0
Friday 2 Aug 2019 11:30

مقدسات کی بہتات(2)

مقدسات کی بہتات(2)
تحریر: ثاقب اکبر
 
ہم خانہ کعبہ کو انسانیت کا مرکز سمجھتے ہیں۔ قرآن حکیم نے ’’قیاما للناس‘‘ کہہ کر اسے انسانوں کے قیام اور اٹھ کھڑا ہونے کا مقام ہی قرار دیا ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک جسے آخری زمانے میں انسانیت کا نجات دہندہ بن کر آنا ہے، جو رسول اسلام کا ہم نام ہوگا اور جسے ’’مہدی‘‘ یعنی ہدایت یافتہ ہادی و رہبر کہا گیا ہے، اسی خانہ کعبہ سے اپنے قیام کا آغاز کرے گا اور وہ مظلوم انسانیت کا حامی بن کر اٹھے گا، خانہ کعبہ ایک مرتبہ پھر انسانیت کے مرکز کے طور پر سامنے آئے گا۔ گویا دنیا کے مادی مظاہر میں سے مسلمانوں کے نزدیک خانہ کعبہ سے زیادہ مقدس کوئی مقام اور چیز نہیں۔ جب ایک مومن کی عزت و حرمت اللہ کے نزدیک اس سے بڑھ کر ہے تو پھر کسی بھی چیز کی حرمت ایک مومن کی حرمت تک کیسے پہنچ سکتی ہے۔ اب ان چیزوں کی حیثیت کا تعین آپ خود کر لیں، جنھیں انسانوں نے ’’محترم‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ ایسی احادیث ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ ہم اپنے انسانی تصورات کر درست کریں۔

ممکن ہے مندرجہ بالا حدیث میں ’’ایک مومن‘‘ کے ذکر سے کوئی یہ مطلب نکالے کہ یہاں ’’انسان‘‘ کا لفظ نہیں آیا، لہٰذا ہم جسے ’’مومن‘‘ سمجھیں گے، اسی کی حرمت کے قائل ہوں گے۔ فکر کی ایسی کجی اور ’’میں نہ مانوں‘‘ کا تو کوئی علاج نہیں، تاہم قرآن حکیم میں ایک انسان کے ناجائز قتل کو بھی پوری انسانیت کا قتل اور ایک انسان کا احیاء اور اسے موت سے بچانے کو پوری انسانیت کو زندہ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ چند سال پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے روحانی پیشوا آیۃ اللہ خامنہ ای نے اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا تھا۔ یہ فتویٰ صحابہ کرامؓ اور امہات المومنینؓ کے احترام کو ملحوظ رکھنے کے لیے تھا۔ ایسا ہی فتویٰ دوسری طرف سے بھی آنا چاہیئے تھا۔ ایسا کرنا ضروری ہے۔ امت اسلامیہ کے اتحاد کے لیے ایسے فتووں اور ان پر عمل کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن مسئلے کا دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ کیا مقدسات کی کوئی فہرست بنائی جاسکتی ہے؟ اس کے لیے کوئی علاقہ یا زمانہ مقرر کیا جاسکتا ہے؟ کیا ہر فرقے اور مذہب کی قدرے مختلف فہرست نہیں بن جائے گی؟ ہر مذہب کے اپنے اکابر، اپنے مقابر اور اپنے مقدسات ہیں۔ کیا ان کے کسی نظریئے کی علمی تنقید بھی مقدسات کی توہین کے ضمن میں شمار کی جائے گی؟ بدقسمتی سے ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ہم کسی گروہ کو مستثنیٰ نہیں کرتے۔
 
ہمارے ہاں مذہبی جماعتیں اور مذہبی قائدین کی کثیر تعداد ہے۔ اُن کے ماننے والے اپنے قائد کے بارے میں کوئی سوال بھی برداشت نہیں کر پاتے۔ سوال کرنے والے پر یوں ٹوٹ پڑتے ہیں کہ جیسے وہ نعوذ باللہ توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے۔ ایسا ردعمل کرتے ہوئے ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ جماعتوں، تنظیموں، اداروں اور افراد کی عمر کتنی ہے۔ تاریخ اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ بعض نظریات کسی دور میں بہت اہمیت اختیار کر گئے تھے، یہاں تک کہ اُن کی بنیاد پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوگیا تھا، لیکن آج ان نظریات کی زیادہ سے زیادہ کتابی حیثیت رہ گئی ہے، یعنی تاریخ کی کتابیں خبر دیتی ہیں کہ کسی دور میں ان نظریات پر معرکہ آرائی رہی ہے۔ قرآن کے مخلوق ہونے یا نہ ہونے کا موضوع کسی دور میں اتنا اہم ہوگیا کہ بڑی بڑی شخصیات، حکمرانوں سے مختلف رائے اختیار کرنے کی وجہ سے پس دیوار زنداں رہیں اور بہت سے لوگ موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ اشاعرہ اور معتزلہ کے معرکے بھی تاریخ کے سینے پر مندمل ہو جانے والے گھائو ہیں۔ کبھی اشاعرہ کو حکمرانی ملی تو انہوں نے معتزلہ کے خلاف کشت و خون سے دریغ نہ کیا، بڑے بڑے معتزلی علماء موت کے گھاٹ اتر گئے۔

انھیں قضاوت کے عہدوں سے محروم کر دیا گیا۔ ان کی گواہی کو ناقابل قبول قرار دے دیا گیا۔ انھیں حکومتی مناصب سے معزول کر دیا گیا، انھیں جیلوں کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ معتزلہ جو اپنے آپ کو خرد پسند اور عقل کا محافظ کہتے تھے، انھوں نے بھی اشاعرہ پر کچھ کم ظلم نہ توڑے، جب اقتدار ان کے گھر کی لونڈی بن گیا تو انھوں نے اشاعرہ کے ساتھ وہ کچھ کیا کہ جس کی یادیں تاریخ کے سینے کا داغ ہیں۔ افسوس کہ ہمیں تاریخ سے سروکار نہیں رہا، ورنہ تاریخ تو آئینہ ٔعبرت کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب کسی شخص کی نظر میں ہزاروں سال کی تاریخ ہوتی ہے اور وہ اس کی اونچ نیچ کی وجوہات کو جان لیتا ہے، حکومتوں کے آنے جانے کا تماشا کر لیتا ہے، افراد کے ابھرنے اور ڈوبنے کا منظر بار بار دیکھ لیتا ہے، نظریات کے قوت پکڑنے اور پھر ان کی ہوا نکل جانے کا نظارہ کر لیتا ہے تو اپنے دور کی شخصیات، نظریات، جماعتوں، حکومتوں اور خاندانوں کے امکانی عروج و زوال کو آسانی سے سمجھ رہا ہوتا ہے۔ افسوس ہم بہت سطحی سوچ رکھنے والے اور سطحی علم رکھنے والے لوگوں کے مابین زندگی گزار رہے ہیں۔ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر شدت پسندی کو دیکھ کر خون کے آنسو بہانے کو جی چاہتا ہے۔

بقول بلھے شاہ 
جھوٹھ آکھاں تے کجھ بچدا اے
سچ آکھیاں بھامبڑ مچدا اے
جی دوہاں گلاں توں جچدا اے
 جچ جچ کے جیبھا کہندی اے
منہ آئی بات نہ رہندی اے
بلھے شاہ کو اپنی بات کہنے کے لیے جو بھیس اختیار کرنا پڑا، ہر کوئی ایسا نہیں کرسکتا۔ آزاد انصاری کا ایک مشہور شعر اس کیفیت کی ترجمانی کرتا ہے:
افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوف فساد خلق سے ناگفتہ رہ گئے
بڑے بڑے علماء، فلسفی اور دانشور اپنے دور  میں اپنے دل کی بات نہ کہہ پائے۔ بعض نے زندگی کا ایک حصہ غاروں میں گزار دیا، بعض نے اپنی بات کہنے کے لیے نئی اصطلاحوں سے کام لیا، بعض نے چند دوستوں کا انتخاب کر لیا اور کھلے بندوں بات کہنے سے گریز کیا۔ بعض نے شعر کی زبان میں اشاروں، کنایوں اور تلمیحوں سے کام لیا۔ بعض نے ایسے ایسے جملے کہے کہ جن میں ایک سے زیادہ مطالب کا امکان تھا۔ بعض نے اگر کھل کر بات کہی تو بعد میں وہ سولی چڑھائے گئے، زندان کے حوالے کیے گئے، یا پھر فتووں کی زد میں ایسے آئے کہ صدیوں تک انسان کی کتابوں سے کسب فیض نہ کرسکا۔
 
ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس کے گرد و پیش پر تبصرے کے لیے بھی احتیاط کی سو تدبیریں کرنا پڑتی ہیں۔ پھر بھی صورت حال یوں دکھائی دیتی ہے:
جب میں نے کسی سے نہ کہا درد کشیدہ
پھر بعد مرے کون لکھے میرا جریدہ
جس معاشرے میں سوال کرنا بھی جرم ہو جائے، اس میں فکری ارتقا کا امکان کتنا باقی رہ جاتا ہے؟ سوال کرنے کا ہی مسئلہ نہیں، ہر خرابی کا ذمہ دار دوسرے مذہبی گروہ اور اس گروہ کے قائد یا قائدین کو قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی ہر ’’توہین‘‘ روا اور اپنے پر ہونے والا کوئی سوال بھی ناجائز۔ ہر مسلک کی مختلف جماعتوں، گروہوں اور دھڑوں میں ایسی شدت پسندی کے مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں۔ عقائد و نظریات کا بھی یہی عالم ہے۔ بعض عقائد و نظریات بعض گروہ اپنے امتیازات میں سے قرار دے لیتے ہیں۔ پھر اس بات پر اصرار کہ ہم اپنے ’’امتیازات‘‘ کو نہیں چھوڑیں گے۔ امتیازات اتنے اہم ہو جاتے ہیں کہ ’’مشترکات‘‘ اتنے اہم نہیں رہتے، جتنے امتیازات اہم ہوتے ہیں۔ قرآن حکیم نے ہمارے تشتت اور زبوں حالی کو یوں بیان فرمایا ہے: کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ "ہر جماعت اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔" (یعنی اس کے امتیازات ہیں)۔
بات کَہہ کے بھی یہی سوچ رہا ہے ثاقب
تم سے کہنا ہے ابھی ساری کہانی یارو
۔۔۔۔تمام شد۔۔۔
خبر کا کوڈ : 808432
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے