0
Thursday 1 Aug 2019 07:49

ڈونالڈ ٹرامپ کا آدھا سچ

ڈونالڈ ٹرامپ کا آدھا سچ
اداریہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اپنے جھوٹوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ وہ ماہانہ کتنے جھوٹ بولتے ہیں، اس پر ماہرین کے اعداد و شمار ہر معروف ویب سایٹ پر موجود ہیں۔ مختلف امریکی صدور اپنے عہدے اور منصب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ملکی اور عالمی انعامات حاصل کرتے رہے ہیں، جن میں باراک اوباما کے لئے امن کے نوبل انعام کا تذکرہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرامپ کو اگر کوئی عالمی ایوارڈ دیا جا سکتا ہے تو وہ کذب و جھوٹ اور احمقانہ ٹویٹ کرنے کا انعام ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر جب سے اقتدار میں آئے ہیں، اپنے جھوٹوں، غلط بیانیوں اور ٹویٹ پیغامات سے امریکی شہریوں کے ساتھ ساتھ عالمی امن کیلئے مشکلات پیدا کرتے چلے آرہے ہیں، لیکن حال ہی میں انہوں نے ایران کے بارے میں ایسا ٹویٹ کیا ہے، جس پر ایران و امریکہ دونوں کے ماہرین اور مورخین حیران و ششدر ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ انسان کو جس بارے میں معلومات نہ ہوں، اس کے متعلق یا تو خاموشی اختیار کرے یا کسی صاحب علم سے پوچھ لے۔ دنیا کے ہر ملک کے حکمران کے پاس مختلف شعبوں کے درجنوں ماہرین اس لئے ہوتے ہیں، تاکہ حکمران ایسی کوئی بات یا بیان نہ دے، جو حقیقت پر مبنی نہ ہو اور بعد میں سبکی کا باعث بنے۔ حکومتیں اس طرح کے مشاورین اور ماہرین کو بڑی بڑی تنخواہیں اس لئے دیتی ہے، تاکہ صحیح وقت پر متعلقہ موضوع پر حکومت یا حکمران کا حقائق پر مبنی موقف منظر عام پر آسکے۔ ایران کے بارے میں امریکی صدر کے آخری ٹویٹ کو اگر سرسری انداز سے بھی پڑھا جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرامپ نے نہ تو کسی ایرانی امور کے ماہر اور نہ ہی کسی مورخ یا عسکری مبصر سے مشورہ کیا ہے۔ انہوں نے بڑی بے باکی سے یہ ٹویٹ کیا ہے کہ ایران نے آج تک میدان جنگ میں کوئی فتح حاصل نہیں کی اور نہ ہی مذاکرات کی میز پر شکست کھائی ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ کے اس بیان کو آدھا سچ قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے ماضی میں بھی اور بالخصوص اسلامی انقلاب کے بعد اپنے اصولوں پر کبھی سودہ بازی بھی نہیں کی اور نہ ہی مذاکرات سے فرار اختیار کیا۔ عالمی اور علاقائی سطح پر جتنے مذاکرات انجام پائے، چاہے وہ دو فریقی تھے یا چند فریقی، ایران نے اسلام، اپنے ملک اور عوام کے  مفادات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور عقل و منطق سے سفارتی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات انجام دیئے، ان مذاکرات میں ایران کس حد تک کامیاب رہا، تاریخ اور ڈونالڈ ٹرامپ کا حالیہ ٹویٹ اسکی تائید کرتے نظر آرہے ہیں۔ رہ گئی یہ بات کہ ایران نے میدان جنگ میں ہمیشہ شکست کھائی ہے، اس کے لئے دور جانے کی ضرورت نہیں اور اس کا جواب شام، عراق اور خطے میں امریکہ کی پے در پے ناکامیاں ہیں، استقامتی بلاک جس کی قیادت ایران کے پاس ہے، اس نے سپر پاور امریکہ کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں، وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی ناکامیوں کے زخم چاٹ رہا ہے۔ ناکامیاں امریکہ کا مقدر ٹھہری ہیں، ویت نام سے افغانستان اور عراق سے شام تک امریکی ناکامیوں کی داستان بکھری ہوئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ کو اپنے اس آدھے سچ میں یہ اضافہ کرنا چاہیئے کہ امریکہ کو ایران کے برخلاف میدان جنگ اور مذاکرات دونوں میں شکست و ناکامی کا سامنا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 808278
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب