0
Wednesday 24 Jul 2019 08:33

ڈونالڈ ٹرامپ کی تضاد بیانیاں

ڈونالڈ ٹرامپ کی تضاد بیانیاں
 اداریہ
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے متعلق خبریں علاقائی اور عالمی میڈیا کا موضوع بنی ہوئی ہیں، کوئی عمران خان کی باڈی لینگوئج پر بات کر رہا ہے اور کوئی ان کی انگریزی کی تعریفیں کر رہا ہے۔ عالمی میڈیا جس طرح عمران خان کو نمایاں کر رہا ہے، اس سے امریکی انتظامیہ بھی کسی حد تک متاثر نظر آتی ہے۔ عمران خان اور ڈونالڈ ٹرامپ کی ملاقات کے بعد میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں سے تو "ون ون" والی پوزیشن نظر آرہی ہے اور دونوں فریق اپنے اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرامپ کے جھوٹ تو سب پر ثابت ہیں اور عالمی سفارتکاری میں ان کے جھوٹوں کو کرکٹ کے اسکور کی طرح گنا جاتا ہے۔ بعض تجزیہ نگار ان کے جھوٹوں کی سنچریوں کو دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز بیسٹمینوں کی سنچریوں سے موازنہ کر رہے ہیں، البتہ ٹرامپ کے بولے گئے جھوٹوں کا وکٹوں سے ہرگز موازنہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ڈونالڈ ٹرامپ نے ابھی تک جتنے جھوٹ بولے ہیں، اتنی کسی بالر نے ابھی تک ٹیسٹ میچوں میں وکٹیں نہیں لی ہیں، لہذا ڈونالڈ ٹرامپ کے بولے گئے جھوٹوں کا رنز سے ہی موازنہ کیا جا سکتا ہے، وکٹوں سے نہیں۔

پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات میں کشمیر کے مسئلے پر ہندوستانی وزیراعظم کا نام لے کر صدر ٹرامپ نے جو بات کی، اگر وہ جھوٹ ثابت ہوئی تو ڈونالڈ ٹرامپ کے لیے کم از کم ایشیائی ممالک کے عوام اور حکومتی سربراہوں کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ امریکی صدر نے وائٹ ہائوس میں عمران خان سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک عجیب بات کہی ہے، ان کا کہنا تھا "میرے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات روز بر روز سخت تر ہوتے جا رہے ہیں، حالانکہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا حصول آسان تر بھی ہوسکتا ہے۔ صدر ٹرامپ نے ایران کے حوالے سے اپنی حکومت کے پروگرام کے بارے میں کہا کہ ہم ایران کے حوالے سے پیچھے ہٹ کر صبر کریں گے اور دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔" دوسری طرف امریکی نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف کا کہنا ہے کہ ہمیں ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کی راہیں تلاش کرنا ہونگی، لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم ایٹمی معاہدے سے کیوں نکلے ہیں۔؟

امریکی صدر کا یہ اعلان کہ ہم پیچھے ہٹ کر صبر کے ساتھ حالات دیکھیں گے، سفید جھوٹ ہے کیونکہ امریکہ نے ایران کے خلاف "زیادہ سے زیادہ دبائو" بڑھانے والی پالیسی شروع کر رکھی ہے اور ایران کے خلاف اقتصادی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ خلیج فارس میں عسکری دہشت گردی کا بھی سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ خلیج فارس میں کشیدگی اور خلیج فارس میں سمندری سکیورٹی کے نام پر مختلف ممالک سے فوجیوں کی تعیناتی کی اپیل اور برطانیہ کے کندھے پر بندوق رکھ کر ایران پر فائرنگ اس کی چند مثالیں ہیں۔ امریکہ پیچھے ہٹ کر صبر نہیں کر رہا بلکہ ایران کی اصولی پالیسی نے اسے مجبور کر دیا ہے کہ وہ پسپائی اختیار کرے۔ آج امریکہ سے زیادہ علاقے کے اس کے عرب اتحادی خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور وہ حق بجانب بھی ہیں کہ جو امریکہ اپنے ڈروں کے بدلے میں ایران کا کچھ نہیں بگاڑ سکا، وہ ہمارے دفاع کے لیے کیا کرے گا۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت کا یمن جنگ سے واپسی کا سفر بھی ایران کے خلاف امریکی پسپائی کا نتیجہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کی تضاد بیانیاں مزید واضح ہوں گی اور اس کے اتحادیوں پر نئے نئے انکشافات ہوں گے۔
خبر کا کوڈ : 806714
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب