0
Monday 22 Jul 2019 21:33

بےحیائی کی ترقی پر کیونکر قدغن لگایا جائے۔۔۔۔؟!

بےحیائی کی ترقی پر کیونکر قدغن لگایا جائے۔۔۔۔؟!
تحریر: عظمت علی
 
سوال یہ کہ کیا علم، اخلاق سے جدا شے ہے یا پھر جدید علوم کا انسانیت سے جھگڑا ہوگیا ہے؟ آج مختلف اکیڈمک علوم نے خاطر خواہ ترقی کرلی ہے مگر اخلاقیات پاتال کی جانب دھنسے جا رہے ہیں۔ معاشرے سے کردار کا تصور دھندلا ہوتا جا رہا ہے، لوگ ایک دوسرے کا احترام کرنا فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ والدین اپنی اولاد سے خوف کھاتے ہیں جبکہ والدین کی اطاعت بہر صورت واجب ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ والدین کے سامنے اف تک نہ کہو، جبکہ مسلم ریاست سمیت مختلف مقامات پر انہیں اپنے سے الگ کرنے کو بہتر تسلیم کیا جاتا ہے۔ عقل کہتی ہے کہ اپنی عفت کی پاسداری کی جانی چاہیئے مگر آج کے ماحول میں عریانیت شہرت پکڑ رہی ہے۔ شاہراہوں پر بھی یہ نظارہ عام ہو رہا ہے، سڑک پر چلنا دشوار ہوا جا رہا ہے، جدھر دیکھو، آوارگی سیر کر رہی ہے، نظر اٹھانا تو درکنار، خم بھی نہیں کرسکتے، ورنہ زمینی ٹکراؤ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
 
ابھی کل کی بات ہے، ایک متحرک دوشیزہ سے نظروں کا ٹکراؤ ہوا تو پورا جسم حرکت میں آگیا اور حیا بھی شرما گئی کہ اب تو حد ہوگئی، بالکل ہلکا اور لچکدار لباس اور نہایت چست جنس، اس طرح کی کہ سارے اعضاء ابھر ابھر کر دعوت نظارہ دے رہے تھے، تجزیاتی مطالعہ کے مطابق یوں بھی ہندوستان کی آبادی کا تقریباً 50 فیصدی طبقہ 25 برس کی عمر سے کم کا ہے۔ آپ کسی روز بازار کے لیے نکل آئیے اور تماشا دیکھیئے، حسن کا بازار گرم ملے گا، جسموں کی نمائش میں ہر کوئی خود کو سب سے زیادہ جدیدیت سے قریب کرنا چاہتا ہے، فیشن کا مطلب تو سمجھتے ہیں نا آپ، جتنی بے حیائی، اتنا بڑا فیشن اور روشن فکری۔۔۔! یہ نظریہ کہاں تک درست ہے، اس کی تائید ملک میں عصمت دری کے روز افزوں واقعات بتائیں گے۔ یہ ذکر تھا ہمارے آزاد ملک کا، مغربی ممالک میں تو کئی ایسے مقامات موجود ہیں، جہاں انسان کو ننگا سیر کرنے کی مکمل اجازت ہے۔ اسپین، فرانس، نیدر لینڈ، جرمنی، کروئیٹیا، فلوریڈا اور برطانیہ قابل ذکر ہیں۔
اب ذرا آئیں، اسلامی ممالک کی جانب ایک نظر ڈالتے ہیں۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ ان ممالک میں بھی اخلاق باختگی روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے، یہ الگ بات کہ دیگر ممالک کے مقابل بہت ہی کم، ایک خبر اڑتے اڑتے آئی تھی کہ اب سعودی عرب میں حجاب سے پابندی ہٹا لی گئی ہے، لیکن اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔ سعودی عرب میں گذشتہ چند برسوں سے کافی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، اس وقت سینماؤں پر عائد پابندی کو ہٹاتے ہوئے فلموں کی نمائش کی اجازت دیدی گئی ہے۔ رواں برس ہی وہاں کے تاریخی مقام پر میوزیکل فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا تھا جبکہ شہر جدہ میں نائٹ کلب کھولے جانے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں، ادھر چند دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ فحش پرفارمنس کی ملکہ نکی مناج جدہ میں پرفارم کرنے آرہی ہے، لیکن تازہ خبر کے مطابق اس نے اپنے ہم جنس پرست شائقین کی رائے کو تسلیم کرکے سعودی عرب کے شاہزادہ کی بات ٹھکرا دی ہے۔ صرف سعودی عرب ہی کیوں دوسرے ممالک میں بھی غیر اخلاقی تبدیلیاں نماں طور پر نظر آرہی ہیں۔
 
اسلامی ممالک میں فی الحال ایران سب سے بہتر ہے، حالانکہ وہاں بھی سب کے سب معصوم نہیں بستے، وہاں بھی عریانیت بڑھ رہی ہے۔ مولانا شہنشاہ حسین نقوی صاحب پاکستان سے سوال کیا گیا، جسے انہی کی لفظوں میں صفحہ قرطاس کے حوالہ کیا جا رہا ہے۔ فرما رہے ہیں کہ کیا شب عاشور وہ جو میچ ایران میں ہوا ہے کربلا۔۔۔۔ کے ساتھ اس کی کوئی ہماہنگی۔۔۔؟ نہیں مذمت ہے، ہم نہیں پسند کرتے، ایران کوئی ہمارے لیے۔۔۔۔ پیشوا تو نہیں ہے، ایران ہمارے لیے کوئی رہنما نہیں ہے، مرجعیت کے ہم پابند ہیں، ایران کے اندر جو کام ہو رہے ہیں، کیا وہ سارے صحیح ہو رہے ہیں؟ تہران میں تو عریانیت پھیل رہی ہے، اصفہان میں آپ جائیں تو آپ کو شرم آئے گی جاتے ہوئے، شیراز میں آپ جائیں تو آپ کو شرم آئے گی جاتے ہوئے، ایران ہمارے لیے آئیڈیل تھوڑا ہے، ایران کے سارے کام ہم نے لیے بھی نہیں ہیں، ہم تو فارسی بھی اردو میں بولتے ہیں، ہم نے ایران سے تو کوئی۔۔۔۔۔

ہماری مرجعیت کا مسئلہ ہے، ہمارے یہاں ولایت فقیہ۔۔۔۔ کا مسئلہ ہے، ہم ان کے پابند ہیں، وہ بھی دعا کریں ظہور ہو جائے تو ہم ان الجھنوں سے بچیں، تقلید جو ہے، ہاں! ہاں! میں جو کہہ رہا ہوں، اسے سمجھیئے گا، میں اپنے بچوں سے گزارش کر رہا ہوں، تقلید جو ہے وہ الجھن ہے میری، مشکل ہے، پریشانی میں ہوں، مجبور ہوں میں کہ تقلید مجھے کرنا پڑ رہی ہے اور اس کے علاوہ چارہ بھی نہیں، جو نہیں کرتے وہ اور بیچارے تھوڑے سے بے وقوف ہیں، ان کے پاس چارہ ہی نہیں تقلید کرنے کے علاوہ، مگر یہ مشکل ساری ظہور غیبت کی ہے، دعا کریں کہ ظہور ہو جائے، ہم ڈائریکٹ اصلی چشمے سے وابستہ ہو جائیں، یہ جو تالابوں کے پانی سے اور جو ہم ٹینکوں کے پانی سے استفادہ کر رہے ہیں، زندگی تو گذارنی ہے نا؟ بات میری روشن ہے یا نہیں، ناراض ہو رہے ہیں آپ؟ ہم جو استفادہ کر رہے ہیں وہ۔۔۔۔ ہم وہ جمود والے پانی سے ہے، وہ ہم پانی سے، زندگی تو گزارنی ہے؟ مگر جو چشمہ ہے وہ ہے امام۔۔۔۔
 
مولانا کے مکمل بیان کو ان کی زبانی پیش کیا گیا، اب تجزیہ آپ کے حوالے ہے، بس سیاق و سباق ملحوظ خاطر رہے۔ میرا اپنا ذاتی نظریہ ہے کہ ان اخلاقی مشکلات کے باوجود اسلامی ممالک میں ایران سب سے بہتر ہے، آپ چاہیں میری بات سے اتفاق کریں یا اختلاف، یہ آپ کا اپنا نظریہ ہوگا۔ گویا بے حیائی اور عریانیت نے ہر جگہ اپنا قبضہ جما لیا ہے، اس کی وجوہات کیا کیا ہوسکتی ہیں۔۔۔!؟ ہماری دادی اماں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، کہا کرتی تھیں کہ یہ ٹی وی ایک طرح سے شیطان کا گھر ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ نے نوجوانوں کے ہاتھوں معاشرتی فسادات نہایت خوشنما فیشن کے طور پر پیش کیا ہے۔ فی الحال مرد و زن میں عینک کا فیشن تیزی سے چل پڑا ہے، اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ یہ وقت ہی بتائے گا، لیکن اتنا تو واضح کہ آنکھوں پر اس کے منفی اثرات تو ضرور مرتب ہوں گے، آنکھوں کا انتخاب دراصل کسی خاص مخفی کمیٹی کی جانب اشارہ ہے، کیونکہ آنکھ اور سہ کونی شکل ان کی خاص علامت ہے۔
 
بے حجابی کی ریشہ دوانیاں کیونکر اتنی تیزی سے پھیل رہی ہیں؟ اس سلسلے میں حقیر کی معلومات بہت کم ہیں۔ مولانا کلب جواد نقوی امام جمعہ آصفی مسجد، لکھنؤ نے خطبہ نماز جمعہ میں اس بات کی جانب اشارہ کیا تھا کہ معاشرے میں پھیلتی بے حجابی اور بے حیائی میں بیوٹی پارلر کا اہم رول ہے۔ درحقیقت یہ انٹرنیٹ کی کرشمہ سازی ہے، جس نے اچھے اچھے کے کردار کو داغدار کر دیا اور برے برے کو راتوں رات مشہور کر دیا۔ اب تو یہ ہماری زندگی سے ایسے منسلک ہوچکا ہے کہ گویا جسم و جان ہے۔ معاشرے میں پھیلے ان فسادات کا قلع قمع تو نہیں لیکن اس میں کمی لانے میں پردے کی پابندی لازم کرنی ہوگی، نوجوانوں کی تربیت پر خاص توجہ دینا بھی ضروری ہوا جاتا ہے، انہیں گمراہ کن فلمیں اور ڈراموں سے بہرحال دور رکھنا ہوگا، بروقت شادی کرنا بھی بہت سی مشکلات کو ختم کر دیتا ہے اور ذکر الہیٰ و استعفار تو بہرحال ضروری ہے۔ اللہ ہم سب کی ہدایت فرمائے! آمین...!
خبر کا کوڈ : 806453
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے