0
Friday 26 Jul 2019 07:56

ڈونالڈ ٹرامپ کی حقیقت

ڈونالڈ ٹرامپ کی حقیقت
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے امریکی ایوان نمائندگان کانگریس کی اس قرارداد کو ویٹو کر دیا، جس میں کانگریس نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیار فروخت کرنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کی طرف سے یہ ویٹو غیر متوقع نہیں تھا، کیونکہ ڈونالڈ ٹرامپ ایک تاجر پیشہ شخص ہیں، وہ کسی ایسے سودے سے پیچھے نہیں ہٹتے، جس سے ان کو مالی فائدہ پہنچ رہا ہو۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنی خطیر رقم ہتھیاروں کی خریداری پر صرف کر رہے ہیں، لیکن خود سعودی عرب اور اماراتی حکمرانوں کو اس بات کا شعور نہیں کہ وہ یہ ہتھیار کس کے خلاف استعمال کریں گے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اس وقت تین ممکنہ دشمن ہوسکتے ہیں۔ یمن، ایران اور اسرائیل۔ اسرائیل سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی دشمنی کا جائزہ لیں تو ٹرامپ اور ان کے داماد کوشنر کی کامیاب سفارت کاری سے یہ دشمنی دوستی میں بدل چکی ہے اور یوں بھی امریکہ کسی ایسے ملک کو ہتھیار فراہم نہیں کرتا، جو اسرائیل کا دشمن یا مخالف ہو۔ دوسرا امکان ایران کا ہوسکتا ہے، لیکن ایران عرصے سے خلیج فارس کے ممالک سے کہہ رہا ہے کہ آئو مل کر خطے کے تحفظ کے لیے مشترکہ دفاعی معاہدہ کرتے ہیں، ہم نہ آپس میں جنگ کریں گے، نہ کسی بیرونی طاقت کو خطے میں جنگ کرنے کی اجازت دیں گے اور اگر ہم میں سے کسی ایک ملک کے خلاف کسی بیرونی طاقت نے جارحیت کا ارتکاب کیا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ ایران کی اس تجویز کو عرب ممالک درخوراعتنا نہیں سمجھتے اور اپنے تحفظ اور سکیورٹی کے لیے امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے ہتھیار خریدنے کی اس وقت اگر کہیں ضرورت ہے تو وہ یمن کا محاذ ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی گذشتہ باون ماہ سے اس غریب اور معاشی و عسکری حوالے سے انتہائی کمزور ملک کے خلاف جدید ترین ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، جبکہ زمینی، ہوائی اور سمندری محاصرے میں پابند یمنی مجاہدین مقامی سطح پر بنے روایتی ہتھیاروں سے ایسے جنگی اتحاد کا مقابلہ کر رہے ہیں، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور بعض دیگر عرب ممالک کے فوجی، امریکہ کے جدید ترین ہتھیار، اسرائیل کی انٹیلی جنس حمایت اور برطانیہ و فرانس کی سیاسی و سفارتی و فوجی امداد شامل ہے۔ کیا مظلوم یمنیوں کے خلاف مزید کسی ہتھیار اور دشمن کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بقول موجودہ دور کا سب سے بدترین المیہ یمن میں رونما ہو رہا ہے، ایسے میں امریکہ کی طرف سے یمن کے خلاف استعمال کرنے کے لئے جنگی ہتھیاروں کی فراہمی انسانی حقوق کی پائمالی کی بدترین مثال نہیں تو کیا ہے؟ امریکی کانگریس نے ڈونالڈ ٹرمپ کو اس گندگی سے نکالنے کی کوشش کی، لیکن ڈونالڈ ٹرامپ نے سعودی عرب اور متحدہ امارات کو ہتھیار نہ بیچنے کے کانگریس کے فیصلے کو ویٹو کرکے اپنی تاجرانہ اور انسان دشمن ماہیت کو آشکار کر دیا ہے۔

صدر ٹرامپ نے کچھ دن پہلے اپنے چند بیانوں سے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کی طرف سے ڈرون گرائے جانے کے باوجود اس لئے جوابی حملہ نہیں کیا کہ اس سے کئی ایرانی ہلاک ہو جاتے یا پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں ٹرامپ نے یہ شیخی بگھاری تھی کہ وہ ایک ہفتہ میں افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں، لیکن اس میں ایک کروڑ انسان ہلاک ہو جائیں گے۔ صدر ٹرامپ کو ایران اور افغانستان میں جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے، لیکن یمن میں امریکی ہتھیاروں اور امریکی حمایت سے مرنے والے غریب یمنیوں کی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ صدر ٹرامپ جھوٹ کا سہارا لے کر ایران اور افغانستان میں انسانی جانوں کے ضیاع کی بات کرتے ہیں، وہ ایران کے سخت ردعمل سے خوفزدہ ہیں اور افغانستان میں امریکہ کی اٹھارہ سالہ ناکامیوں پر پردہ ڈال رہے ہیں۔ اگر انہیں انسانی جانوں کے ضیاع کا اتنا ہی خیال ہے تو یمن پر حملہ آور سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے اجتناب کریں، کیونکہ ابھی تک امریکہ بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرح یمنیوں کے قتل عام میں پوری طرح ملوث ہے اور ٹرامپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیار نہ دینے کے حوالے سے کانگریس کی قرارداد کو ویٹو کرکے اپنی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 807108
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب