0
Friday 2 Aug 2019 08:19

ایک اور احمقانہ قدم

ایک اور احمقانہ قدم
اداریہ
امریکہ کی طرف سے ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف پر پابندیوں کو مختلف ناموں اور حوالوں سے پکارا جا رہا ہے، کوئی اسے بچگانہ، کوئی احمقانہ کوئی مضحکہ خیز اور کوئی عجلت پسندانہ کہہ رہا ہے۔ کہیں کہیں سے یہ آوازیں بھی آرہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور ان کے مشاور بالخصوص جنگ پسند "بی ٹیم" بوکھلاہٹ، جھنجلاہٹ اور سٹپٹاہٹ کا شکار ہے اور الٹے سیدھے اقدامات کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ایران نے اسے ٹرامپ کا بچگانہ قدم قرار دیا ہے۔ امریکہ کے اس اقدام کو جو بھی نام دیں، یہ سفارتی دنیا کا ایسا بلنڈر ہے جیسے ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا۔ وزیر خارجہ کسی ملک کا ترجمان ہوتا ہے، اگر کسی ملک کے وزیر خارجہ پر پابندی عائد کر دی جائے تو اسے عرف عام میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس ملک کی آواز اور قوت کو دبا دیا گیا ہے اور دنیا اس کی آواز، موقف اور بیانیہ کو نہیں سن سکے گی۔ امریکہ نے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران کے خلاف چومکھی لڑائی شروع کر رکھی ہے، وہ ایک طرف اقتصادی پابندیوں کو روز بروز سخت کر رہا ہے، دوسری طرف جنگ اور حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس نے "زیادہ سے زیادہ دبائو" بڑھانے والی پالیسی کو جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔

بات یہاں تک رکتی تو قابل فہم تھی، لیکن ان تمام منفی حربوں کے علاوہ وہ ایران سے مذاکرات کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کر رہا ہے۔ کبھی جاپانی وزیراعظم کو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خدمت میں تحریری پیغام دے کر بھیجا جاتا ہے۔ کبھی خلیج فارس کے چند ممالک کو واسطہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپو ایران آکر امریکی صدر کا موقف واضح کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کرچکے ہیں۔ امریکہ کے مذکورہ تمام اقدامات اور سازشوں کا اگر بغور جائزہ لیا جائے اور وزیر خارجہ جواد ظریف پر پابندی کے امریکی اقدام کو پرکھا جائے تو امریکی پالیسیوں کا تضاد کھل کر سامنے آجائے گا۔ کیا مذاکرات کا خواہشمند ملک کسی ملک کے سب سے اعلیٰ سفارتکار اور مذاکرات کار پر پابندی لگا سکتا ہے۔؟ یہی وہ سوال ہے، جس نے یورپی یونین سمیت سفارتکاری کی دنیا کے بڑے بڑے اور نامور ڈپلومیٹس کو مجبور کیا ہے کہ وہ امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف کے خلاف عائد پابندیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔

ان پابندیوں کے خلاف عالمی سطح پر وسیع ردعمل سامنے آرہا ہے، لیکن امریکی وزارت خارجہ میں بین الاقوامی امور کے سابق مشیر اور نیٹو میں امریکہ کے سفیر رابرٹ ہنٹر نے بڑی نپی تلی بات کی ہے، انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ پر پابندی کو دونوں ملکوں کے اختلافات کو ذاتیات تک کھینچ لانے کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام بات چیت کے چینل تک پہنچنے کیلئے سفارتکاری کے تاریخی اصولوں کے منافی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور ان کا جنگ پسندانہ ٹولہ امریکہ کو عالمی تعلقات کے ایسے مرحلے پر پہنچانا چاہتا ہے، جہاں جنگ اور تباہی کے علاوہ کوئی آپشن اور راستہ باقی نہ بچے۔ ماضی میں امریکہ نے مسئلہ افغانستان کو مذاکرات اور سفارتکاری کی بجائے طاقت، دھونس اور جدید جنگی ہتھیاروں سے حل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اٹھارہ سال کی پے در پے شکستوں کے بعد اسے ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آنا پڑا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب امریکہ کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 808402
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب