0
Saturday 3 Aug 2019 08:28

کھلا تضاد

کھلا تضاد
اداریہ
پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں نشیب و فراز روز مرہ کا مسئلہ ہے، دونوں ممالک کی طرف سے بیان بازی بھی جاری رہتی ہے اور بیک ڈور ڈپلومیسی کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں ثالثی کا شوشہ چھوڑا، جسے ہندوستان کی حکومت نے سختی سے مسترد کر دیا۔ اس سے پہلے عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں گرفتار ہندوستانی جاسوس کلبھوشن کے بارے میں ایک ایسا فیصلہ دیا تھا، جس پر بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں میں خوشیاں منائی گئیں اور دونوں نے اسے اپنی کامیابی قرار دیا تھا۔ عالمی عدالت کے اسی فیصلے کی روشنی میں پاکستان نے ہندوستانی جاسوس کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے بعد غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کی پیشکش کر دی ہے۔گذشتہ روز پاکستانی خبری ذرائع میں یہ خبر آئی ہے کہ بھارت نے کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا موقع گنوا دیا۔ خبری ذرائع کے مطابق پاکستان نے ہیگ کی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے احترام میں ہندوستان کو کلبھوشن تک رسائی دینے کی پیشکش کی تھی اور اس سلسلے میں جمعہ کو سہ پہر تین بجے کا وقت مختص کیا گیا تھا، لیکن بھارتی حکومت نے بعض شرائط عائد کرکے ملاقات کے وقت سے دو گھنٹے پہلے پاکستانی حکومت کو ملاقات ملتوی کرنے کا کہہ دیا۔

دو ملکوں کے درمیان سفارتی سطح پر جاسوسوں کا تبادلہ یا قونصلر رسائی وغیرہ کا سلسلہ چلتا رہتا ہے اور عالمی عدالت انصاف بھی بعض اوقات اس میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ پاکستان کے اس اقدام کو یقیناً عالمی سطح پر سراہا جائے گا، لیکن پاکستانی حکومت اور اس ملک کی فوجی اور سول بیوروکریسی یا دوسرے الفاظ میں اسٹیبلشمنٹ اپنے شہریوں کے بارے میں انصاف کے تقاضے پورے کر رہی ہے یا نہیں، یہ وہ سوال ہے، جس نے ہر محب وطن پاکستانی اور عالمی سطح پر سرگرم عمل انسانی حقوق کی تنظیموں کو سخت تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حکومت پاکستان اور اس کی ایجنسیاں اپنی وسیع تحقیقات کے نتیجے میں ایک ہندوستانی جاسوس کو جسے وہ عالمی عدالت انصاف میں بھی ایک خطرناک جاسوس ثابت کرچکی ہیں، کو قونصلر رسائی دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپنے شہریوں کو یہ قانونی حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ آج پاکستان میں مسنگ پرسنز کے نام سے کئی پاکستانی شہری نامعلوم مقامات پر زندگی کے انتہائی دشوار ایام گزار رہے ہیں۔ بھارتی شہری پر مہربان پاکستانی حکومت اور اس کے ادارے نہ صرف ان مسنگ پرسنز کی گرفتاری کی تصدیق نہیں  کرتے (حالانکہ دن دیہاڑے ان کو مخصوص گاڑیوں میں اغوا کرکے ٹارچر سیلوں میں منتقل کیا جاتا ہے) بلکہ ان کو کسی عدالت یا قانونی کاروائی کے لیے بھی پیش نہیں کیا جاتا۔ کئی کئی سالوں سے عقوبت خانوں میں گلنے سڑنے والے ان محب وطن پاکستانیوں اور ان کے اہل خانہ کی آہ و بکا کو کوئی سننے والا نہیں۔

حکومت پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے حکم پر ہندوستانی جاسوس کو قونصلر رسائی کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن پاکستان کے محب وطن شہری جن میں پڑھے لکھے استاد، انجینئر اور سماجی کارکن شامل ہیں، انہیں اپنے عزیز و اقارب سے بھی ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ پاکستان میں مسنگ پرسنز کے مسئلے میں رکاوٹ ادارے اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ حکومت پاکستان نے دنیا کی بنائی عالمی عدالت انصاف کے حکم پر تو ایک جاسوس کو اپنے ملک کے سفارتی عہدیدار سے ملنے کی اجازت دے دی، لیکن اپنی عدالت کے حکم کو نظرانداز کرکے مسنگ پرسنز کو اپنے پیاروں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، مسنگ پرسنز کی مائوں، بچوں اور بیویوں کی صدائے احتجاج اور آہ و بکا ہیگ کی عالمی عدالت انصاف تک نہیں پہنچ سکتی، لیکن خدائی عدالت تک ضرور پہنچے گی۔ بے گناہ مسنگ پرسنز کو اپنے اہل خانہ سے جدا کرنے والے خدائی انتقام کے لیے تیار رہیں۔ پاکستان کے وزیراعطم عمران خان اور ان کی ٹیم کو بھی اس کھلے تضاد کا جواب دینا پڑے گا کہ پاکستان کے خلاف خطرناک جاسوسی کارروائیوں میں ملوث شخص تو کئی سہولیات کا حق دار بن گیا ہے، لیکن پاکستان کے اپنے شہری جن کو نہ عدالت میں پیش کیا گیا، نہ ان پر کوئی فرد جرم عائد کی گئی، نہ ان پر کوئی جرم ثابت ہوا، وہ کال کوٹھریوں میں زندگی کے دشوار ایام گزارتے رہیں اور حکومت ریاست مدینہ کے دعوے کرتی رہے۔
خبر کا کوڈ : 808577
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب