0
Tuesday 30 Jul 2019 13:09

داستان ظہور (17،18،19)

داستان ظہور (17،18،19)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی
 
مہتاب کے دشمنوں سے انتقام:
امام زمانہ کا لشکر شہر حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کے نزدیک ہو رہا ہے۔
اگرچہ سفیانی کے لشکر کی ایک بہت بڑی تعداد بیابان ”بیدا“ میں غرق ہو چکی ہے لیکن ابھی تک مدینہ پر اس کا کنٹرول ہے۔
انہوں نے شہر مدینہ میں بہت زیادہ ظلم و ستم کئے ہیں، مسجد نبوی اور حرم رسول کو ویران کر دیا ہے۔
لشکر امام شہر مدینہ میں داخل ہوتا ہے اور اس شہر پر امام کا کنٹرول ہو جاتا ہے۔ امام مسجد نبوی میں داخل ہوتے ہیں اور اس کی تعمیر کا حکم دیتے ہیں۔
جی ہاں! یہ مدینہ شہر ہے غم و اندوہ کا شہر!
یہ مدینہ ہی تھا کہ جب لوگوں نے خانہ وحی کو آگ لگائی تھی،
اگر دل کے کان سے سنو گے تو ابھی بھی اس شہر سے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے رونے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں،
قدم قدم پر مظلومیت زہراءکے نشان باقی ہیں۔
امام اپنی مظلوم ماں کا انتقام لینا چاہتے ہیں اگر کل خانہ زہراء کو آگ لگائی گئی، آج خدا کے حکم سے انہیں زندہ کیا جائے گا تاکہ انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جا سکے۔ (1)
یہاں پر ہر شیعہ کا دل خوشی سے مسرور ہو جاتا ہے۔
امام شہر مدینہ کے بعد کوفہ کی جانب روانہ ہوتے ہیں چونکہ خدا نے حکومت مہدی کا دارالخلافہ کوفہ کو قرار دیا ہے۔

کوفہ کی جانب:
کیا آپ نے سید حسنی کا نام سنا ہے؟
وہ امام حسن علیہ السلام کے بیٹوں میں سے ہیں کہ جو خراساں میں قیام کریں گے اور لوگوں کو امام زمانہ علیه السلام کی طرف دعوت دیں گے۔
سید حسنی نے سنا ہے کہ کوفہ سفیانی کے کنٹرول میں ہے، اس لئے اپنی فوج کو کوفہ کی جانب روانہ کرتے ہیں تاکہ سفیانی کو شکست دے کر کوفہ کو آزاد کرائیں۔
انہوں نے سیاہ رنگ کے پرچم کو اپنے لئے منتخب کیا ہے اور بارہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ کوفہ کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں۔ (2)
جب سفیانی کو اس کی اطلاع ملتی ہے وہ کوفہ کو چھوڑ دیتا ہے اور یہ شہر سید حسنی کے ہاتھوں فتح ہو جاتا ہے۔ (3)
سفیانی کا کوفہ سے فرار ایک جنگی تکنیک ہے؛ کیونکہ اس کی اصلی جنگ امام زمانہ علیه السلام کے ساتھ ہے، اسی لئے وہ اپنی قوت کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
ابھی کوفہ نہیں پہنچے کہ خبر ملتی ہے کہ کوفہ کو سید حسنی نے فتح کر لیا ہے۔
اب لشکر حق آسانی سے اس شہر میں داخل ہو سکتا ہے۔
میرا بڑا دل چاہتا ہے کہ مسجد کوفہ کو دیکھوں،
میں لمحات گن رہا ہوں کہ جتنا جلدی ہو سکے کوفہ میں داخل ہوں؛ لیکن لشکر رک جاتا ہے۔

اب کیا ہو گیا ہے؟
امام حکم دیتے ہیں کہ لشکر کو کوفہ سے باہر ہی روک دیا جائے۔
اس طرف دیکھیں!
سید حسنی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہماری طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ امام کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں عرض ادب و سلام کرتے ہیں۔ وہ اپنے امام پہ محکم اعتقاد رکھتے ہیں؛ لیکن اپنے ساتھیوں کے یقین کو بڑھانے کی خاطر امام کو اس طرح مخاطب کرتے ہیں، "اگر آپ مہدی آل محمد ہیں اپنی امامت کی نشانیاں دکھائیں''۔ (4)
شاید آپ کہیں کہ امامت کی نشانی کیا ہے؟
سید حسنی کی مراد عصاء موسیٰ علیہ السلام اور حضرت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم کا عمامہ اور انگوٹھی ہے، امام زمانہ علیه السلام سید حسنی جس چیز کا تقاضا کرتے ہیں دکھاتے ہیں۔
سید حسنی اللہ اکبر، اللہ اکبر کی آوازیں بلند کرتے ہیں۔
سب دیکھتے ہیں اور وہ امام کی پیشانی کا بوسہ لیتے ہیں۔ (5)
بعد میں سید حسنی کہتے ہیں، ''اے فرزند رسول خدا آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں''۔ (6)

سید حسنی امام کی بیعت کرتے ہیں اور عہد و پیمان کرتے ہیں۔ جب اس کے ساتھی یہ منظر دیکھتے ہیں وہ بھی امام کی بیعت کرتے ہیں۔
اب وقت آن پہنچا ہے کہ امام شہر کوفہ میں داخل ہوں امام اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد کوفہ میں مستقر ہوتے ہیں اس مسجد میں جگہ جگہ خیمہ نصب کرتے ہیں۔(7)
آج پہلی رات تھی جب لشکر امام مسجد کوفہ میں آیا تھا وہ صبح تک اپنے خدائے مہربان کے ساتھ راز و مناجات میں رہے۔
کیا جانتے ہیں اس مسجد میں ایک مستحب نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے۔ (8)
چند روز گزر جاتے ہیں۔۔۔
پتہ چلتا ہے کہ امام اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ کوفہ کے اطراف کے بیابانوں میں جاتے ہیں، پس ہم بھی ان کے ساتھ جاتے ہیں تاکہ دیکھیں کیا ہوتا ہے کچھ دیر چلنے کے بعد امام بیابان کے وسط میں رکتے ہیں اپنے اصحاب کو گڑھا کھودنے کا حکم دیتے ہیں۔
تھوڑی دیر کے بعد پتہ چلتا ہے کہ زمین کے اندر سے اسلحہ ملتا ہے!
جی ہاں یہ وہ اسلحہ ہے کہ جو خدا نےامام زمانہ علیه السلام کے لیے تیار کیا ہے۔ (9)
امام اپنے ساتھیوں کو حکم دیتے ہیں کہ اس اسلحہ کو شہر کوفہ میں لے جائیں اور اپنے سپاہیوں میں تقسیم کر دیں۔ اصحاب امام اس اسلحہ کو لے کر کوفہ لوٹ آتے ہیں۔

سفیانی کا توبہ کرنا:
اس مدت کے دوران جب امام کوفہ میں تھے ستر ہزار لوگ امام مھدی کے لشکر سے آ ملے ہیں۔ (10)
امام کا اصل مقصد عدالت اور امن و امان کا قیام ہے۔ اسی لئے آپ سفیانی سے جنگ کے لئے جاتے ہیں یہ خبر سفیانی کو بھی ملتی ہے۔
سفیانی سوچ میں پڑ جاتا ہے اسے تین لاکھ کے لشکر کی یاد آتی ہے کہ بیابان ”بیدا“ میں زمین میں دھنس گیا، وہ ڈر رہا ہے کہ کہیں خود بھی ایسی ہی سرنوشت کا شکار نہ ہو جائے۔
اب سفیانی توبہ کرنے اور اپنی جان بچانے کا فیصلہ کرتا ہے۔
کیا امام اس کی توبہ کو قبول کرلیں گے؟
دیکھو! یہ سفیانی اپنے لشکر سے جدا ہو کرتنہا امام کی خدمت میں آرہا ہے، چونکہ وہ اکیلا آیا ہے اس کے پاس اسلحہ نہیں ہے، اصحاب امام اسے امام سے ملنے کی اجازت دیتے ہیں۔ (11)
سفیانی امام کے پاس آ کر بات کرتا ہے۔
میں بےصبری سے انتظار کر رہا ہوں کہ دیکھوں کہ نتیجہ کیا ہوتا ہے، کیا امام اس کو قبول کر لیتے ہیں۔
کوئی بھی بھلا نہیں سکتا کہ سفیانی نے بہت زیادہ قتل و غارت کی ہے اور ہزاروں شیعوں کو شہید کیا ہے۔
کیا میں صحیح دیکھ رہا ہوں؟ یہ سفیانی امام کی بیعت کر رہا ہے! امام نے سفیانی کی توبہ کو قبول کرلیا ہے۔

میری جان آپ پر قربان اے مہربان امام۔
آپ اس قدر مہربان ہیں کہ ہزاروں شیعوں کے قاتل کو بھی بخش دیتے ہیں!
پس کیوں کچھ جھوٹے لوگ ،لوگوں کو آپ کی تلوار سے ڈراتے ہیں؟
کیوں میں ان جھوٹی باتوں کو قبول کرتا رہا ہوں؟ کیوں؟
اب سفیانی امام کی بیعت کرنے کے بعد اپنے لشکر کی طرف واپس آتا ہے۔ جب وہ اپنے لشکر سے ملتا ہے تو اس کے سپاہی کہتے ہیں۔
....جناب کمانڈر! آپ کے کام کا انجام کیا ہوا؟
....میں نے ہتھیار ڈال دیئے اور امام کی بیعت کر لی ہے۔ (12)
....کتنی بڑی غلطی کر ڈالی ہے اور اپنے لئے ذلت کو خرید لیا ہے۔
....تمہاری مراد کیا ہے؟
....آپ اتنے بڑے لشکر کے کمانڈر ہیں ہم سب آپ کے حکم کے تابع ہیں؛
لیکن اب آپ ایک سپاہی سے زیادہ نہیں اب اپنے کمانڈر کی اطاعت کریں۔ (13)
جی ہاں سفیانی کے سپاہی اس کی کمزوریوں سے آگاہ ہیں اور جانتے ہیں وہ قدرت کا پیاسا ہے وہ اس کے ان جذبات سے کھیلتے ہیں۔
سفیانی تھوڑی دیر کے لئے سوچ میں ڈوب جاتا ہے لیکن سفیانی کے سپاہیوں کی باتیں اپنا اثر دکھا چکی ہیں بالآخر وہ اپنے فیصلہ پر پریشمان ہو جاتا ہے۔
اب وہ امام کے ساتھ اپنی بیعت کو توڑ دیتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ شہر کوفہ پر حملہ کر کے امام کے ساتھ جنگ کرے۔ (14)
________________________________________
منابع:
1۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "فیثبون علیه بعده فیقتلونه فیرد إلیهم...": بحار الأنوار ج 53 ص 11۔
2۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "ثمّ یدخل المسجد فینقص الحائط حتّی یضعه إلی الأرض... وذلک الحطب عندنا نتوارثه": دلائل الإمامه ص 455۔
3۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "یخرج شاب من بنی هاشم... یأتی من خراسان...": الملاحم والفتن ص 120۔ عن الإمام الصادق(علیه السلام): "..یخرج الحسنی... یصیح بصوت له فصیح: یا آل أحمد أجیبواالملهوف": بحار الأنوار ج 53 ص 15، مکیال المکارم ج 1 ص 77۔ عن رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): "حتّی یبعث الله رایه من المشرق سوداء... حتّی یأتوا رجلاً اسمه اسمی": الملاحم والفتن ص 121، کتاب الفتن للمروزی ص 189. علیّ(علیه السلام): "فیلحقه رجل من أولاد الحسن (علیه السلام) فی اثنی عشر ألف فارس...": معجم أحادیث الإمام المهدی(علیه السلام) ج 3 ص 97۔
4۔ "ولم یزل یقتل الظلمه حتّی یرد الکوفه"...: بحار الأنوار ج 53 ص 15۔
5۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... فیخرج الحسنی فیقول: إن کنت مهدی آل محمّد فأین هراوه جدّک رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم) و خاتمه و بردته...": بحار الأنوار ج 53 ص 15۔
6۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... فیقول: جعلنی الله فداک، إعطنی رأسک أقبّله، فیعطیه رأسه فیقبّله بین عینیه...": تفسیرالعیّاشی ج 2 ص 59۔
7۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... فیقول الحسنی: الله أکبر، مدّ یدک یابن رسول الله حتّی نبایعک": بحار الأنوار ج 53 ص 15۔
8۔ الصادق: "ضرب القائم الفساطیط فی مسجد کوفان...": الغیبه للنعمانی ص 334۔
9۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "فإنّ الصلاه المکتوبه فیه حجّه مبروره، والنافله عمره مبروره": الکافی ج 3 ص 491، وسائل الشیعه ج 5 ص 261، الغارات ج 2 ص 802، فضل الکوفه و مساجدها ص 29۔ عن الإمام الباقر (علیه السلام): "فقال لأصحابه: تعبّدوا لیلتکم هذه، فیبیتون بین راکع و ساجد...": تفسیر العیّاشی ج 2 ص 59۔
10۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "إذا قام القائم أتی رحبه الکوفه فقال برجله هکذا ، و أومأ بیده إلی موضع، ثمّ قال: احفروا ها هنا، فیحفرون فیستخرجون اثنی عشر ألف درع و اثنی عشر ألف سیف": الاختصاص ص 334، بحار الأنوار ج 52 ص 377۔
11۔ الإمام الباقر (علیه السلام): إذا ظهر القائم و دخل الکوفه، بعث الله تعالی من ظهر الکوفه سبعین ألف صدّیق، فیکونون فی أصحابه وأنصاره...": بحار الأنوار ج 52 ص 390۔
12۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "إذا بلغ السفیانی... یتجرّد بخیله حتّی یلقی القائم...": بحار الأنوار ج 52 ص 388۔
13۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "فیجیء السفیانی فیبایعه، ثمّ ینصرف إلی أصحابه»": بحار الأنوار ج 52 ص 388۔
14۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "ثمّ ینصرف إلی أصحابه فیقولون: ما صنعت؟ فیقول: أسلمت و بایعت، فیقولون له: قبّح الله رأیک، بینما أنت خلیفه متبوع فصرت تابعاً": بحار الأنوار ج 52 ص 388۔
خبر کا کوڈ : 807942
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب