0
Monday 22 Jul 2019 19:15

قبائلی اضلاع کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو تکبر لے ڈوبا

قبائلی اضلاع کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو تکبر لے ڈوبا
رپورٹ: ایس علی حیدر

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی 16 جنرل نشستوں کیلئے ہونے والے انتخابات میں بہت بڑا اپ سیٹ ہوا ہے، حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی بجائے آزاد امیدواروں کی کامیابی کی شرح بہت زیادہ رہی۔ 16 نشستوں میں سے آزاد امیدواروں نے واضح برتری حاصل کرکے سیاسی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 20 جولائی 2019ء کے انتخابات میں آزاد امیدواروں کے بعد پاکستان تحریک انصاف دوسرے نمبر پر رہی۔ انتخابات میں حیران کن نتائج نے حکمران جماعت کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔ قبائلی ضلع خیبر، مہمند اور اورکزئی میں پاکستان تحریک انصاف کا صفایا ہوا، ضلع خیر کی تینوں نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری اور قومی اسمبلی کے رکن اقبال آفریدی کے حامیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ الحاج کاروان گروپ کے سربراہ الحاج شاہ جی گل آفریدی اور ان کے بھائی سینیٹر تاج محمد آفریدی کے خاندان کے 2 امیدواروں نے وفاقی وزیر نورالحق قادری کے خواب کو چکنا چور کیا۔

نورالحق قادری کے آبائی علاقے میں الحاج شاہ جی گل آفریدی کے بھتیجے شفیق شیر آفریدی نے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کر لی، اسی طرح الحاج شاہ جی گل آفریدی کے فرزند بلاول آفریدی نے پی کے 106 پر پی ٹی آئی کے امیدوار حاجی امیر محمد خان کے چاروں شانے چت کر دیئے، وہ بھی آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے۔ قبائلی ضلع مہمند میں دونوں نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پی کے 103 پر اے این پی کے نثار احمد مہمند نے پی ٹی آئی کے رحیم شاہ اور پی کے 104 پر آزاد امیدوار عباس الرحمٰن نے تمام امیدواروں کو پیچھے چھوڑ کر کامیابی اپنے نام کر لی۔ اس حلقے پر جے یو آئی (ف) کے مفتی محمد عارف حقانی دوسرے اور پی ٹی آئی کے سجاد خان تیسرے نمبر پر رہے۔ قبائلی ضلع باجوڑ کیلئے مختص تین نشستوں میں سے ایک نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے انور زیب کامیاب ہوئے، تاہم دو دیگر نشستیں جماعت اسلامی کے نام رہیں۔ قومی اسمبلی کے رکن گل داد خان کے بھائی اجمل خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث پی ٹی آئی کے دونوں ارکان قومی اسمبلی میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔

نتائج کے مطابق پی کے 100 باجوڑ سے پاکستان تحریک انصاف کے انور زیب خان، پی کے 101 باجوڑ (2) سے جماعت اسلامی کے صاحبزادہ ہارون الرشید اور پی کے 102 باجوڑ (3) سے جماعت اسلامی ہی کے سراج الدین خان نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں جن آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے ان میں پی کے 104 مہمند (2) سے عباس الرحمٰن، پی کے 105 ضلع خیبر (1) سے شفیق آفریدی، پی کے 106 خیبر (2) سے بلاول آفریدی، پی کے 107 خیبر (3) سے محمد شفیق آفریدی، پی کے 110 اورکزئی سے غزن جمال اور پی کے 112 شمالی وزیرستان (2) سے میر کلام وزیر شامل ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے پی کے 100 باجوڑ (1) اسے انور زیب خان، پی کے 109 کرم (2) سے محمد اقبال میاں، پی کے 114 جنوبی وزیرستان سے نصیر اللہ خان، جماعت اسلامی کے پی کے 101 باجوڑ (2) سے صاحبزادہ ہارون الرشید، پی کے 102 باجوڑ (3) سے سراج الدین خان، جے یو آئی (ف) کے پی کے 108 کرم (1) سے محمد ریاض، پی کے 113 ایف آر ٹانک سے حافظ حصام الدین، پی کے 115 ایف آرز سے شعیب آفریدی اور اے این پی کے پی کے 103 مہمند (1) سے نثار مہمند نے کامیابی حاصل کرکے قبائلی اضلاع سے پہلے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔

قبائلی اضلاع کے انتخابات میں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کا صفایا ہوا، دونوں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہیں، حالانکہ قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کرانے میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔ قبائلی اضلاع میں تاریخ میں پہلی بار صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے انتخابات ہوئے، جن میں قبائلی عوام نے جمہوریت پسند ہونے کا ثبوت دیا۔ شاید پاکستان کی تاریخ میں یہ زیادہ پُرامن انتخابات تھے، جو بہت بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ انتخابات میں حکومتی اداروں اور صوبائی حکومت کے غیر جانبدار ہونے سے پُرامن انتخابات کا انعقاد مکن ہوسکا۔ قبائلی اضلاع کے انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو مہنگائی، پارٹی کے اندر اختلافات اور انتشار کا تحفہ ناکامی کی صورت میں ملا۔ انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست کے اسباب میں سے ایک سبب گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان، وزیراعلٰی محمود خان اور قبائلی اضلاع سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کی پسند اور ناپسند تھی۔

پی ٹی آئی کی قیادت نے زمینی حقائق سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے ٹکٹوں کی تقسیم میں اقرباء پروری سے کام لیا۔ قبائلی اضلاع کے انتخابات میں آزاد امیدواروں کی کامیابی میں دولت کی فراوانی اور دولت کے بے دریغ خرچ کرنے کا بہت بڑا عمل خل رہا، آزاد امیدواروں نے دولت کو پانی کی طرح بہایا، جس کی وجہ سے ان کی کامیابی ممکن ہوسکی۔ انتخابات میں قبائلی عوام نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی پالیسیوں اور اس کی وفاق اور صوبہ میں حکومتوں کی کارکردگی اور مہنگائی مسلط کرنے کو رد کر کے اسے آئینہ دکھایا، قبائلی اضلاع کے انتخابات سے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں اگرچہ سیاسی جماعتوں کے امیدوار آزاد امیداروں کے مقابلے میں کم کامیاب ہوئے، تاہم قبائلی اضلاع میں انتخابات سے سیاسی جماعتوں پر عوام کا اعتماد بڑھا ہے۔ قبائلی اضلاع میں سیاسی پختگی بڑھتی جا رہی ہے، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں سیاسی جماعتیں اپنی جڑیں مزید مضبوط کریں گی۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سابق فاٹا میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں سکیورٹی فورسز اور انتظامیہ غیر جانبدار رہی، جس کی زندہ مثال پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر کلوز سرکٹ کیمروں کی تنصیب تھی۔ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات سے اب قبائلی عوام کی مشکلات اور پریشانی اسمبلی کے فلور پر حل ہونے میں مدد ملے گی۔ انتخابات کے حوالے سے فوج کی تعیناتی پر اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات غلط ثابت ہوئے۔ فوج بھی 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے کالے دھبے کو دھونے میں کامیاب رہی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اعلٰی قیادت ناکامی کے اسباب معلوم کرنے کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دیگی، تاکہ آئندہ انتخابات میں غلطیوں سے سیکھا جا سکے۔

امید ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں یہ حقیقت تسلیم کر لیں گی کہ قبائلی اضلاع میں انتخابات شفاف ہوئے، کسی قسم کی دھاندلی نہیں ہوئی اور نہ ہی ان انتخابات پر کوئی انگلی اُٹھا سکے گا۔ وزیراعلٰی کے مشیر برائے قبائلی اضلاع اجمل وزیر نے انتخابات کے دوران بہت بڑا دعویٰ کیا تھا کہ 16 کی 16 نشستیں پی ٹی آئی اپنے نام کرے گی، لیکن نتائج ان کی توقعات کے برعکس نکلے۔ اسی طرح انتخابات کے دوران تکبر کا مظاہرہ کرنے والے جماعت کے قائدین اور کارکنوں کو منہ کی کھانی پڑی، صبر، برداشت اور عاجزی انسان کے قد کو بڑھا دیتی ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ دعوے کئے جا رہے تھے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار کامیاب ہیں اور صرف ان کی کامیابی کا اعلان باقی ہے، یہ تکبر حکمرانوں کو لے ڈوبا۔
خبر کا کوڈ : 806379
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے