0
Monday 29 Jul 2019 10:22

اب معاملہ امریکہ کی بقا کا ہے۔۔۔۔!

اب معاملہ امریکہ کی بقا کا ہے۔۔۔۔!
تحریر: تصور حسین شہزاد

عمران خان کا دورہ امریکہ ایک ایسے وقت میں کروایا گیا ہے، جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پائی جا رہی ہے، امریکہ اور اسرائیل سعودی عرب میں ریاض کے دفاع کے نام پر اپنی فوجیں اُتار چکے ہیں۔ عمران خان کو دورے کی دعوت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی اور عمران خان کی آمد سے قبل اس دورے کی امریکہ کی جانب سے زیادہ تشہیر نہیں کی گئی۔ ایک بھارتی صحافی نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکا سے ذرا پہلے جب امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان سے اس دورہ کے بارے میں سوال کیا تو اُس نے اپنی لاعملی ظاہر کی کہ وہ وائٹ ہاؤس سے پوچھ کر بتائیں گی۔ ٹرمپ نے اس دورے کو ظاہر نہ کرنے یا زیادہ مشہور نہ کرنے کا سوچا ہوا تھا، اسی لئے شائد وزارت خارجہ کو بھی اس دورے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی، بھارتی صحافی نے وزارت خارجہ کی ترجمان سے سوال کرکے اسے بہت اُچھالا تھا، یہاں تک کہ پاکستانی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اسی بھارتی مقصد کو تقویت دی اور اسے پاکستان میں بھی خوب اُچھالا گیا، جس کا مقصد اس دورے کا ناکامی سے دوچار کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ پاکستانی سیاسی جماعتیں بعض اوقات سیاسی مخالفت میں ریاست مخالف اقدام بھی کر جاتی ہیں، جو افسوسناک ہے۔

بھارتی میڈیا نے دورے سے قبل یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ یہ زبردستی کا دورہ ہے، جس کی ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں، یہاں تک کہ پاکستان کے معروف صحافی جاوید چودھری نے بھی اپنے کالم میں اس بات کا ذکر کر دیا کہ ٹرمپ کو کوئی پسند آجائے تو اسے اہمیت دیتے ہیں، بصورت دیگر ملاقات چند منٹوں کی ہوتی ہے اور بس، یہاں تک جاوید چودھری نے لکھا کہ ٹرمپ نے تو عمران خان کو کھانے کی بھی دعوت نہیں دی۔ خیر ان تمام تر مخالفتوں اور گمراہ کن تبصروں کے باوجود عمران خان کو امریکہ میں تاریخی پذیرائی ملی۔ اب دورے کے بعد جو کچھ چیزیں سامنے آرہی ہیں، ان سے پتہ چلا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہی عمران خان کو بلوایا تھا اور ان سے ایران اور افغانستان کے حوالے سے تعاون مانگا گیا ہے۔ امریکہ خطے میں اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کیلئے اندر سے جو کھوکھلا ہوچکا ہے، اسے ظاہر نہیں کرنا  چاہتا۔ اس وقت پاکستان اور قطر کے ایران کیساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ یہ دو ملک ہی ایران کے تمام حلقوں میں اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں۔

ٹرمپ ایران کیساتھ پنگا لینے کے بعد اب خوفزدہ ہے۔ سی آئی اے اور دیگر امریکی سکیورٹی اداروں اور سابق فوجی افسران نے ٹرمپ کو یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ ایران کیساتھ اگر کوئی پنگے بازی کرتا ہے تو اس کا سارا رعب و دبدبہ سمندر برد ہو جائے گا اور پوری دنیا میں امریکہ بے آبرو ہو کر رہ جائے گا۔ اس حوالے سے باقاعدہ ایک بریفنگ کا اہتمام کیا گیا، جس میں ٹرمپ کو یقین دلایا گیا کہ ایران کیساتھ تصادم کی صورت میں امریکہ کو کہاں کہاں سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس حوالے سے ٹرمپ کو بتایا گیا کہ یہ جنگ صرف ایران کی سرحدوں پر نہیں ہوگی بلکہ پوری دنیا کے تقریباً تمام ممالک  میں امریکی مفادات داو پر لگ جائیں گے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ ٹرمپ کو ایران کے دفاع کے حوالے سے ایسی خوفناک تصویر دکھائی گئی، جس سے ٹرمپ کا سارا "جارحانہ پن" ہوا ہوگیا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے اداروں سے سوال کیا ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ جس پر اُنہیں بتایا گیا کہ قطر اور پاکستان ایران کے زیادہ قریب ہیں، سعودی عرب نے جب قطر پر پابندیاں لگا دی تھیں تو ایران نے اپنی سرحدیں قطر کیلئے کھول دی تھیں۔

اب ان دونوں ممالک کے سربراہوں کو درمیان میں لاکر ثالثی کا فریضہ سونپ دیا جائے، جس پر ٹرمپ نے عمران خان کو امریکہ مدعو کیا اور یہ دعوت عمران کی شرائط کے عین مطابق دی گئی۔ عمران خان نے دورہ امریکہ سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ سے کچھ شرائط  منوائیں جنہیں امریکی صدر نے من و عن تسلیم کر لیا۔ عمران خان امریکہ گئے اور وہاں ایران کے حوالے سے ٹرمپ کو جو پاکستانی وزیراعظم نے بریفنگ دی، ویسی ہی پہلے امریکی ادارے بھی دے چکے تھے، عمران خان کی جانب سے صورتحال کی درست تصویر پیش کرنے پر ٹرمپ عمران خان کے پرستار بن گئے۔ اب عمران خان کو ہدف دے کر ایران کو راضی کرنے کیلئے بھیجا گیا، یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے واپسی پر قطر میں قیام کیا اور قطری حکمران کو صورتحال سے آگاہ کیا اور قطر میں ہی مستقبل کیلئے حکمت عملی طے کی گئی۔ عمران خان کے دورہ امریکہ سے قبل ایران نے بھی عمران خان کو یقین دلایا تھا کہ وہ خطے میں امن چاہتا ہے اور کسی قسم کی جنگ کا خواہاں نہیں، البتہ ایران کیخلاف کوئی جارحیت ہوئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔

ایران نے عمران خان کو یہ یقین دہانی کروا دی تھی کہ وہ کبھی بھی حملے میں پہل نہیں کرے گا اور اگر ایران پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو جنگ کا انجام ایران اپنے ہاتھوں سے لکھے گا۔ عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد ایرانی صدر نے بھی امریکہ کیساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا جبکہ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات اس صورت ہوں گے، جب اسے ہماری شکست نہ سمجھا جائے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ان پر ملک کی بڑی ذمہ داریاں ہیں، وہ مسائل کے حل کیلئے مکمل طور پر صرف قانونی اور مخلصانہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، مگر ایک ہی وقت میں ایران مذاکرات کے نام پر شکست کی کسی میز پر بیٹھنے کیلئے تیار نہیں۔

اب ڈونلڈ ٹرمپ یہ چاہتا ہے کہ اسے ایران سے بچایا جائے۔ اس وقت امریکہ کی حالت بھیگی بلی کی سی بن چکی ہے۔ امریکہ جان چکا ہے کہ اگر اس نے ایران پر حملے کی حماقت کی تو اس کے "سپر پاور" ہونے کا سارا زعم چکنا چُور ہو جائے گا اور یہ تاج چین یا روس اپنے سر سجا لیں گے۔ اگر امریکہ کا یہ کھوکھلا غرور ٹوٹتا ہے تو پوری دنیا میں امریکہ سے کوئی ہاتھ ملانے کیلئے بھی تیار نہیں ہوگا جبکہ امریکہ کی اپنی معیشت بھی تباہ ہو جائے گی۔ ایران کیساتھ ساتھ امریکہ افغانستان سے بھی باعزت واپسی چاہتا ہے۔ جس میں پاکستان ہی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ چند روز میں عراقی صدر برہام صالح بھی اسی سلسلے میں پاکستان کا دورہ کرنے آرہے ہیں، جو خطے میں امریکہ کے مستقبل کے حوالے سے منصوبے پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ برہام صالح کو پاکستانی صدر عارف علوی نے دعوت نامہ بھجوایا ہے، جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔

طالبان قیادت سے بھی پاکستان کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے، جنہوں نے عمران خان کو ملاقات کیلئے گرین سگنل دیدیا ہے۔ طالبان اس بات پر بھی خوش ہیں کہ عمران خان نے امریکہ میں ان کا مقدمہ اچھے انداز میں لڑا ہے۔ اس وقت امریکہ کو اپنی بقاء کی فکر لاحق ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان سے اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے۔ پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ خطے میں امن ہو اور اس حوالے سے ایران اور پاکستان ایک پیج پر ہیں، دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ خطہ ترقی کرے اور یہ ترقی اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک امریکہ خطے میں موجود ہے۔ اس حوالے سے امریکہ کو اپنا دوہرا معیار ختم کرنا ہوگا اور نہ صرف افغانستان بلکہ عراق، سعودی عرب سمیت دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک سے اپنا بوری بستر گول کرنا ہوگا۔ جب تک امریکہ یہاں سے نہیں نکلتا، اس کی بقا خطرے میں ہی رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 807645
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب