0
Saturday 27 Jul 2019 08:06

امریکی وزیر خارجہ کا دورہ ایران

امریکی وزیر خارجہ کا دورہ ایران
اداریہ
ایران اور امریکہ کے اختلافات اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب کی کامیابی سے پہلے بھی انقلابی طبقہ "مردہ باد امریکہ" اور "مرگ بر امریکہ" کے نعرے بلند کرتا تھا۔ امریکہ کا اسلامی انقلاب کے حوالے سے دشمنانہ رویہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی حقیقت میں امریکہ کی دیرینہ پالیسیوں اور خطے کے حوالے سے اس کے سامراجی منصوبوں کی ناکامی تھی۔ لہذا امریکہ کی طرف سے اس انقلاب اور اسلامی حکومت کی مخالفت ایک لازمی امر تھی اور بدستور ہے۔ انقلاب کی کامیابی سے پہلے ایران میں اسرائیل کا باقاعدہ سفارتخانہ موجود تھا اور شاہ ایران کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ خطے کے ممالک میں اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرے۔ ایران میں شاہ کا زوال اور امریکی نواز حکومت کا سقوط حقیقت میں امریکی صہیونی منصوبے کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بن گیا۔ اسی تناظر میں امریکہ نے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کے لئے منصوبہ بندی شروع کر دی۔

ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں ہوں یا صدام کی طرف سے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ، سب کے پیچھے انقلاب دشمنی کا عنصر نمایاں تھا اور نمایاں ہے۔ آج عالمی سطح پر ملٹی پولر نظام دوبارہ سامنے آرہا ہے۔ چین، روس، ہندوستان حتیٰ یورپی یونین امریکہ سے ہٹ کر عالمی سیاست میں اپنی بات آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں ایران کا اسلامی انقلاب اور اس کی چالیس سالہ کامیاب جدوجہد ایک نئے پیغام اور نئے ویژن کے ساتھ ظہور ہوئی پذیر ہے۔ امریکہ اس نئے ویژن سے خوفزدہ ہے، وہ نرم اور سخت جنگ دونوں طریقوں سے اس آواز کو دبانا چاہتا ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کا نظریہ امریکہ کی سخت ترین مخالفت کے باوجود عالمی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ امریکہ اس کو دبانا چاہتا ہے، لیکن امریکہ کا یہی انداز ایران کے نظام کی شہرت کا بھی باعث بن رہا ہے۔ امریکہ نے خلیج فارس میں کشیدگی کو ہوا دے کر اور صدر ٹرامپ نے عالمی ایٹمی معاہدے سے نکل کر نیز ڈورن طیارہ بھیج کر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ایران کو ڈرایا دھمکایا جاسکتا ہے یا نہیں۔

لیکن جب اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو ٹرامپ خود یہ کہنے لگے کہ ہم ایران کے حوالے سے پیچھے ہٹ کر صبر کا مظاہرہ کریں گے۔ اب امریکہ نے نئی چال چلتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کو عالمی میڈیا میں آگے بڑھایا ہے کہ مائیک پمپیئو ایران کا دورہ کرکے صدر ٹرامپ کی پالیسیوں کی وضاحت کرنے کے خواہش مند ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کو بھی اس بات کا علم ہے کہ وہ ایران جو امریکہ سے مذاکرات کے لئے تیار نہیں، وہ امریکی وزیر خارجہ کی میزبانی کیسے قبول کرسکتا ہے، لیکن امریکہ اس بیان سے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے اپنے اقدام کا عالمی برادری کے سامنے ایک اور انداز میں دفاع پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ امریکہ اگر ایران کے بارے میں ذرہ برابر مثبت رویہ رکھتا تو وہ سب سے پہلے ایٹمی معاہدے میں واپس آتا اور ایران کے خلاف پابندیاں ختم کرتا، لیکن امریکہ اپنے منفی اقدامات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، وہ صرف بیان بازی سے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 807393
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب