0
Wednesday 31 Jul 2019 07:57

سزائے موت پانے والے بحرینی قیدی

سزائے موت پانے والے بحرینی قیدی
 اداریہ
آج بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی تشدد پسندانہ پالییسیوں سے کون واقف نہیں، آل خلیفہ کے خلاف آٹھ سال پہلے فروری 2011ء میں عوامی جمہوری تحریک شروع ہوئی۔ آل خلیفہ حکومت کا سقوط چند قدم پر تھا کہ سعودی عرب نے بحرین کے استبدادی آل خلیفہ خاندان کو بچانے کے لیے ایک ہزار کی تعداد میں فوجی بھیج کر اسے بچا لیا۔ بات سعودی عرب تک محدود ہوتی تو شاید قابل تحمل ہوتی، لیکن اس وقت آل خلیفہ حکومت خلیج فارس میں اسرائیلی حکومت کا اڈہ بنی ہوئی ہے۔ گذشتہ دنوں بحرین کے دارالحکومت مناما میں فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرنے کے لیے سنچری ڈیل کے سائے میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں نہ صرف اسرائیلی وفد نے بھرپور شرکت کی بلکہ میڈیا ٹیم کی چھتری کے سائے میں کئی اسرائیلی دہشت گرد بحرین کی گلی کوچوں میں دندناتے دیکھے گئے۔

آل خلیفہ اور اسرائیل کے تعلقات میں گرمجوشی کے بعد آل خلیفہ حکومت مخالف تحریک کے کارکنوں کے خلاف بحرینی حکومت کا رویہ مزید تلخ اور وحشیانہ حد تک خطرناک ہوگیا ہے۔ آل خلیفہ حکومت نے حال ہی میں دو بحرینی نوجوانوں کو پھانسی کی سزا دے کر اپنی استبدادی اور قرون وسطیٰ کی طرز پر استوار انسان دشمن پالیسی کا کھلم کھلا اظہار کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق دو بحرینی نوجوانوں احمد الملالی اور علی العرب کو تشدد کے زور پر لیے گئے جھوٹے اعترافات کے نتیجے میں ایک جعلی اور جانبدار عدالت کے ذریعے پھانسی کا حکم سنا کر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے رپورٹر اگس کالا مارد نے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد سے پہلے ایک بیان میں پھانسی کی سزا کو ماورائے عدالت اور خود سرانہ فیصلہ قرار دے کر پھانسی کی سزا روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بحرین کی سب سے بڑی جماعت جمعیت الوفاق اسلامی کے نائب سربراہ شیخ حسین الدیہی نے پھانسی کی ان سزائوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سزائیں آل خلیفہ حکومت کے صہیونی حکومت کی گود میں جا بیٹھنے کا نتیجہ ہیں۔ شہید احمد الملالی اور شہید علی العرب کے بعد ابھی مزید 23 بحرینی مجاہد پھانسی کی سزا کے منتظر ہیں، اگر عالمی برادری بالخصوص اسلامی تنظیمں خاموش رہیں تو ان 23 بحرینی نوجوانوں کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔ بحرین کے تمام سیاسی قیدی بالخصوص پھانسی کی سزا پانے والے یہ 23 جوان ضمیر کے قیدی ہیں۔ انہوں نے ملک میں استبداد، ڈکٹیٹرشپ کے خاتمے نیز جمہوریت کے نفاذ اور بحالی کے لیے صدائے احتجاج بلند کی تھی۔ آج حریت پسندوں اور زندہ ضمیر انسانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان نوجوانوں کو پھانسی کی سزا سے بچانے کے لیے صدائے احتجاج بلند کریں۔ بحرین کی آل خلیفہ حکومت کب تک بے گناہوں کو تختہ دار پر لٹکاتی رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 808055
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے