0
Friday 26 Jul 2019 17:55

والدین کے ساتھ نیکی و احسان(2)

والدین کے ساتھ نیکی و احسان(2)
تحریر: محمد شریف نفیس

آیات پر ایک جدید نظر:
اب تک کی گفتگو کی روشنی میں ہم والدین کی فضیلت اور ان کے حقوق کے بارے میں نازل ہونے والی قرآن کریم کی آیات کو ایک نئے انداز میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے، "وبالوالدین احسانا"، "ووصینا الانسان بوالدیہ"، "ان اشکر لی ولوالدیک الی المصیر"۔ اسی طرح قرآن کریم کے متعدد مقامات میں ایسی آیات بیان ہوئی ہیں۔ ہم نے پہلے اس بارے میں بحث کی کہ رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام امت کے باپ ہونے کی حیثیت سے، انسان پر اس کے نسبی والدین سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔ چنانچہ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا، محمد و علی علیہما التحیة والسلام اس امت کے باپ ہیں۔ پس سعادت مند ہے وہ شخص جس نے ان دونوں ہستیوں کے حق کو پہچانا اور ہر حال میں ان کی پیروی کی۔ اللہ تعالٰی ایسے شخص کو جنت کے افضل ترین مکینوں میں سے قرار دے گا اور اسے اپنی کرامتوں اور خوشنودی سے نوازے گا۔" اسی طرح امام حسین علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں، "جو شخص اپنے سب سے افضل باپ محمد و علی (علیہما السلام) کا حق پہچانے اور ان کی اطاعت کرے جس طرح ان کی اطاعت کرنے کا حق ہے، تو اس سے (کل قیامت کے دن) کہا جائے گا کہ جنت میں جہاں رہنا چاہے، اپنی مرضی و اختیار سے رہ لے۔" (بحار الانوار،ج۳۶،ص۱۰)

فرزندی کی خصوصیات:
مذکورہ احادیث و روایات کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوا کہ رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام اس پوری امت کے باپ ہیں۔ یہ بات ہمارے لئے ایک بہت بڑا  اعزاز ہے بلکہ امام صادق علیہ السلام کی حدیث کے مطابق امیرالمؤمنین علیہ السلام سے روحانی رشتہ، ان سے نسبی رشتہ رکھنے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے۔ لہٰذا ہم روحانی طور پر ان کے فرزند ہیں تو اس فرزندی کے کچھ تقاضے بھی ہیں۔ ہمارے اندر کچھ خصوصیات ہونی چاہئیں کہ ہم واقعی ان کے فرزند کہلانے کے قابل ہوں۔ لہٰذا ہمیں چاہیئے کہ ان کے نیک اور فرمانبردار بیٹے بنیں۔ چنانچہ مناقب آل ابیطالب میں قاضی ابوبکر احمد بن کامل سے منقول ہے کہ تمام مسلمانوں پر علی بن ابیطالب علیہ السلام کا حق یہ ہے کہ ان کی نافرمانی نہ کی جائے۔ (مناقب آل ابی طالب،ح۱۲۶۳، بحوالہ بحار الانوار،ح۱۱۳۶)۔ اگر کسی شخص میں فرزندی کی شرائط نہ پائی جائیں تو رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام ایسے شخص سے برائت اختیار کرتے ہیں اور ایسے شخص کی اپنی طرف نسبت سے انکار فرماتے ہیں۔ چنانچہ اس شخص کی شرمندگی اور ننگ و عار کا ذرا تصور کریں، جو اپنے والدین سے عاق ہو چکا ہو اور اس کے والدین اپنی طرف اس کی نسبت کو نفی کر چکے ہوں۔

امام رضا علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ ایک دفعہ آپ  نے فرمایا، "کیا تم میں سے کوئی ہے جو اس بات کو پسند کرے کہ اس کے ماں باپ اس کی نسبت سے نفی کریں؟ سب نے کہا، نہیں، ہم میں سے کوئی بھی ایسا پسند نہیں کرتا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا، پس ہر کوئی کوشش کرے کہ اپنے ان دو باپ سے اپنی نسبت کا انکار نہ کیا جائے، جو نسبی ماں باپ سے بھی زیادہ افضل ہیں۔ (بحار الانوار، ج ۳۶، ص۱۰) انسان اپنے اعمال اور اپنے کرتوت سے ہی اپنی شخصیت کا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ ایک حکایت ہے کہ ایک بار ایک بھیڑیئے نے کسی ہرنی کے ساتھ جنسی فعل کیا، جس کے نتیجے میں وہ ہرنی حاملہ ہوئی اور ایک عجیب الخلقت بچہ پیدا ہوا۔ اس بچے میں بھیڑیا اور ہرن دونوں کی خصوصیات پائی جاتی تھیں۔ اس پر شرعی حکم ترتب کرنے کے حوالے سے اختلاف ہوا۔ یہ مسئلہ قاضی کے پاس پہنچا تو قاضی نے حکم دیا، اس بچے کے سامنے ہرن اور بھیڑیا دونوں کی مختلف غذائیں رکھ دی جائیں۔ ہرن اور بھیڑیا میں سے جس کی بھی غذا کو انتخاب کرے گا، اس پر اسی کا حکم لگے گا۔

اس حکایت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اس حیوان کی طرح انسان بھی اپنی چال چلن اور اپنے لئے جو راستہ انتخاب کرتا ہے، اس کے ذریعے  ہی پہچانا جاتا ہے۔ انسان کے رفتار و کردار سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس کا بیٹا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی چال چلن میں صالح ہو تو وہ رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کا بیٹا کہلائے گا، لیکن خدانخواستہ کسی کا کردار نیک نہ ہو، اور غلط راستے پر چلتا ہو تو وہ رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کا بیٹا نہیں، بلکہ ان کے دشمنوں کا بیٹا شمار ہوگا۔ ایسے افراد سے رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام اور آئمہ اطہار علیہم السلام برائت کا اظہار کرتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کا اس امت سے باپ بیٹے کا رشتہ کردار کی بنیاد پر قائم ہے۔ جو کردار سے نیک نہیں وہ عاق والدین ہے، لیکن جس کا کردار نیک ہے وہی حقیقی معنوں میں اس رشتے سے منسوب ہونے کا حقدار ہے۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام نے بھی اپنے شیعوں کو ان کے اچھے کردار کی بنیاد پر ہی اپنی طرف منسوب ہونے کو پسند فرمایا ہے۔ چنانچہ وسائل الشیعہ کتاب الحج میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے حدیث نقل ہوئی ہے۔ آپؑ نے فرمایا، "تم میں سے کوئی جب اپنے دین کے بارے میں تقوا و پرہیزگاری اختیار کرے، جب بات کرے تو سچ بولے، جب کسی کی امانت پاس رکھے تو امانتداری سے اس کے مالک تک پہنچا دے، جب لوگوں کے ساتھ اچھا اخلاق اور نیک رویہ رکھے تو اسے کہا جائے گا یہ جعفری ہے"۔

یہی بات مجھے خوش کردے گی، اس بات سے میرے دل کو سرور ملے گا اور کہا جائے گا کہ یہ جعفرؑ کا سکھایا ہوا ادب ہے، لیکن اگر کوئی ان صفات کا حامل نہیں ہو  تو ایسے شخص کی وجہ سے مجھے دکھ پہنچے گا اور مجھے خفت اٹھانی پڑے گی کہ ایسے آدمی کو بھی دیکھ کر لوگ کہیں گے،"یہ جعفرؑ کا سکھایا ہوا ادب ہے"۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امام جعفر صادق  علیہ السلام  بھی ہمیں خود سے منسوب کرتے ہیں۔ اگر ہم میں مذکورہ بالا صفات پائی جاتی ہوں تو ہمیں اپنی طرف نسبت دے کر جعفری کہلوانا بھی پسند فرماتے ہیں۔ قرآن کریم میں بھی اس بات کے بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ انسان اپنے کردار کی بنیاد پر ہی کسی سے منسوب ہو سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول نقل ہوا ہے: " فَمَنۡ تَبِعَنِیۡ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡ "(سورہ ابراہیم،آیت ۳۶) "پس جو شخص میری پیروی کرے وہ میرا ہے"۔ پس جو شخص بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے راستے پر چلے گا اور ان کی پیروی کرے گا، اس کی نسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوگی۔ اطاعت و فرمانبرداری ہی کی وجہ سے تھا کہ رسول اکرمﷺ نے حضرت سلمان فارسی کو اپنی ایک معروف حدیث میں "سلمان منا اھل البیت" کے اعزاز سے نوازا۔

اگر کردار قابل تعریف نہ ہو اور اطاعت و پیروی کا رشتہ نہ ہو تو فقط بدنی اور جسمانی نسبت کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ چنانچہ قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارے میں ارشاد ہوا، "اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنۡ اَھۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ " (سورہ ھود، آیت۴۶) "یہ آپ کے گھر والوں میں سے نہیں ہے، یہ غیر صالح عمل ہے"۔ پس معلوم ہوا کہ اصل چیز کردار ہے، کردار نیک ہو تو اس کی نسبت نیک اور مقدس ہستیوں کی طرف دی جائے گی، لیکن کردار ٹھیک نہ ہو تو کسی عظیم ہستی کی نسل سے بھی پیدا ہونے والا بیٹا ہی کیوں نہ ہو، درحقیقت وہ نااہل ہے۔ رسول اکرمﷺ کی حدیث مبارکہ میں بھی رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام درحقیقت ان لوگوں کے باپ ہیں، جو اپنے کردار کی بنیاد پر ان کے فرزند کہلانے کے مستحق ہیں۔ جن کا کردار ٹھیک نہیں، وہ جس طرح اپنے نسبی ماں باپ سے عاق ہوتے ہیں، اپنے روحانی و ایمانی باپ (رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام) سے بھی عاق ہیں۔ ان سے نہ دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں ایسے کسی شخص کی کوئی نسبت نہیں ہوگی۔ خداوند متعال سے دعا ہے کہ ہمیں یہ شرف بخشے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ہم رسول اکرمﷺ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فرزند کہلانے کے مستحق قرار پائیں اور اس عظیم نسبت کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
خبر کا کوڈ : 806954
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب