0
Thursday 25 Jul 2019 07:36

مشرق وسطیٰ کی مظلوم تحریک

مشرق وسطیٰ کی مظلوم تحریک
اداریہ
گذشتہ چند برسوں میں مشرق وسطیٰ میں عوامی اور اسلامی بیداری کی تحریکیں شروع ہوئیں، کسی نے انہیں عرب اسپرنگ یا بہار عرب کا نام دیا اور کہیں سے انہیں اسلامی بیداری کی تحریکوں سے تعبیر کیا گیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب ڈکٹیٹروں کے خلاف ان تحریکوں میں اسلامی سلوگن اور نعرے سرفہرست تھے اور اسلامی و دینی جماعتیں ان تحریکوں کی قیادت کر رہی تھیں، لیکن عوام کی بھرپور آمادگی اور قربانیوں کے باوجود مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہوسکے اور کمزور لیڈرشپ کی وجہ سے یہ تحریکیں اقتدار میں آکر بھی اقتدار پر براجمان نہ ہوسکیں۔ ان تحریکوں میں سب سے مظلوم تحریک بحرین کے عوام کی تحریک ہے، جس میں عوامی اور جمہوری پہلو نمایاں تر تھا، لیکن بحرین پر قابض آل خلیفہ حکومت نے سعودی عرب کی مدد سے اس تحریک کی فوری کامیابی کے راستے میں بلند و بالا دیواریں کھڑی کر دیں۔

آج کا بحرین سعودی عرب کے ایک صوبے میں تبدیل ہوچکا ہے اور بحرین کا حکمران آل خلیفہ خاندان شاہ سلمان اور بن سلمان کے اشارہ پر ایک میئر کی ڈیوٹی ادا کر رہا ہے۔ افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ بحرین کی اقوام متحدہ میں نمائندگی ایک یہودی خاتون کر رہی ہے۔ بحرین جہاں شیعہ مسلمانوں کی آبادی واضح اکثریت میں ہے، لیکن اکثریت پر اقلیت مسلط ہے اور اکثریت بنیادی ترین حقوق سے بھی محروم ہے۔ بحرین میں عوامی مزاحمت جاری و ساری ہے اور آل خلیفہ کی استبدادی حکومت بھی نئے نئے ہتھکنڈوں سے اس عوامی، اسلامی اور جمہوری موومنٹ کو روکنے کے لئے پرتشدد راستہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ تحریک کی مرکزی قیادت کو یا تو زندانوں میں ڈال دیا گیا ہے یا ملک بدر کرکے ان سے بحرینی شہریت حق حق بھی چھین لیا گیا ہے۔

بحرین کے انسانی حقوق کے مرکز کے تازہ ترین بیان کے مطابق 2019ء کے پہلے چھ ماہ یعنی جنوری سے جون تک 334 بحرینی شہریوں کو آل خلیفہ مخالف اقدامات کی وجہ سے بحرین کی شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ شہریت کی منسوخی کے علاوہ 261 عام شہریوں کو جن میں سے 23 بچے بھی شامل ہیں، گرفتار کرکے پس زندان بھیج دیا گیا ہے۔ آل خلیفہ حکومت نے 2012ء میں حکومت مخالف بحرینی شہریوں کی شہریت کے خاتمے کا انسانیت سوز کالا قانون نافذ کرکے مخالفین کی آواز کو دبانے کی کوشش کی اور ابھی تک ایک ہزار کے قریب افراد کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے۔ لیکن گرفتاریوں، قید و بند، ظلم و تشدد اور قرون وسطیٰ کی طرز کے وحشیانہ اقدام اس تحریک کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ آج بھی بحرین کی ہر گلی اور کوچے سے آل خلیفہ اور ان کے استبدادی نظام کے خلاف نعرے بلند ہو رہے ہیں، لیکن دل اس وقت خون کے آنسو روتا ہے، جب بحرین کے انقلابیوں کے لئے کہیں سے کوئی صدائے احتجاج نہیں اٹھتی۔
خبر کا کوڈ : 806944
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب