0
Monday 22 Jul 2019 14:39

کیا امریکہ جنگل کا قانون چاہتا ہے؟

کیا امریکہ جنگل کا قانون چاہتا ہے؟
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

عام معاشرے میں جب کوئی طاقتور کسی کمزور پر ظلم کرتا ہے اور ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی تو اس وقت کہا جاتا ہے کہ جنگل کا قانون ہے۔ انسانی دانش نے بڑی مدت سے یہ فرض کیا ہوا ہے کہ جنگل ایک ایسی جگہ ہے، جہاں کوئی قانون نہیں بلکہ طاقت ہی قانون ہے، جس کے پاس جتنی بڑی طاقت ہے، اس کا دائرہ حکومت اتنا ہی بڑا ہے۔ یہ بات ایک حد تک درست مانی جا سکتی ہے کہ جنگل میں طاقت کا قانون چلتا ہے، مثلاً ایک شیروں کے جھنڈ کا سربراہ ایک طاقتور شیر ہی بنے گا، اسی طرح ہاتھیوں کے گروہ کی سربراہی بھی طاقتور ہاتھی کرے گا۔ اس سب کے باوجود ایسا نہیں ہوتا ہے کہ طاقتور جنگل میں جو مرضی کرتا پھرے بلکہ ہر چیز بڑے قاعدے سے ہو رہی ہوتی ہے۔ ایک شیر اپنی طاقت کے زور پر ایک دن میں دسیوں ہرن شکار کرسکتا ہے، ہاتھی اپنے سامنے آنے والے ہر جاندار کو روند سکتا ہے، مگر نہ تو شیر ایک حد سے بڑھ کر شکار کرتا ہے اور نہ ہی ہاتھی ہر چیز کو روندتا ہے۔ اگر شیر کھانے کے علاوہ جانوروں کو مارنے لگے اور ہاتھی ہر چیز کو روندنے لگے تو کہا جاتا ہے کہ یہ شیر یا یہ ہاتھی پاگل ہوگئے ہیں۔ یہ پاگل شیر اور ہاتھی جنگل کے قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں، اس لیے زیادہ دیر زندہ نہیں رہتے اور کسی کا شکار بن جاتے ہیں۔

انسانی معاشرے کا آغاز بھی جنگل سے ہی ہوا، اس لیے آج بھی ہمارے معاشرے میں معاشرتی زندگی کے بہت سے قوانین بھی جنگل کے ہی ہیں۔ یہاں طاقتور کو اہم مقام حاصل ہے، وہ فیصلے کرتا ہے اور دوسرے اطاعت کرتے ہیں۔ اس کی بات سنی جاتی ہے اور وسائل اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ طاقتوروں کی طاقت کو لگام دینے کے لیے ہر معاشرے نے کچھ قوانین مرتب کیے ہیں، جنہیں آئین کہا جاتا ہے، آئین بنیادی طور پر طاقتور کو دائرے میں رکھتا ہے اور مظلوم کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ اسی توازن کی وجہ سے معاشرے کا سکون برقرار رہتا ہے اور لوگ خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں انفرادی طور پر کچھ لوگ ایسے ہوسکتے ہیں، جو ان قوانین کے باغی ہو جائیں اور معاشرے کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کریں۔ ایسے میں معاشرہ مل کر ان مفسدین کا  صفایا کرتا ہے، تاکہ انسان سکون کی زندگی بسر کریں۔

ممالک کے درمیان تعلقات کو بھی اسی انداز میں دیکھا جا سکتا ہے، چند صدیاں پہلے تک صرف طاقتور ریاست ہی قائم رہ سکتی تھی، جیسے ہی وہ کمزور ہوتی ساتھ والی بڑی ریاست اسے ہڑپ کر لیتی۔ جیسے یورپ طاقتور ہوا تو کسی بگڑے سانڈ کی طرح مشرق و افریقہ پر چڑھ دوڑا اور تقریباً ڈیڑھ صدی تک دنیا کے بڑے حصے کو اپنی کالونی بنائے رکھا۔ پھر انسانوں نے باہم مل جل کر رہنے کا فیصلہ کیا اور بین الاقوامی قانون تشکیل پایا، یہ سمجھا گیا کہ اب ممالک بھی اس کے تحت مل جل کر رہیں گے۔ ریاستیں اس کی پابندی کرتیں ہیں، جس کے نتیجے میں پرامن طور پر رہ رہی ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے جھول اپنی جگہ مگر امریکی حکومت نے کچھ عرصے سے   دنیا کے مہذب ممالک کو دھمکانا شروع کر رکھا ہے، وہ کسی بین الاقوامی قاعدہ  و قانون کو مدنظر نہیں رکھنا چاہتا۔ اس کی مثال منہ زور ہاتھی کی سی ہے، جو طاقت کے نشے میں چور ہے۔ امریکہ کی پالیسی سے یوں لگ رہا ہے جیسے وہ چاہتا ہے کہ پوری دنیا ویسے سوچے جیسے ہم سوچ رہے ہیں، وہ صرف ہمارے نتائج فکر کی پابند ہو اور جو بھی اس کے خلاف ہوگا، اسے اس دنیا میں عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔ یہ بہت ہی خطرناک پالیسی ہے، یک قطبی دنیا کے تصور کے تحت امریکی پالیسی ساز یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے مقابلے میں  کسی کو نہیں آنا چاہیئے۔

امریکہ کے ڈرون نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جس پر ایران نے اس ڈرون کو مار گرایا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنی خود مختاری کا تحفظ کرے اور ہر وہ طاقت جو اس خود مختاری کو چیلنج کرے، اسے جواب دے۔ امریکی صدر کا دھمکی آمیز ٹویٹ آتا ہے کہ ایران نے بڑی غلطی کر دی ہے۔ کوئی امریکی صدر سے پوچھے محترم جناب ٹرمپ صاحب اگر ایران یا کسی بھی ملک کا کوئی ڈرون آپ کی اجازت کے بغیر جنگی تصاویر بناتا ہوا امریکہ میں داخل ہو تو آپ کی فورسز اس کے ساتھ کیا حسن سلوک کریں گی؟ یقیناً وہ اسے پکڑیں گی یا گرا دیں گی اور یہ امریکی فورسز کا حق ہوگا۔ ٹرمپ صاحب یہ حق جس قانون کے تحت آپ کو ملا ہے، اسی قانون کے تحت ایران کو بھی حاصل ہے۔

چند روز پہلے ایران کا ایک آئل ٹینکر جو جبلِ طارق جیسے نیم خود مختار علاقے کے پانیوں میں تھا، اسے غیر قانونی طور پر برطانیہ نے اپنے قبضے میں لے لیا اور اسے برطانیہ لے گئے، جہاں پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ برطانیہ نے آئل ٹینکر پر قبضے کی بڑی بھونڈی وجہ بیان کی کہ ایران کا یہ جہاز شام کو تیل سپلائی کرنے جا رہا تھا اس لیے اسے قبضہ میں لیا گیا ہے۔اگرجہاز شام کو تیل دینے بھی جا رہا تھا تو آپ کو کس نے یہ اختیار دیا کہ آپ اسے قبضہ میں لیں؟ برطانوی حکومت کا جواب یہ تھا کہ شام کو تیل سپلائی کرنے پر یورپی یونین نے پابندی لگائی ہے، اس لیے اسے تیل سپلائی کرنا درست نہیں۔ کیا ایران نے کوئی معاہدہ کر رکھا ہے کہ وہ یورپین یونین کی تمام پابندیوں کا پابند ہے؟ کیا ایران یورپی یونین کو حصہ ہے؟ جناب نہ تو ایران یورپی یونین کا حصہ ہے اور نہ ہی اس نے کوئی معاہدہ کر رکھا ہے، جس کی رو سے وہ پابند ہو۔ ایران ایک آزاد ملک ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق وہ کسی بھی ملک سے تجارت کرسکتا ہے۔

برطانوی حکومت نے مست ہاتھی کے حکم پر اس کی خوشامد کے لیے ایرانی ٹینکر کو قبضے میں لیا ہے۔ ایران نے بہت کوشش کی کہ برطانیہ بین الاقوامی قانون کا خیال  کرے، مگر طاقت ایسی چیز ہے، جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ ایران نے خلیج فارس سے ایک برطانوی جہاز کو قبضے میں لیا، جس نے ایرانی کشتی کو ٹکر ماری اور اپنا جی پی ایس بند کرکے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہوا تھا۔ اب برطانیہ وہی زبان بول رہا ہے، جو امریکہ نے ڈرون گرائے جانے پر بولی تھی۔ بین الاقوامی قانون اس میں واضح ہے کہ اگر دو ممالک میں تعلقات کشیدہ ہیں اور ایک ملک ایسی مشکوک حرکت کرتا ہے تو دوسرے ملک کو جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ جب برطانیہ نے ٹینکر پر قبضہ کیا اور تعلقات معمول پر نہیں تھے، ایسے میں ایرانی حدود میں داخل ہو کر قانون کی خلاف ورزی کرنا ایک طرح سے اکسانا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو، میں یہ کر رہا ہوں۔

امریکی ڈرون اور برطانوی آئل ٹینکر کو مناسب جواب دیا گیا، اب امریکہ اور برطانیہ ایک نارمل ملک بننے کی کوشش کریں، ہر جگہ آپ کی دھونس دھاندلی کام نہیں آئے گی بلکہ مہذب انداز میں بات کرکے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں چاہتی ہیں کہ وہ اقتصادی دہشتگردی کے ذریعے ایران کو جھکنے پر مجبور کر دیں، مگر ایسا کرنا ممکن نہیں رہا۔ جنگل کا پاگل ہاتھی بننے کی بجائے ایک مہذب ملک کے طور پر اپنے معاہدات کی پاسداری کریں اور دیگر اقوام کا احترام کریں، اس سے یہ مسائل حل ہوں گے، نہیں تو امریکی ڈرون گرتے اور برطانوی ٹینکرز پکڑے جاتے رہیں گے۔
خبر کا کوڈ : 806405
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب