0
Monday 29 Jul 2019 08:38

آبنائے ہرمز سے باب المندب تک

آبنائے ہرمز سے باب المندب تک
اداریہ
خلیج فارس کے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، عراق اور کویت تیل کی دولت سے مالا مال ہیں اور اگر ان ممالک سے تیل کی سپلائی رک جائے تو ان ممالک کی اقتصاد جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام ممالک کا تیل اس وقت تک منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک آبنائے ہرمز کا علاقہ بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے محفوظ اور پرامن نہ ہو۔ عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کا 88 فیصد، ایران کا 90 فیصد، عراق کا 98 فیصد اور قطر و کویت کا 100 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے عبور کرکے دوسرے ممالک تک جاتا ہے۔ دنیا میں سپلائی ہونے والے تیل میں سے روزانہ سترہ ملین بیرل تیل اور دو سے تین بلین مکعب میٹر گیس اسی راستے سے عبور کرتی ہے، اسی طرح دنیا میں موجود تیل کے 70 فیصد قدرتی ذخائر خلیج فارس کے علاقے میں موجود ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تیل کی سپلائی کے لیے متبادل راستے تلاش کیے اور اربوں ڈالر کے خرچے سے نئی سپلائی پائپ لائن اور انفراسٹرکچر کھڑا کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنی تیل کی سپلائی کو آسانی سے ممکن نہ بنا سکے اور وسیع اخراجات کی وجہ سے یہ منصوبے اقتصادی ماہرین کی نظر میں ناکام یا ناکافی قرار پائے ہیں۔ پیٹرو کیمیکل کے شعبے کے ماہرین اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کسی وجہ سے بند ہو جائے تو تیل کی فی بیرل قیمت 300 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جائے گی۔ پانچ سے چھ گنا قیمت بڑھنے سے عالمی مارکیٹ میں جو بھونچال آئے گا، اس کا تصور ہی انتہائی خوفناک ہے۔ سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے ہٹ کر جو روٹ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، وہ یمن کے سمندری علاقے باب المندب سے گزرتا ہے اور باب المندب اس وقت یمنی مجاہدین کے نشانے پر ہے۔

یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کو باب المندب جیسے اسٹرٹیجک سمندری راستے کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اس وقت آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب دونوں مزاحمتی بلاک کے پاس ہیں۔ دنیا کی توانائی کی رگ پر استقامتی بلاک کا قبضہ ہے۔ امریکہ اور خطے میں اس کے حواری اس بات کو اچھی طرح درک کرچکے ہیں کہ ایران اور استقامتی بلاک اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اس سطح پر آچکا ہے کہ امریکہ کو خلیج فارس کے اندر یا ایران کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہوئے کئی بار سوچنا پڑے گا اور یوں بھی عراق، شام اور افغانستان کا شکست خوردہ امریکہ کسی نئی شکست کے لیے اپنے آپ کو ایک نئی دلدل میں دھکیلنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 807647
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب