0
Tuesday 23 Jul 2019 14:13

والدین کے ساتھ نیکی و احسان (1)

والدین کے ساتھ نیکی و احسان (1)
تحریر: محمد شریف نفیس

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر والدین کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کے بارے میں آیات موجود ہیں۔ یہ آیات خود بھی ایک دوسرے کی تفسیر و توضیح کرتی ہیں اور روایات و احادیث معصومین علیہم السلام سے بھی ان آیات کے مفاہیم کی وسعت کو سمجھنے میں ممد و معاون ہیں۔ ان آیات شریفہ اور ان کی تفسیر میں نقل ہونے والی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی و احسان کرنا واجب اور ان کو اذیت و تکلیف دے کر عاق والدین قرار پانا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: "وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُھُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا " (سورہ اسراء، آیت ۲۳) اور آپ کے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس ہوں اور بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا بلکہ ان سے عزت و تکریم کے ساتھ بات کرنا"۔

ایک مقام پر فرمایا: "وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ ۚ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَھۡنٍ وَّ فِصٰلُہٗ فِیۡ عَامَیۡنِ اَنِ اشۡکُرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ ؕ اِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ۙ فَلَا تُطِعۡہُمَا وَ صَاحِبۡہُمَا فِی الدُّنۡیَا مَعۡرُوۡفًا"(سورہ لقمان، آیت ۱۴، ۱۵) "اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں نصیحت کی، اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری سہ کر اسے (پیٹ میں) اٹھایا اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت دو سال ہے (نصیحت یہ کہ) میرا شکر بجا لاؤ اور اپنے والدین کا بھی (شکر ادا کرو آخر میں) بازگشت میری طرف ہے۔ اور اگر وہ دونوں تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے کو شریک قرار دے جس کا تجھے علم نہیں ہے تو ان کی بات نہ ماننا، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھنا۔" اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: "وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا" (سورہ احقاف،آیت ۱۵) "اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ پر احسان کرنے کا حکم دیا"، پھر فرمایا: "لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ ۟ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا" (سورہ بقرہ،آیت ۸۳) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور (اپنے) والدین پر احسان کرو۔"

اس موضوع پر معصومین علیہم السلام سے بھی متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ جن میں مذکورہ بالا آیات کی تفصیلی وضاحت ہوئی ہے۔  چنانچہ رسول اکرمﷺ سے ایک  روایت ہے، جب آپﷺ سے والدین کے حقوق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: "ھما جنتک و نارک" یعنی بیٹے کا جنت و جہنم میں جانے کا دارومدار والدین کے حقوق کی پاسداری پر ہے۔ ان کی اطاعت و فرمانبرداری جنت میں لے جاتی ہے اور ان کی نافرمانی سے انسان کا ٹھکانہ جہنم بھی بن سکتا ہے۔۔ ایک اور مقام پر آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: "رضی اللہ فی رضا الوالد وسخط اللہ فی سخط الوالد" باپ کی رضایت میں ہی اللہ کی رضا اور خوشنودی ہے اور باپ کی ناراضگی میں خدا  کی بھی ناراضگی ہے۔ امیر المؤمنین علیہ السلام بھی والدین سے نیکی کرنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: "بر الوالدین اکبر فریضة" والدین کے ساتھ نیکی کرنا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ میزان الحکمت میں ان روایات کے علاوہ اور بھی بہت سی روایات ذکر ہوئی ہیں۔ (میزان الحکمت،ح۵۶۷۹)۔ ان آیات اور روایات سے والدین کے حقوق کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ یہ حقوق اتنے واضح ہیں کہ مزید کسی تفصیل و تشریح کی ضرورت نہیں۔ بس ہمیں ان آیات و روایات کی روشنی میں بتائے گئے حقوق کی ادائیگی کے پابند ہونے کی ضرورت ہے۔ اپنے والدین کے ساتھ ہر ممکن محبت،  رحمدلی، صبر اور خندہ پیشانی سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔

امت کے روحانی باپ:
مذکورہ بالا آیات و روایات سے واضح اور معروف مراد یہی ہے کہ انسان اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے اور ان کی دل آزاری کرنے سے بچے، لیکن ہم ان آیات اور روایات کے ایک اور مصداق اور پہلو کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔ رسول گرامی اسلام ﷺ کا فرمان ہے کہ میں اور علی اس امت کے دو باپ ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں مذکورہ بالا آیات اور روایات جہاں انسان کو اپنے نسبی باپ سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیتی ہیں، وہاں اس امت کے روحانی باپ، یعنی رسول خداﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ بھی باپ اور بیٹے کا رشتہ برقرار رکھنے کی ہدایت دیتی ہیں۔  بلکہ دیکھا جائے تو انسان کے روحانی باپ کا حق ان آیات اور روایات کا مصداق اتم ہے۔ چنانچہ شیخ صدوق ؒ نے انس بن مالک سے روایت کی ہے، انس بن مالک کہتے ہیں "رمضان کا مہینہ تھا، میں حضرت علیؑ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، جب آپ ضربت کھا کر بستر شہادت پر تھے۔ آپ ؑ نے اپنے بیٹے امام حسنؑ کو بلایا، پھر فرمایا، اے ابو محمد، ممبر پر جائیں، اللہ تعالٰی کی کثرت سے حمد و ثنا اور آپ کے جد محمد مصطفیٰﷺ پر درود و سلام بھیجنے کے بعد کہیں، خدا کی لعنت ہو اس بیٹے پر جو عاق والدین قرار پایا۔ (اسی جملے کو تین بار فرمایا)، اس غلام پر خدا کی لعنت ہو جو اپنے آقا سے بھاگ گیا۔ اس بکری پر لعنت ہو جو اپنے چرواہے(نگہبان) سے بھاگ جائے، اور پھر ممبر سے اتر آئیں۔"

امام حسن ؑ بابا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ممبر پر گئے، خطبہ دیا اور جو کہنے کا حکم ملا تھا وہی کہہ کر ممبر سے اترے، تو لوگ آپؑ کے گرد جمع ہو گئے اور آپ سے کہا، اے فرزند امیرالمؤمنین، اے دختر پیغمبر کے نور عین، ہمیں ان باتوں کی وضاحت فرمائیں۔ امام حسن ؑ نے فرمایا: اس کی وضاحت امیرالمؤمنین بیان فرمائیں گے۔ پھر امیرالمؤمنین ؑنے فرمایا، ایک دفعہ میں رسول اکرمﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا، نماز کے بعد رسول اکرم نے میرے دائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیا اور اسے مضبوطی سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا، پھر مجھ سے فرمایا، یا علی، میں نے کہا، لبیک یا رسول اللہ، فرمایا، میں اور آپ اس امت کے دو باپ ہیں۔ اللہ کی لعنت ہو اس پر جو ہم دونوں سے عاق ہو گیا۔ مجھے آمین کہنے کا حکم دیا، میں نے آمین کہا۔ پھر فرمایا، میں اور آپ اس امت کے دو آقا ہیں، خدا لعنت کرے اس پر جو ہم سے بھاگ گیا۔ میں نے آمین کہا۔ پھر فرمایا میں اور آپ اس امت کے دو نگہبان ہیں، اللہ کی لعنت ہو اس پر جو ہم سے دور ہوا۔ میں نے آمین کہا۔ امیرالمؤمنین نے مزید ارشاد فرمایا، میں نے دو لوگوں کی آواز سنی جو میرے ساتھ ساتھ آمین کہہ رہے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ یہ دو لوگ کون ہیں جو میرے ساتھ آمین کہہ رہے ہیں؟ فرمایا، جبرائیلؑ اور میکائیل ؑ ہیں۔ (معانی الاخبار،شیخ صدوق ج۱،ص۱۱۸)۔ اسی طرح ایک اور روایت فرات بن ابراہیم کی تفسیر میں آئی ہے۔ تمام سلسلہ اسناد کے ساتھ امام محمد باقرؑ سے سورہ لقمان کی آیت۱۴ کی تفسیر کے بارے میں نقل کرتے ہیں۔ امام ؑ نے فرمایا، اس آیت میں "والدیک"سے مراد رسول اکرمﷺ اور امام علیؑ ہیں۔

تفسیر قمی میں آیا ہے کہ آیت کریمہ "وبالوالدین احسانا" کی تفسیر کرتے ہوئے امام ؑ نے فرمایا: "فالوالدان رسول اللہ ﷺ وامیر المؤمنینؑ" یہاں والدین سے مراد رسول اکرمﷺ اور امام علیؑ ہیں۔ (بحار الانوار،ج۲۳مص۲۵۷) قرآن کریم کی ایک اور آیت "وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ" (سورہ بلد،آیت۳) کی تفسیر میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ اس آیت میں  باپ اور بیٹے سے مراد امیرالمؤمنین علیہ السلام اور آپ کی اولاد میں سے آئمہ طاہرین علیہم السلام مراد ہیں۔ اسی طرح سورہ احقاف کی آیت ۱۵ میں "ووصینا الانسان بوالدیہ" کی تفسیر میں نقل ہوا ہے کہ یہاں بھی والدین سے مراد رسول اکرمﷺ اور امام علی ؑ ہیں۔ تفسیر امام حسن عسکریؑ میں رسول اکرمﷺ اور امام علی بن ابیطالب علیہ السلام کا امت کے باپ ہونے کا معنی کی تشریح کی گئی ہے۔ فرماتے ہیں، بتحقیق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، وبالوالدین احسانا۔ رسول اکرمﷺ نے اس بارے میں ارشاد فرمایا، تمہارے سب سے افضل و برتر باپ اور شکر ادا کرنے کے سب سے زیادہ مستحق محمد و علی (علیہما التحیة والسلام) ہیں اور امام علی بن ابیطالب (ع) نے فرمایا، میں نے رسول اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے،"انا و علی بن ابی طالب ابوا ھٰذہ الامة ولحَقُّنا علیھم اعظم من حق والدیھم فاِنا ننقذھم ان اطاعونا من النار الیٰ دار القرار ونلحقھم من العبودیة بخیار الاحرار"(بحار الانوار،ج۳۶،ص۹۶ وغیرہ) "میں اور علی اس امت کے دوباپ ہیں۔ ہم دونوں کا حق اس امت پر ان کے نسبی والدین سے زیادہ ہے۔ کیونکہ اگر وہ ہماری اطاعت کریں تو ہم انہیں جہنم سے نجات دے کر جنت کی طرف لے جاتے ہیں۔ انہیں غلامی اور بندگی سے نکال کر آزاد لوگوں کی صف میں کھڑا کر دیتے ہیں۔

باپ کا معنی:
مفردات راغب میں راغب اصفہانی نے "الاب" کے معانی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کسی بھی چیز کے وجود میں آنے یا اس کی بہتری یا اس کے ظہور کے سبب کو "اب" کہا جاتا ہے۔ (مفردات راغب، مادہ "اب") اس لحاظ سے انسان کے نسبی والد کو اب کہا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس کا دنیا میں آنے کا ایک سبب ہے۔ رسول اکرمﷺ اور امام علیؑ بھی انہی معنوں میں اس امت کے باپ ہیں، کیونکہ متعدد روایات اور احادیث کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ صرف امت ہی نہیں، بلکہ کل کائنات کا وجود میں آنے، اس میں مختلف مخلوقات کا ظہور اور اس کائنات کا نظم و ضبط برقرار رہنے کا سبب بھی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور حضرت علی مرتضیٰ اور ان کی طیب و طاہر ذریت میں آئمہ ہدیٰ  اور حجت خدا ہیں۔ چنانچہ حدیث "لولاک لما خلقت الافلاک" اور "لولا الحجة لساخت الارض..." اس بات کی شاہد ہیں۔ اسی نکتے کی طرف خداوند متعال نے بھی قرآن کریم میں اشارہ فرمایا ہے: "اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِھِمۡ وَ اَزۡوَاجُہٗۤ اُمَّھٰتُھُمۡ"(سورہ احزاب،آیت۶) نبی مومنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں۔

وجود اور زندگی کی دو قسمیں:
انسان کی زندگی اور اس کے وجود کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم انسان کی مادی اور جسمانی زندگی اور اس کا مادی وجود ہے۔ جس میں وہ چلتا پھرتا ہے، کھاتا پیتا ہے اور شادی کرتا ہے وغیرہ۔ ان سب باتوں میں وہ حیوانات کی طرح ہے۔ اس کی یہ زندگی بالآخر موت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ انسان کی اس زندگی کی اصل اور بنیاد اس کے والدین ہیں۔ یعنی وہ ماں باپ جن سے یہ انسان پیدا ہوتا ہے۔ ان والدین کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان پر کچھ حقوق واجب کئے ہیں جو معروف ہیں۔ دوسری قسم کی زندگی اور وجود کا تعلق انسان کی روح اور اس کی معنویت سے ہے۔ جس کو معنوی اور روحانی زندگی اور وجود کہا جا سکتا ہے۔ اس زندگی میں انسان پستی سے کمال کی طرف سفر کرتا ہے، تلاش و کوشش کر کے انسان ارتقائی مراحل سے گزرتا ہے۔ یہی زندگی اور اس میں کی جانے والی کوششیں اس کی ابدی زندگی میں کامیاب ہونے کا سبب بنتی ہیں۔ انسان اپنی اس زندگی میں اللہ تعالٰی اور اس کے انبیاء و رسل پر ایمان لاتا ہے اور اسی ایمان پر قائم بھی رہتا ہے۔ یہی زندگی انسان کی نہ ختم ہونے والی اور حقیقی زندگی ہے۔

چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا: "وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ لَھِیَ الۡحَیَوَانُ"(سورہ عنکبوت، آیت ۶۴) "اور آخرت کا گھر ہی زندگی ہے" اسی طرح بعض دوسری آیات میں اللہ تعالٰی نے ایمان کو زندگی اور کفر کو موت قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا۔ "وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ" (سورہ آل عمران، آیت۱۶۹) "اور جو لوگ راہ خدا میں مارے گئے ہیں قطعاً انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس سے رزق پا رہے ہیں۔" اس کے علاوہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر مؤمن و کافر کے لئے مختلف چیزوں سے مثالیں دی گئیں ہیں۔ مثلاً انسان جب کافر تھا تو بنجر زمین کی طرح تھا، لیکن بعد میں جب ایمان لایا تو اللہ تعالیٰ نے اس بنجر زمین کو ایمان اور معارف الٰہیہ کے پانی سے زندہ و آباد کیا۔ پہلی قسم کی زندگی میں ہمارے والدین کی طرح  رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام ہماری روحانی زندگی اور ہمارے معنوی وجود کی اصل اور بنیادیں ہیں۔ اگر رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام نہ ہوتے تو ہم سب اس زندگی میں مردے ہوتے۔ ہمیں یہ معنوی اور روحانی زندگی ہی نہ ملتی۔"الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ ھَدٰىنَا لِھٰذَا ۟ وَ مَا کُنَّا لِنَھۡتَدِیَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ھَدٰىنَا اللّٰہُ" (سورہ اعراف،آیت ۴۳) " ثنائے کامل ہے اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا اور اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ فرماتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔

پس رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام اس معنوی زندگی میں امت کے باپ ہیں۔ یہ معنوی زندگی چونکہ مادی اور جسمانی زندگی سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اس لئے ان دو باپ کا حق بھی مادی زندگی کا ذریعہ بننے والے والدین سے زیادہ ہے۔ شاید اسی نکتے کو سمجھانے کے لئے کہ "باپ" نسبی والدین کے علاوہ روحانی اور تربیتی پہلو سے باپ کہلانے والوں کو بھی کہا جاتا ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہوا: "بَلۡ قَالُوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ" (سورہ زخرف، آیت۲۲) بلکہ یہ کہتے ہیں، ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رسم پر پایا۔ یہاں آبائنا سے مراد علماء لیا گیا ہے۔ یعنی ہمارے وہ علماء، جنہوں نے ہماری تربیت کی۔ چنانچہ قرآن کریم کی ایک اور آیت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے، "اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا السَّبِیۡلَا" (سورہ احزاب، آیت ۶۷) "ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی تھی پس انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔" اسی طرح  قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان "ان اشکر لی ولوالدیک" کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ اس میں والدیک سے مراد ، پیدا کرنے والا اور تعلیم دینے والا دونوں باپ ہیں۔ (مفردات راغب)۔ رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کو ہماری مادی زندگی کے حوالے سے بھی باپ کہنا ممکن ہے، کیونکہ اس پوری کائنات اور اس کے اندر بسنے والی موجودات کے لئے یہی ہستیاں علت غائی ہیں۔ انہی کی خاطر پوری کائنات کو خلق کیا گیا، انہی کے طفیل سے تمام مخلوقات عالم رزق پا رہے ہیں اور انہی کی برکت سے زندگی چل رہی ہے۔ اگر یہ ہستیاں نہ ہوتیں تو زمین اپنے بسنے والوں کے ساتھ تباہ ہو چکی ہوتی۔ انہی پاک ہستیوں کی وجہ سے ہی اللہ تعالٰی کائنات میں مختلف امور کے لئے اسباب فراہم کرتا ہے۔

نیک اولاد بنیں:
اب تک ہم نے رسول اکرمﷺ کی حدیث مبارکہ "انا و علی ابوا ھٰذہ الامة" کے صرف ایک پہلو کے بارے میں جان لیا اور اس کا ایک ہی رخ ہم نے دیکھ لیا۔ اس حدیث کی دو جہتیں اور دو  رُخ ہیں، کیونکہ "ابویت" کے دو رخ ہیں۔ یعنی باپ کا رشتہ دو طرف کی نسبتوں سے وجود میں آتا ہے۔ اسی لئے اہل منطق و اصول کے ہاں "اُبوّت" کو معانی متضائفہ میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ دو جہتوں کی طرف اس کی نسبت ہوتی ہے۔ مفہوم اُبوّت کے وجود میں آنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسری طرف بُنوّت (اولاد) بھی ہو۔ یعنی جب تک اولاد نہ ہو، کوئی باپ نہیں بن سکتا۔ پس اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں جہاں رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کا امت کے لئے باپ ہونے پر دلالت ہے، وہاں ہمیں اس عظمت اور شرف کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کو ہمارے باپ بنا کر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ ہمارے اس مقام و منزلت کی ہمیں قدر ہونی چاہیئے۔ رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کا اعزاز یہ ہے کہ پوری امت پر حق پدری رکھتے ہیں اور ہمارے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات یہ ہے کہ ہمارے سروں پر ان کا پدرانہ دست شفقت ہے۔ اس اعزاز اور مقام  و منزلت کی قدر اور اس کا اندازہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اس فرمان سے ہوتا ہے کہ فرمایا، "میرے لئے علی بن ابیطالب علیہ السلام کی ولایت، ان کی نسل میں میری ولادت سے زیادہ پسندیدہ ہے، کیونکہ علی بن ابیطالب علیہ السلام کی ولایت میرے اوپر فرض ہے اور ان کی نسل میں ولادت ہونا ایک فضیلت ہے۔" (بحار الانوار،ج۳۹،ص۲۹۹)۔
 
خبر کا کوڈ : 806614
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب