0
Friday 26 Jul 2019 14:44

داستان ظہور (15، 16)

داستان ظہور (15، 16)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی

زخمیوں کی طبی امداد اور اس بڑے پتھر کو لاؤ:
عورتوں کا ایک گروہ عفت و حیا کے کمال کے ساتھ امام زمانہ علیه السلام کے لشکر کے ساتھ ہے۔ آپ سوال کریں گے کہ یہ لشکر جنگ کے لئے جا رہا ہے
پس یہ عورتیں کیوں جا رہی ہیں؟
کیا آپ نے سنا ہے کہ جب بھی حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم جنگ کے لئے جاتے، کچھ عورتیں بھی آپ کے ساتھ ہوتیں کہ جو زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے کے لئے ساتھ جاتی تھیں؟ اب امام بھی سیرت حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم پر چلنا چاہتے ہیں، کچھ عورتوں کو زخمیوں کی مرہم پٹی کے لئے ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اطلاع دی ہے کہ اس لشکر میں حضرت سمیہ بھی ہیں، وہی جو حضرت عمار یاسر کی ماں ہیں اور اسلام کی پہلی شہید عورت۔ (1)

وہ شیردل عورت تھیں، جو ابوجہل کے ظلم و ستم کی وجہ سے شہید ہوئیں لیکن اپنے عقیدہ و ایمان سے دستبردار نہ ہوئیں۔ (2)
اب خدا انہیں اس استقامت کا اجر دے رہا ہے اس لئے انہیں زندہ کیا ہے تاکہ اسلام کی عزت کو دیکھ سکیں۔
ان عورتوں میں ایک ”اُم ایمن“ بھی ہیں کیا انہیں جانتے ہیں؟
اُم ایمن جنگ احد، حنین اور خیبر میں لشکر اسلام کے ساتھ تھیں اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔
اب وہ بھی خدا کے حکم سے زندہ ہوتی ہیں تاکہ فرزند حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کے لشکر کے سپاہیوں کی مرہم پٹی کر سکیں۔
امام اپنے ایک صحابی کو مکہ کا گورنر بنا کر اپنا جانشین مقرر کرتے ہیں اور مدینہ روانگی کا حکم صادر کرتے ہیں۔(3)

لشکر امام مدینہ کی طرف گامزن ہے۔
موسم بہت گرم ہے آہستہ آہستہ ہر ایک پر پیاس کا غلبہ ہو رہا ہے ۔
میں بھی بہت پیاسا ہوں یہ سوچ رہا تھا کہ اس صحرا میں پانی کہاں سے تلاش کروں۔ کیا آپ بھی پیاسے ہیں؟
امام بھی اپنے ساتھیوں کی بھوک و پیاس کو دیکھتے ہیں حکم دیتے ہیں کہ لشکر کو اس جگہ روک دیا جائے۔
یہ بیایان جگہ ہے ہر طرف ریت ہی ریت نہ کوئی درخت نہ کوئی سایہ اور اوپر سے صحرا کی گرمی
اِدھر کیا ہو رہا ہے؟ کیوں تمام نظریں ادھر لگی ہیں؟
امام نے حکم دیا ہے کہ اس بڑے پتھر کو لایا جائے۔
یہ پتھر کہاں تھا؟
گویا جب سے مکہ سے روانہ ہوئے ہیں یہ پتھر بھی اس لشکر کے ساتھ ہے۔

اب امام اپنی عصا اس پتھر پر مارتے ہیں اچانک سب پکارتے ہیں پانی! پانی!
کتنا ٹھنڈا اور میٹھا پانی اس پتھر سے جاری ہو جاتا ہے! اس پتھر اور عصا کا کیا ماجرا ہے؟
اصل ماجرا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام میں لوٹ جاتا ہے ،جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کسی بیابان میں پیاس میں گرفتار ہو گئی، نزدیک تھا کہ سب پیاس سے ہلاک ہو جائیں، پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی عصا کو ایک پتھر پر مارا وہاں سے بارہ چشمے جاری ہوئے۔
پوری قوم بنی اسرائیل جس کی تعداد چھ لاکھ افراد سے زیادہ تھی اس پانی سے سیراب ہوئے اب وہی پتھر امام زمانہ علیه السلام کے سامنے ہے۔ (4)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ پتھر امام زمانہ علیه السلام کو وراثت میں ملا ہے، جی ہاں آپ تمام انبیاء کے وارث ہیں۔ (5)
پانی جو اس پتھر سے جاری ہوتا ہے پیاس کو بھی مٹاتا ہے اور بھوک کا خاتمہ بھی کرتا ہے۔ (6)

لشکر امام کا مکہ واپس لوٹنا:
ابھی ہم مکہ سے زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ ایک ناخوشگوار خبر ملی۔
امام کو یہ اطلاع دی گئی کہ مکہ کے لوگوں نے بغاوت کر دی ہے اور مکہ کے گورنر کو قتل کر دیا ہے۔ (7)
اب امام حکم دیتے ہیں کہ لشکر کو واپس مکہ پہنچایا جائے۔
مکہ کے لوگوں کو اطلاع ملتی ہے وہ جانتے ہیں کہ اس لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس بنا پر گریہ (روتے ہوئے) کرتے ہوئے، امام کی خدمت میں حاضر ہوکر کہتے ہیں، ''اے مھدی آل محمد، ہماری توبہ قبول کر لیں" (8)
آپ کیا سمجھتے ہیں امام ان کی توبہ قبول کر لیں گے؟
جی ہاں! آپ صحیح سمجھے ،جی ہاں وہ اسی کے بیٹے ہیں کہ جب ان کی نظر ابن ملجم پر پڑی اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام سے فرمایا، میرے بیٹے اس کے ساتھ مہربانی سے پیش آﺅ اس کے ساتھ نیکی کرو ایسا نہ ہو کہ وہ بھوکا پیاسا رہے۔ (9)
حضرت امام علی علیہ السلام کو جب سر میں ضرب لگ چکی تو آپ اپنے بچوں کو قاتل کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی نصیحت کر رہے ہیں!
امام زمانہ علیه السلام بھی حضرت امام علی علیہ السلام کے بیٹے ہیں ۔وہ تمام مکہ کے لوگوں کو معاف کرتے ہیں!
سچ ہے، ایسی کونسی حکومت ہے جو اتنی محبت و الفت سے پیش آتی ہے؟
کیا آج تک آپ نے سنا ہے کہ کسی شہر کے لوگوں نے بغاوت کی ہو گورنر کو قتل کیا ہو؛ لیکن حکومت نے انہیں معاف کر دیا ہو؟

وہ لوگ جو لوگوں کو امام زمانہ علیه السلام کے ظہور سے ڈراتے ہیں، نادانستہ طور پہ دشمن کے کھیت کو سیراب کرتے ہیں۔
نادانستہ طور پر ہم یہ عمل کیوں کریں؟
کیوں نہ ہم لوگوں میں امام کے شوق دیدار میں اضافہ کریں، تاکہ وہ ظہور کا انتظار کریں، اگر ہم لوگوں کو امام سے ڈرائیں گے تو یہ وہی چیز ہے کہ جو مکتب تشیع کے دشمن چاہتے ہیں۔
ہمارے امام زمانہ علیه السلام خدا کی رحمت و لطف کے مظہر ہیں۔ وہ آئیں گے تاکہ دنیا میں بھائی چارے میں اضافہ ہو۔ (10)
بہرحال امام، مکہ کے تمام لوگوں کو معاف کرتے ہیں؛ ایک اور شخص کو گورنر مقرر کرنے کے بعد پھر مدینہ کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ (11)
ابھی مکہ سے کچھ ہی دور ہوئے تھے کہ خبر ملی لوگوں نے ایک مرتبہ پھر بغاوت کردی ہے اور نئے گورنر کو بھی قتل کر دیا ہے۔
امام اس مرتبہ فیصلہ کرتے ہیں کہ شہر مکہ کو ظالموں کے وجود سے پاک کیا جائے، آپ اپنے چند ساتھیوں کو مکہ بھیجتے ہیں تاکہ اس شہر میں امن و امان قائم کریں۔ (12)
________________________________________
منابع:
1۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "یبعث السفیانی جیشاً إلی الکوفه وعدتهم سبعون ألفاً، فیصیبون من أهل الکوفه قتلاً وصلباً وسبیاً...": الغیبه للنعمانی ص 289، الاختصاص للمفید ص 256، بحار الأنوار ج 52 ص 238، تفسیر العیّاشی ج 1 ص 245، تفسیر نور الثقلین ج 1 ص 486۔
2۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "مع القائم ثلاث عشره امرأه، قلت: وما یصنع بهنّ، قال: یداوین الجرحی، قلت: سمّهنّ لی، فقال:... وسمیّه أُمّ عمّار بن یاسر": دلائل الإمامه ص 484. "أوّل شهید استشهد فی الإسلام سمیّه أُمّ عمّار": الاستیعاب ج 4 ص 1864، الطبقات الکبری ج 8 ص 264، البدایه والنهایه ج 3 ص 76۔
3۔ حضرت أُمّ أیمن أُحداً وحنیناً وخیبراً... تداوی الجرحی... اسمها برکه بنت ثعلبه: الإصابه ج 8 ص 361، الطبقات الکبری ج 8 ص 225، أعیان الشیعه ج 3 ص 555۔
4۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "یستخلف منها رجلاً من أهله...": بحار الأنوار ج 53 ص 11۔
5۔ تسیل کلّ عین فی جدول إلی سبط کانوا ستمئه ألف»: تفسیر البیضاوی ج 1 ص 329، مجمع البحرین ج 1 ص 462۔
6۔ الإمام الباقر(علیه السلام): "و یحمل حجر موسی بن عمران وهو وقر بعیر، فلا ینزل منزلاً إلاّ انبعث عین منه...": بصائر الدرجات ص 208، الکافی ج 1 ص 231، کمال الدین ص 670، الغیبه للنعمانی ص 244۔
7۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "من کان جائعاً شبع ، ومن کان ظمآناً روی": الغیبه للنعمانی ص 244، بحار الأنوار ج 13 ص 185، ج 52 ص 324۔
8۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "فإذا سار منها وثبوا علیه فیقتلونه": بحار الأنوار ج 53 ص 11۔
9۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "فیأتونه مهطعین مقنعی رؤوسهم ، یبکون ویتضرّعون ویقولون: یامهدی آل محمّد، التوبه التوبه": بحار الأنوار ج 53 ص 11۔
10۔ اطعمه یا بنی ممّا تأکله... ارفق یا ولدی بأسیرک وارحمه، و أحسن إلیه و أشفق علیه": بحار الأنوار ج 42 ص 287، مستدرک الوسائل ج 11 ص 79۔
11۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... أخرج منه الداعی إلی سبیلی والخازن لعلمی الحسن ، وأکمل ذلک بابنه (م ح م د) رحمهً للعالمین...": الکافی ج 1 ص 528، کمال الدین ص 31۔
12۔ الإمام الصادق(علیه السلام): "فیعظهم وینذرهم ویستخلف علیهم خلیفه ویسیر": بحار الأنوار ج 53 ص 11۔
خبر کا کوڈ : 807184
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب