0
Monday 22 Jul 2019 16:14

حاجیو! کعبۃ اللہ پھر سے انقلاب کا سرچشمہ بننے کو ہے(2)

حاجیو! کعبۃ اللہ پھر سے انقلاب کا سرچشمہ بننے کو ہے(2)
تحریر: ثاقب اکبر
 
اس مضمون کے آغاز میں ہم اس امر کا ذکر کرچکے ہیں کہ حج کا موسم شروع ہونے کو ہے اور پوری دنیا سے مسلمان جوق در جوق بصد شوق حرمین شریفین کی طرف رخ کیے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ حج کے مرکز کی آنے والے دنوں میں ابھرتی اہمیت کی طرف توجہ کی جائے۔ یہ اہمیت اسی مصدر سے بیان کی گئی ہے، جس مصدر سے حج کا فریضہ اس امت کے ہر مستطیع پر عائد ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم گذشتہ سطور میں اہل سنت کی امہات کتب کے حوالے سے چند احادیث نقل کرچکے ہیں کہ کعبۃ اللہ آخرکار ایک مرتبہ پھر الٰہی انقلاب کا سرچشمہ بنے گا، اس ضمن میں اہل البیت علیہم السلام سے منقول روایات میں بھی وضاحت فرمائی گئی ہے اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور قیام کی نوید دی گئی ہے۔ آئمہ اہل البیت علیہم السلام نے یہاں تک فرمایا ہے کہ امام مہدی حج کے ایام میں غیبت کے دوران میں بھی حرم الٰہی میں تشریف لاتے ہیں۔ چنانچہ امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے: "وہ (مہدی) ایام حج میں وہاں موجود ہوتے ہیں، وہ لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ انہیں نہیں دیکھتے۔"
 
امام زمان علیہ السلام کے چار خاص نائبین میں سے ایک محمد بن عثمان عمری بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "اللہ کی قسم صاحب الامر ہر سال موسم حج میں موجود ہوتے ہیں، وہ لوگوں کو دیکھتے اور پہچانتے ہیں اور لوگ بھی انھیں دیکھتے تو ہیں لیکن پہچان نہیں پاتے۔" اسی طرح آئمہ اہل بیت سے منقول ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور مکہ مکرمہ میں ہوگا اور وہ وہیں سے اپنی عالمی تحریک کا آغاز کریں گے۔ ان کے مخالف جو گروہ اٹھیں گے، ان میں سے ایک سفیانی کا گروہ ہوگا، جس کے بارے میں امام باقر علیہ السلام سے یہ روایت نقل ہوئی ہے: ظھر السفیانی و یشتد البلائُ و یشمل الناس موت و قتل و یلجدون منہ الی حرم اللہ تعالی و حرم رسولہ۔ "جب سفیانی ظاہر ہوگا تو مشکلات شدید ہو جائیں گی۔ لوگ موت اور قتل کا شکار ہوں گے اور وہ حرم الٰہی اور حرم رسول میں پناہ لیں گے۔" دیگر روایات کو سامنے رکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سفیانی جب قتل و غارت میں مصروف ہوگا تو امام مہدی کے قیام کے بعد حرم الٰہی اور حرم رسول پر ان کا اقتدار قائم ہوچکا ہوگا اور یہ سرزمین لوگوں کے لیے پناہ گاہ کی حیثیت اختیار کر لے گی اور انھیں وہاں پر امن میسر آئے گا۔
 
امام محمد باقر علیہ السلام ہی سے ایک روایت میں ہے کہ جب قائم آل محمد ظاہر ہوں گے تو وہ کعبۃ اللہ سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوں گے۔ ان کے گرد تین سو تیرہ افراد اکٹھے ہو جائیں گے اور جو جملہ وہ سب سے پہلے کہیں گے، وہ قرآن کی یہ آیت ہوگی: بقیۃ اللہ خیر لکم۔۔۔مومنین(ہود:۸۶) اس کے بعد فرمائیں گے کہ میں بقیۃ اللہ، حجت خدا اور تمھاری طرف اس کا خلیفہ ہوں۔ کوئی ایسا مومن نہ ہوگا، جو ان الفاظ میں آپ کی خدمت میں سلام عرض نہ کرے۔ ’’السلام علیک یا بقیۃ اللہ فی ارضہ" امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں ہے کہ آپ کے صحابی مفضل نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ امام مہدی کہاں سے اور کیسے ظہور فرمائیں گے تو آپ نے فرمایا: "اے مفضل! وہ اکیلے ظاہر ہوں گے اور اکیلے بیت اللہ کی طرف آئیں گے، اکیلے خانہ کعبہ میں داخل ہوں گے اور پھر باہر نکل کر رکن و مقام کے مابین کھڑے ہو جائیں گے اور ایسی آواز میں پکاریں گے، جو سب تک پہنچ جائے گی: اے نقیبو! اور اے وہ لوگو جو میرے قریب ہو اور اے وہ لوگو جنھیں اللہ نے میرے ظہور سے پہلے زمین پر میری مدد کے لیے ذخیرہ کیا ہے، میری اطاعت کے لیے میری طرف آئو۔ آپ کی یہ آواز ان لوگوں تک پہنچ جائے گی اور دنیا کے شرق و غرب سے یہ لوگ چشم زدن میں رکن و مقام کے نزدیک پہنچ جائیں گے، چاہے وہ محراب عبادت میں ہوں اور چاہے سوئے ہوئے ہوں۔"
 
امام باقر علیہ السلام سے ایک اور حدیث مروی ہے: اذا ظھر المہدی بمکہ ما بین الحجر الاسود و باب الکعبہ فنادی جبرائیل و اجتمع الیہ اصحابہ من الافاق۔ "جب مہدی مکہ میں حجر اسود اور باب کعبہ کے مابین ظہور فرمائیں گے تو جبرائیل ندا دیں گے اور آفاق عالم سے آپ کے ساتھی آپ کے گرد جمع ہو جائیں گے۔" اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے آپ کے مخالفین اور انسانیت کے دشمن اٹھ کھڑے ہوں گے، جن میں سفیانی اور دجال کے دو کردار بہت معروف ہیں، اسی طرح سے آپ کے حامیوں کے گروہ بھی آفاق عالم میں اٹھ کھڑے ہوں گے، جن میں سید خراسانی اور سید یمانی کے دو کردار بہت معروف ہیں اور شیعہ سنی احادیث میں ان مخالف و موافق کرداروں کا کثرت سے ذکر آیا ہے۔ چنانچہ خراسانی کے گروہ کے بارے میں ایک روایت امام محمد باقر علیہ السلام سے یوں منقول ہے: تنزل الرایات السود التی من خراسان الی الکوفہ فاذا ظھر المھدی بمکۃ بعثت الیہ بالبیعۃ۔ "خراسان سے جو سیاہ علم بلند ہوں گے، وہ کوفہ پہنچیں گے اور مکہ میں جب مہدی ظہور فرمائیں گے تو بیعت کے لیے انہیں وہاں روانہ کیا جائے گا۔"
 
ہم نے چند احادیث نمونے کے طور پر نقل کر دی ہیں، وگرنہ اس موضوع پر احادیث بہت زیادہ ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آخرکار خانہ کعبہ ایک عظیم اور عالمگیر انقلاب کا مرکز بنے گا اور اس کی چند نشانیوں پر امت کا اتفاق ہے۔ اس عالمگیر انقلاب کے قائد یعنی امام مہدیؑ کے بارے میں منقول نشانیوں میں سے بھی بہت سی متفق علیہ ہیں، جن میں ایک یہی ہے کہ وہ خانہ کعبہ میں ایک روز حجر اسود اور مقام ابراہیم کے مابین اور دوسرے لفظوں میں حجر اسود اور باب کعبہ کے مابین ظاہر ہوں گے۔ آج جب کہ عازمین حج اس سرزمین میں پہنچ چکے ہیں یا پہنچ رہے ہیں، تاکہ کعبۃ اللہ کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو منور کریں تو انہیں اپنی ذات سے بالاتر ہو کر عالمگیر الٰہی انقلاب کی طرف بھی متوجہ رہنا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دور کے لوگ تو اس فرزند رسول جسے ہم سب امام مہدی کے عنوان سے جانتے ہیں، کی خدمت میں ان کی نصرت کے لیے جا پہنچیں اور قریب پہنچے ہوئے محروم رہ جائیں یا دشمنوں کے دجل و فریب کی وجہ سے دھوکہ کھا جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ولی اور انسانیت کے نجات دہندہ کی نصرت کی توفیق عطا فرمائے اور ہم اس سعادت سے محروم نہ رہ جائیں۔
۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 806400
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب