اگرچہ ممکن ہے کہ کچھ سماعتیں اسے نہ سنیں اور غفلت و جہالت کی گرد تلے دبے بعض دل اس سے محروم رہیں، اگرچہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اپنے اندر اس دائمی اور عالمی ضیافت کا حصہ بننے کی صلاحیت پیدا نہ کر پائيں یا کسی بھی وجہ سے یہ توفیق انہیں حاصل نہ ہو۔ 

آپ اس نعمت سے بہرہ مند ہیں اور ضیافت الٰہی کی پرامن وادی میں وارد ہو چکے ہے۔ عرفات و مشعر و منٰی، صفا و مروہ و بیت، مسجد الحرام و مسجد نبوی، ان مناسک اور شعائر کی ہر ایک جگہ روحانیت اور روحانی ارتقا کی ایک کڑی ہے اس حاجی کے لئے جو اس توفیق کی قدر و منزلت سے آگاہ ہے اور اس سے اپنی طہارت کے لئے استفادہ کر رہا ہے اور اپنی بقیہ عمر کے لئے زاہ راہ جمع کر رہا ہے۔ ایک اہم نکتہ جو ہر صاحب فکر اور تجسس رکھنے والے انسان کو دعوت فکر دیتا ہے، وہ تمام انسانوں، تمام نسلوں کے لئے ہر سال ایک خاص جگہ اور ایک خاص وقت پر دائمی جائے ملاقات کا تعین ہے۔ وقت اور مقام کی یہ وحدت فریضہ حج کے اصلی رموز میں سے ایک ہے۔ بے شک "لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ" کا ایک نمایاں مصداق خانہ خدا کے پہلو میں امت اسلامیہ کے افراد کی یہی سالانہ ملاقات ہے۔ یہ اسلامی اتحاد کا راز اور اسلام کی امت سازی کا ایک نمونہ ہے جو بیت اللہ کے زیر سایہ ہونا چاہیئے۔ خانہ خدا کا  تعلق سب سے ہے۔ "سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ"۔  وہاں اس جگہ کا رہنے والا اور باہر والا دونوں برابر ہیں۔ (حج، 25) ہمیشہ اور ہر سال اس مقام پر، اور ایک خاص وقت پر حج اپنی زبان گویا اور صریحی منطق سے مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دیتا ہے اور یہ دشمنان اسلام کی خواہش کے بالکل برعکس ہے، جو تمام ادوار میں اور خاص طور پر دور حاضر میں، مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل محاذ آرا ہونے کی ترغیب دلاتے تھے اور دلا رہے ہیں۔ آج آپ مستکبر اور جرائم  پیشہ امریکہ کا رویہ دیکھئے۔ اسلام اور مسلمانوں کے سلسلے میں اس کی اصلی پالیسی جنگ کی آگ بھڑکانا ہے۔ اس کی خباثت آمیز خواہش اور کوشش، مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل عام، ظالموں کو مظلوموں پر مسلط کر دینا، ظالم محاذ کی پشت پناہی کرنا، اس کے ہاتھوں مظلوم دھڑے کی بے رحمی سے سرکوبی کرنا اور اس ہولناک فتنے کی آگ کو ہمیشہ شعلہ ور رکھنا ہے۔

مسلمان ہوشیار رہیں اور اس شیطانی پالیسی کو ناکام بنائیں۔ حج اس ہوشیاری کی زمین فراہم کرتا ہے اور یہی حج میں مشرکین اور مستکبرین سے اعلان برائت کا اصلی فلسفہ ہے۔ ذکر خدا حج کی روح ہے۔ اپنے دلوں کو ہم اس باران رحمت سے زندگی اور نشاط بخشیں، اور اس پر اعتماد و توکل کو، جو دراصل قوت و شکوہ اور عدل و خوبصورتی کا سرچشمہ ہے، اپنے دلوں میں گہرائی تک اتاریں۔ ایسی صورت میں ہم دشمن کی چالوں پر غلبہ حاصل کر لیں گے۔ حجاج کرام! (آپ شام، عراق، فلسطین، افغانستان، یمن، بحرین، لیبیا، پاکستان، کشمیر، میانمار اور دیگر علاقوں کے مظلوموں اور امت اسلامیہ کو اپنی دعا میں فراموش نہ کریں اور اللہ تعالی سے دعا کریں کہ امریکہ، دیگر مستکبرین اور ان کے آلہ کاروں کے ہاتھ کاٹ دے۔) آل سعود نے اسلام سے خیانت کرتے ہوئے شیطان صفت تکفیری داعشی گروہ کی مادی مدد کر کے اور انہیں وسائل سے لیس کرکے دنیائے اسلام کو خانہ جنگی میں مبتلا کر دیا ہے ۔ یمن، عراق، شام اور لیبیا اور دیگر ملکوں کے  مظلوم مسلمانوں کو خون سے نہلا دیا ہے۔ غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کی جانب دوستی کا ہاتھ پھیلایا ہے اور فلسطینیوں کے جانکاہ رنج و مصیبت پر اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں اور اپنے مظالم و خیانت کا دائرہ بحرین تک پھیلا دیا ہے۔ یمن کے مظلوم مسلمانوں کو حج جیسی عظیم اجتماعی عبادت سے محروم کر دیا ہے۔ آخر میں تمام حجاج کرام سے التماس ہے کہ وہ اسلام کی سر بلندی، مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق جبکہ ہمارے مشترکہ دشمن امریکہ و اسرائیل کی نابودی کے لئے خصوصی دعا کریں۔
خبر کا کوڈ : 806233
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب