0
Tuesday 23 Jul 2019 08:13

کامیابی کی کلید

کامیابی کی کلید
اداریہ
انسانی تاریخ میں کامیابیاں اور کامرانیاں انہیں نصیب ہوئیں، جو اپنے نظریئے سے وابستہ رہ کر مسلسل کوشش و سعی میں مصروف رہے، کیونکہ کامیابی کے لئے کوئی "شارٹ کٹ" نہیں ہے۔ خداوند عالم نے بھی "لیس للانسان الا ما سعیٰ" جیسا فارمولا دے کر ایک یونیورسل اور عالمگیر سچ رہتی دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اب بھی اگر کوئی فرد، معاشرہ یا اجتماعی تحریک محنت، کوشش، قربانی، استقامت، ایثار اور جہد مسلسل کے بغیر اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کی خواہاں ہے تو وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔ ماضی کی اجتماعی تحریکوں حتیٰ بعض نظریاتی تحریکوں میں بھی حادثاتی قائدین نے سمجھوتوں، سودے بازیوں اور طاقتور قوتوں کی گود میں بیٹھ کر اپنی منزل مقصود حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس طرح کی مصنوعی لیڈرشپ کو کامیابیاں تو ایک طرف شرمندگی و مایوسی و ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ فلسطین سمیت جس اسلامی تحریک یا حادثاتی رہنماء نے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے کر قوم کو مشکلات کے بھنور سے نکالنے کی کوشش کی، وہ ناصرف خود ریاستی و سامراجی دلدل میں دھنستا گیا بلکہ قوم کو بھی اپنے ساتھ غرق دریا کر دیا۔

اسلامی اور سامراج مخالف تنظیموں کا سلوگن اور عمل سعی پیہم اور جہد مسلسل رہا ہے، جو تنظیم یا اس کا رہنماء سہل پسندی، نمود و نمائش اور آرام پسندی کا اسیر ہو جاتا ہے، وہ لمحہ بہ لمحہ اپنی نظریاتی منزل سے دور ہوتا جاتا ہے۔ آج فلسطین کی تحریک ہو یا نائیجیریا میں شیخ زکزکی کی، بحرین میں شیخ عیسیٰ قاسم کی تحریک ہو یا پھر پاکستان میں امریکی سامراج  کے خلاف جدوجہد، سب کی سب ریاستی جبر اور مسلط شدہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف میدان عمل میں ہیں، ان تنظیموں اور تحریکوں میں جس کسی نے بھی جہد مسلسل، محنت، مبارزے، ایثار، قربانی اور مزاحمت و استقامت کو ترک کرکے فوجی یا سول، اندورنی یا بیرونی سامراج یا ان کے پٹھوں سے سودے بازی کی، وہ چند وزارتیں یا صدر و وزیراعظم کے ساتھ فوٹو سیشن کرانے میں تو کامیاب ہو جائیگا، لیکن حقیقی کامیابی اس سے کوسوں دور ہو جائیگی۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے گذشتہ روز حماس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں اسی مفہوم پر تاکید فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ "مزاحمت اور جدوجہد کے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ کے تبدیل نہ ہونے والے وعدے کے مطابق فلسطین کا مسئلہ یقیناً فلسطینی عوام اور عالم اسلام کے حق میں ہوگا۔" رہبر انقلاب اسلامی کا یہ فرمان کہ مزاحمت اور جدوجہد کے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں، صرف فلسطینیوں کے لئے مخصوص نہیں، دنیا بھر میں چلنے والی حریت پسندوں کی تمام تنظیموں کے لئے ایک روڈ میپ ہے کہ مزاحمت اور جدوجہد کو چھوڑ کر سودا بازی، سازباز اور سامراجی طاقتوں سے گٹھ جوڑ کے ذریعے کامیابی و کامرانی ممکن نہیں۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
خبر کا کوڈ : 806575
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے