0
Friday 9 Aug 2019 14:12

داستان ظہور (23واں اور آخری حصہ)

داستان ظہور (23واں اور آخری حصہ)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی

زمین پر جنت
اب چاہتا ہوں کہ بتاؤں ظہور کے زمانہ کے وقت زندگی کیسی ہو گی، کیا سننا پسند کریں گے؟
آپ کو زمانہ ظہور کی تمام خوبیاں اس طرح نظر آئیں گی:
اس زمانہ میں تمام خوبیاں اکٹھی ہوں گی۔ (1)
تمام اہل آسمان اور زمین خوشی و انسباط میں ہوں گے؛ کیونکہ عدل کی حکومت قائم ہے۔ (2)
ظلم و ستم کا نام و نشان نہ ہوگا۔
لوگوں میں فقر و غربت کا خاتمہ ہو چکا ہے صدقہ دینے کو فقیر نہ ملے گا۔ (3)
تمام لوگ دنیا کی بجائے عبادت کے عاشق ہیں اور اپنے کمال کو خدا کی بندگی میں تلاش کرتے ہیں اور ہرگز گناہ نہیں کرتے۔ (4)
فرشتے انسانوں پہ سلام کرتے ہیں ان کے ساتھ معاشرت کرتے ہیں۔
جی ہاں! لوگوں کے دل پاک ہو گئے ہیں لوگ فرشتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ (5)
خدا لوگوں پہ رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے، تمام لوگوں کی عقل کامل ہو جاتی ہے۔ (6)
علم و دانش عام ہوگئی ہے اور انسان کا علم اور ترقی دس گنا بڑھ گئی ہے۔ (7)
خداوند متعال نے لوگوں کی قوت بینائی اور سماعت میں اضافہ کردیا ہے یہاں تک کہ لوگ پوری دنیا سے بغیر کسی وسیلہ کہ امام کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور بات بھی سن سکتے ہیں (8)

جو لوگ امام کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتے ہیں فرشتے انہیں کوفہ لے جاتے ہیں پھر واپس اپنے وطن پہنچا دیتے ہںں۔ (9)
مومن اس قدر مقام پا لیتے ہیں کہ امام ہر ایک کو ایک لاکھ فرشتوں میں اپنا نمائندہ قرار دیتا ہے۔ (10)
پوری دنیا میں کوئی بیمار نظر نہیں آتا سب لوگ صحت و سلامتی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ (11)
پوری دنیا میں کہیں بھی اختلاف نظر نہیں آتا اور ہر قوم قبیلہ کے لوگ آرام و سکون کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ (12)
کوئی کسی کے ساتھ دشمنی و حسادت نہیں کرتا، ہر ایک صمیم قلب سے دوسرے کو پسند کرتا ہے۔ (13)
اس زمانے میں دوستیاں سچی ہیں، امام کے حکم پر دوست کو دوست سے وراثت ملتی ہے۔ (14)
پوری دنیا میں امن قائم ہو گیا ہے اس طرح کہ وحشی درندے بھی انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے حتٰی کہ بھیڑیا بھی بھیڑ پہ حملہ نہیں کرتا۔ (15)
خدا کی رحمت میں اضافہ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے۔ (16)
یہ وہی خوبصورت ظہور ہے کہ تمام انبیاء الٰہی جس کے منتظر تھے وہ ظہور کہ جو تمام انسانوں کے دلوں کی آواز تھا۔ (17)

آخری بات:
اے جان جہاں، اے چھپے ہوئے خزانے تم پر سلام ہو۔
اب پتہ چلا ہے کہ آپ کا ظہور کتنا خوبصورت ہے ہم بے صبری سے آپ کا انتظار کر رہے ہیں کہ آپ تشریف لائیں ہم پہ نوازش فرمائیں اور ہماری پیاس کو سیراب کریں۔
(تمام شد)
________________________________________
منابع:
1۔ الإمام الحسین (علیه السلام): "الخیر کلّه فی ذلک الزمان یقوم قائمنا": الغیبه ص 213۔
2۔ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): "... یفرح به أهل السماء والأرض، والطیر فی الهواء، والحیتان فی البحر": الملاحم والفتن ص 281۔ عن رسول الله: "لا تذهب الدنیا حتّٰی یملک رجل من أهل بیتی... اسمه اسمی یملأ الأرض عدلاً و قسطاً...": فتح الباری ج 13 ص 185، المعجم الصغیر ج 2 ص 148، صحیح ابن حبّان ج 15ص 238، المعجم الأوسط ج 4 ص 256، تفسیر الرازی ج 2 ص 28، الجرح والتعدیل ج 2 ص 494، تاریخ بغدادج 1 ص387، سیر أعلام النبلاء ج5 ص 116۔
3۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "لا یجد الرجل منکم یومئذ موضعاً لصدقته ولا لبرّه; لشمول الغنی جمیع المؤمنین": الإرشاد ج 2 ص 384، بحار الأنوار ج 2، ص 384۔ عن الإمام الصادق (علیه السلام): "یطلب الرجل منکم من یصله... فلا یجد أحداً یقبل منه": الإرشاد ج 2، ص 381، بحار الأنوار ج 52 ص 337۔
4- الإمام الصادق (علیه السلام): "... یحسن حال عامّه الناس... لا یُعصی الله فی أرضه...": بحار الأنوار ج 52 ص 128۔
5۔ الإمام الرضا (علیه السلام): "إذا قام القائم، یأمر الله الملائکه بالسلام علی المؤمنین والجلوس معهم فی مجالسهم...": دلائل الإمامه ص 455۔
6۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "إذا قام قائمنا وضع الله یده علی رؤوس العباد، فجمع بها عقولهم...": الکافی ج 1 ص 25، کمال الدین ص 674، الخرائج والجرائح ج 1 ص 24۔
7۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "العلم سبعه و عشرون حرفاً، فجمیع ما جاءت به الرسل حرفان، فلم یعرف الناس حتّی الیوم غیر حرفین ، فإذا قام القائم أخرج الخمسه والعشرین حرفاً فبثّها فی الناس...": مختصر بصائر الدرجات ص 117، بحار الأنوار ج 52 ص 336۔
8۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "إنّ قائمنا إذا قام، مدّ الله عزّ وجلّ لشیعتنا فی أسماعهم و أبصارهم، حتّی لا یکون بینهم وبین القائم برید ، یکلّمهم فیسمعون...": الکافی ج 8 ص 241، بحار الأنوار ج 52 ص 336۔
9۔ الإمام الرضا (علیه السلام): "فإذا أراد واحد حاجه أرسل القائم من بعض الملائکه أن یحمله...": دلائل الإمامه ص 455۔
10۔ الإمام الرضا (علیه السلام): "و منهم من یصیّره القائم قاضیاً بین مئه ألف من الملائکه...": دلائل الإمامه ص 455۔
11۔ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): "... ولا یمرض، و یقول الرجل لغنمه ولد وابه: اذهبوا وارعوا...": الملاحم والفتن ص 203، کتاب الفتن للمروزی ص 354۔
12- الإمام الصادق (علیه السلام): "لیرفع عن الملل والأدیان الاختلاف، ویکون الدین کلّه واحداً...": مختصر بصائر الدرجات ص 180، بحار الأنوار ج 53 ص 4۔
13۔ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): "... ولا تشاحّ ولا تحاسد ولا تباغض...": الجامع الصغیر ج 2، ص 135، کنز العمّال ج 14 ص 333۔
14۔ الإمام الصادق (علیه السلام):"فلو قد قام قائمنا أهل البیت، ورث الأخ الذی آخی بینهما...": کتاب من لا یحضره الفقیه ج 4 ص 352، مستدرک الوسائل ج 17 ص 186.
15۔ رسول الله (علیه السلام): "الحیّات والعقارب ظاهره، لا تؤذی أحد ولا یؤذیها أحد، والسبع علی أبواب الدور یستطعم، لا یؤذی أحد...": الملاحم والفتن ص 203، کتاب الفتن للمروزی ص 354۔ عن رسول الله (علیه السلام): "... و حتّی یمرّ الرجل علی الأسد فلا یضرّه...": الجامع الصغیر ج 2 ص 135، کنز العمّال ج 14 ص 333۔
16۔ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): "فلا تمنع السماء شیئاً من قطرها، ولا الأرض شیئاً من نباتها": الجامع الصغیر ج 2 ص 402، مجمع الزوائد ج 7، ص 314، الکامل ج 3 ص 99، تذکره الحفّاظ ج 3 ص 838، تاریخ ابن خلدون ج 1 ص 808۔ عن رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): "یؤذَن للسماء فی القطر، و یؤذَن للأرض فی النبات، حتّی لو بذرت حبک فی الصفا لنبت...": الجامع الصغیر ج 2 ص 135، فوائد العراقیین ص 44 عن أمیر المؤمنین (علیه السلام): "... لأنزلت السماء قطرها، ولأخرجت الأرض نباتها": تحف العقول ص 115، الخصال ص 624، بحار الأنوار ج 52 ص 316۔
خبر کا کوڈ : 808385
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب