0
Sunday 28 Jul 2019 07:37

بلیک لسٹ

بلیک لسٹ
اداریہ
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے مظلوم عرب ملک یمن پر گذشتہ باون ماہ سے ظلم و بربریت کا جو بازار گرم کر رکھا ہے، موجودہ دور میں اس کی مثال نہیں ملتی، یمنی شہریوں کو جس طرح جارحیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اگر یہی عمل کسی یورپی یا امریکہ کے کسی اتحادی ملک میں ہو رہا ہوتا تو مغربی میڈیا نے آسمان سر پر اٹھایا ہوتا اور اقوام متحدہ، سکیورٹی کونسل اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے قراردادوں اور بیان بازیوں سے زمین آسمان ایک دیئے ہوتے، لیکن مارچ 2015ء سے جاری سعودی جارحیت پر موت جیسی خاموشی طاری ہے۔ امریکہ برطانیہ اور فرانس انسانی حقوق کا دم بھرتے ہوئے یمن پر حملوں کے لیے سعودی عرب کو دھڑا دھڑ ہتھیار فروخت کر رہے ہیں۔ امریکی کانگریس نے معمولی ہمت کرکے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیار بیچنے کی ایک قرارداد ضرور منظور کی، لیکن صدر امریکہ نے بڑی دھٹائی سے سے ویٹو کر دیا۔

گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریش نے عالمی رائے کے دبائو میں آکر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بچوں کے حقوق پامال کرنے کی بلیک لسٹ میں بدستور شامل رکھنے پر تاکید کرکے اقوام متحدہ کی عزت و ساکھ کو بچانے کی کوشش کی، لیکن کیا اتنا کافی ہے؟ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ اگرچہ خوش آئند ہے، لیکن دنیا بھر کا مسلمان اس کو سن کر کیا محسوس کرتا ہوگا کہ وہ ملک جہان سے امن و آشتی کے دین اسلام نے ظہور کیا اور جس دین کے نبی کو رحمۃ اللعالمین قرار دیا جاتا ہے، اس دین کے پیروکار اور اپنے آپ کو خادم حرمین شریفین کہنے والے اپنے مظالم میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ اپنے ہمسایہ مسلمان عرب ملک کے معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کر رہے۔ آج یمن میں ہر دس منٹ میں ایک بچہ موت کی وادی میں جا رہا ہے۔

2019ء کے پہلے چھ ماہ یعنی جنوری سے جون تک پانچ لاکھ سے زائد یمنی شہری خطرناک وبائوں کا شکار ہوچکے ہیں، جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔ ہر دو گھنٹے میں ایک عورت اور درجنوں بچے غذائی قلت اور دوائیوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے جاں بحق ہو رہے ہیں۔ اسکول تباہ ہوچکے ہیں، مساجد مسمار ہوچکی ہے، ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو بمباری کے نتیجے میں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ ملک کے ماہر ڈاکٹر یا تو ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں یا طبی مراکز کی عدم موجودگی کی وجہ سے علاج معالجہ نہیں کرسکتے۔ یمن کا زمینی، سمندری اور فضائی محاصرہ جاری ہے، اس صورت حال میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو صرف بچوں کے حقوق کی پامالی کرنے والے ممالک کی بلیک لسٹ میں باقی رکھنا کافی نہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے جرائم دیکھ کر تو انہیں قابیل و شداد و فرعون و یزید والی شیطانی و ابلیسی فہرست میں شامل کرکے انسانی برادری سے نکال باہر کرنا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 807494
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب