0
Tuesday 30 Jul 2019 08:19

امریکہ اور مسلمان ملکوں کے حکمران

امریکہ اور مسلمان ملکوں کے حکمران
اداریہ
ترکی میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق ترکی کے عوام میں امریکہ اور اسرائیل سے نفرت سب سے زیادہ ہے۔ ترکی کی یونیورسٹیوں میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق 81.3 فیصد شرکت کنندگان نے امریکہ کو ترکی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح 70٫18 فیصد رائے دہندگان نے اسرائیل کو اپنے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ترکی وہ ملک ہے جہاں پر ایک لمبے عرصے تک سیکولر حکمران حکومت کرتے رہے اور اتاترک نے جو بنیاد رکھی تھی، اس کے حکومتی نظام میں اثرات اب بھی مشاہدہ کیے جا سکتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ مسلمان حکمرانوں کو دورہ امریکہ سے پہلے ترکی لے جا کر ترقی و پیشرفت دکھائی جاتی تھی او یہ باور کرایا جاتا تھا کہ اگر امریکہ کی کاسہ لیسی کرو گے تو ترکی کی طرح ترقی و پیشرفت کرو گے۔ یہ سلسلہ جاری رہا، لیکن امریکہ اور اسرائیل ترکی کے عوام میں اپنا اثر و نفوذ قائم نہ رکھ سکے اور بالآخر اسلامی مزاج کی پارٹیاں رجب طیب اردوغان کی صورت میں کئی برسوں سے ترکی پر حکومت کر رہی ہیں۔ رجب طیب اردوغان وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے میں ماہر ہیں، وہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی بحال رکھتے ہیں، انھوں نے اسرائیل کا سفارتخانہ بھی اپنے ملک میں کھول رکھا ہے، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے رہتے ہیں کہ جو اسرائیل کے ساتھ ہے، وہ ہمارا دشمن ہے۔

رجب طیب کے دل کی بات تو خداوند عالم کی ذات ہی بہتر جانتی ہے، لیکن ترکی کے عوام امریکہ اور اسرائیل سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ترکی کی طرح عالم اسلام کے دیگر ممالک من جملہ پاکستان کے عوام میں بھی امریکہ سے شدید نفرت ہے، لیکن پاکستانی حکمران اور فوجی و سول اسٹیبلشمنٹ امریکہ کی حمایت کو اپنی بقاء کا ضامن سمجھتی ہے۔ پاکستان نے امریکہ کے ہاتھوں کتنے زخم کھائے ہیں، اگر کوئی لکھنے بیٹھے تو کئی کتابیں مرتب ہو جائیں، لیکن اس کے باوجود ہمارے حکمرانوں کی پہلی ترجیح واشنگٹن یاترا ہوتی ہے۔ مسلمان عوام کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے بےخبر رکھنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کبھی مسلمان حکمران کو باغی، کبھی خوددار اور کبھی کامیاب سفارتکار بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تاکہ لوگوں کی توجہ اپنے حکمران کی باڈی لینگوئج اور اٹھنے بیٹھنے پر مرکوز رہے اور امریکی حکام سے طے پانے والے معاہدے اور سمجھوتے نظرانداز رہیں۔

امریکہ وہ شیطان بزرگ ہے، جس کی دوستی اس کی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے۔ مسلمان ریاستوں کے وہ حکمران جو واشنگٹن کی مرضی سے اقتدار میں آئے، امریکہ کے لیے ایک ملازم کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکی مفادات کے لیے اپنے ملکی مفادات کو قربان کرتے رہے، لیکن جب ان حکمرانوں پر کڑا وقت آیا تو امریکہ نے شاہ ایران، حسنی مبارک اور بن علی جیسے تابعداروں کی کوئی مدد نہ کی۔ آج کل پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ پر کئی دن گزرنے کے باوجود ان کی باڈی لینگوئج، انگریزی بولنے کے انداز اور اٹھنے بیٹھنے پر تبصرے جاری ہیں، لیکن افغانستان سمیت خطے کے حوالے سے عمران خان کے علاوہ پاکستان کے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ پینٹاگون اور سی آئی اے حکام سے جو ملاقاتیں ہوئی ہیں، اسے عمران خان کی باڈی لینگوئج کی تعریفوں میں چھپا دیا گیا ہے۔ امریکہ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا، وہ بھی ایسے ملک کے ساتھ جو اقتصادی بحران میں پھنسا ہوا ہو۔ اس دورے سے خطے کے امریکہ مخالف ممالک اور سامراج دشمن تحریکوں کو جو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس پر کسی کی نگاہ نہیں۔  
خبر کا کوڈ : 807852
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب