0
Saturday 3 Aug 2019 15:45

داستان ظہور (20، 21، 22)

داستان ظہور (20، 21، 22)
تحریر: مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی

ایک سخت جنگ کا سامنا
اور سفیانی کا قتل ہونا

سفیانی بہت مغرور ہو گیا ہے؛
کیونکہ اس کے سپاہیوں کی تعداد امام کے لشکر سے دو گنا زیادہ ہے۔ 
وہ اصحاب امام کی تعداد سے آگاہ ہے!
....دس ہزار سپاہی مکہ سے امام کے ساتھ آتے ہیں۔
....بارہ ہزار سپاہی سید حسنی کے ساتھ خراساں سے آتے ہیں۔
....ستر ہزار کوفہ سے لوگ امام کے ساتھ ملحق ہوتے ہیں۔
جبکہ سفیانی کی فوج میں ایک لاکھ ستر ہزار سپاہی موجود ہیں اسے قطعی طور پر کامیابی کا یقین ہے اس لئے وہ کوفہ کی جانب روانہ ہوتا ہے۔ (1)
وہ نہیں جانتا کہ ہزاروں فرشتے، ہمارے مولا کی رکاب مین ان کی مدد کر رہے ہیں۔
اب امام کو پتہ چلتا ہے کہ سفیانی جنگ کے لئے کوفہ کی جانب آ رہا ہے۔ (2)
لشکر امام کوفہ سے باہر اپنی پوزیشن لے لیتا ہے۔ اب دونوں لشکر آمنے سامنے ہیں۔
امام لشکر سفیانی کے پاس جاتے ہیں ان کو سمجھاتے ہیں۔
سفیانی کے ساتھی امام سے کہتے ہیں: 
جس راستے سے آئے ہیں واپس چلے جائیں۔ (3)

امام اپنی بات ان سے جاری رکھتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں: 
کیا جانتے ہو کہ میں پیغمبر کا بیٹا ہوں؟۔
نہیں جانتا کیا ہوتا ہے سفیانی ابھی جنگ سے گریز کرتا ہے ، شاید اس لیے کہ ابھی پوری طرح جنگ کے لئے تیار نہیں ہے یا حملہ کرنے کی پوری تیاری نہیں ہے کیونکہ اسں نے امام کی باتوں کو سنا ہے اور احتمال ہے کہ امام کی باتوں کا اثر اس پر ہوا ہے۔
سفیانی چاہتا ہے کہ کچھ دنوں کے لئے جنگ کو مؤخر کر دے تاکہ امام کی باتوں کا اثر زائل ہو جائے وہ عقب نشینی کا حکم دیتا ہے اور صورتحال پر امن ہو جاتی ہے۔
روز جمعہ کا سورج طلوع کرتا ہے، امام کو اطلاع ملتی ہے کہ سفیانی نے امام کے ایک صحابی کو شہید کردیا ہے۔
گویا سفیانی کوفہ پر حملہ کا ارادہ رکھتا ہے۔ (4)

امام دفاع کے لئے تیار ہو جاتے ہیں سخت جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے۔
سفیانی جنگ کا آغاز کرتا ہے اور امام کے کچھ ساتھی شہید ہو جاتے ہیں، خوش نصیب ہیں وہ جو اپنی آرزو کو پہنچے۔ اب خدا کا وعدہ پورا ہوتا ہے سفیانی میدان کے درمیان کھڑا ہے اور اپنے سپاہیوں کی کثرت سے خوش ہے۔
اچانک وہ دیکھتا ہے کہ ایک ایک کر کے اس کے سپاہی گرتے ہیں۔ سفیانی نہیں جانتا کہ فرشتے امام کی مدد کے لئے آ گئے ہیں۔ سفیانی ہرگز گمان نہیں کرتا تھا کہ اس کے سپاہی اس طرح گرنا شروع ہو جائیں گے۔

سفیانی جب ان حالات کو دیکھتا ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ مقابلہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں وہ چند ساتھیوں کے ساتھ ملکر راہ فرار اختیار کرتا ہے۔(5)
کیا آپ نے ”صیاح“ کا نام سنا ہے؟
وہ امام کے لشکر کا ایک سپاہی ہے وہ چند سپاہیوں کے ساتھ مل کر سفیانی کا پیچھا کرتا ہے اور بالاخر اس کو گرفتار کر لیتا ہے۔
مغربین کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے، 
نماز کے بعد سفیانی کو امام کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔
سفیانی امام کو مخاطب کر کے کہتا ہے، مجھے مہلت دیں۔
امام اپنے اصحاب کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں، آپ کی رائے اس کے بارے میں کیا ہے؟ میں نے عہد کیا ہے کہ ہر کام کرنے میں آپ کی رائے کو بھی شامل کروں۔
اصحاب امام مشورہ کرتے ہیں اور بالآخر فیصلہ کرتے ہیں کہ سفیانی کو سزا دی جائے اس نے بہت سے شیعہ لوگوں کو بے رحمانہ انداز میں قتل کیا ہے۔ پیمان شکنی بھی کی ہے۔
اس طرح سفیانی کو اس کے کئے کی سزا مل جاتی ہے اور دنیا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کے شر سے محفوظ ہو جاتی ہے۔(6)



فلسطین کی طرف روانگی:
سفیانی کی ہلاکت اور اس کے لشکر کی تباہی کے بعد امام فیصلہ کرتے ہیں کہ اپنے لشکر کو پوری دنیا میں بھیجیں۔
تین سو تیرہ افراد میں سے ہر ایک کو ضروری احکامات کے بعد پوری دنیا کے مختلف حصوں میں روانہ کیا جاتا ہے۔
امام فرماتے ہیں کہ جہاں بھی جائیں اور ان کے لئے کوئی نیا مسئلہ درپیش ہو کہ جس کا حل انہیں معلوم نہ ہو تو اپنی ہتھیلی پر نگاہ کریں؛ اس طرح انہیں اس کا جواب مل جائے گا۔ (7)
اب خدا حافظی کا وقت ہے!
یہ تین سو تیرہ با وفا اصحاب امام سے جدا ہوتے ہیں۔
یہاں پر امام ہر ایک کو اپنے پاس بلاتے ہیں اپنے ہاتھ کو ان کے سینہ پر پھیرتے ہیں۔(8)
کیا اس کام کی علت (وجہ) جانتے ہیں؟
یہ تین سو تیرہ افراد پوری دنیا میں امام کے نمائندے ہیں اور ان میں تمام خوبیوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ امام کے ان کے سینہ پر ہاتھ پھیرنے سے ان کی ذمہ داری کو بہتر انداز میں انجام دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

تمام اصحاب اپنے گروہوں کے ساتھ دنیا کے مختلف حصوں کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں تاکہ جلد از جلد پوری دنیا پر مھدوی حکومت تشکیل پا سکے۔ (9)
امام کے اصحاب کے پاس عجیب و غریب قدرت ہے حتٰی کہ پانی کے اوپر بھی چل سکتے ہیں اسی لئے دریاؤں کو عبور کرنے کے لئے انہیں کسی کشتی کی ضرورت نہیں۔ (10)
امام کسی کو فلسطین نہیں بھیجتے۔ تو آپ تعجب کرتے ہیں اور وجہ پوچھتے ہیں۔
دیکھو امام خود فلسطین جا رہے ہیں، کیونکہ وہاں کچھ اہم واقعات رونما ہوں گے پس امام کا وہاں ہونا ضروری ہے۔
اس بنا پر امام چند اصحاب کے ساتھ القدس کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔
کچھ دنوں کے بعد امام بیت المقدس پہنچ جاتے ہیں۔
اور چند روز اس شہر میں قیام کرتے ہیں یہاں تک کہ روز جمعہ آ جاتا ہے۔
اور آپ نہیں جانتے کہ وہ روز جمعہ کتنا اہم اور تاریخ ساز دن ہے! 
اس دن کچھ عیسائی اس شہر میں جمع ہوں گے اور ایک اہم واقعہ رونما ہو گا۔
جمعہ کا دن آ جاتا ہے کتنا عظیم اجتماع ہے تمام منتظر ہیں۔
اِدھر دیکھو! سر کو اٹھاؤ اور آسمان کی طرف دیکھو۔

کیا اس سفید بادل کو دیکھ رہے ہیں؟ وہ جوان کون ہیں جو اس پر سوار ہے۔
کیا ان دو فرشتوں کو دیکھتے ہو جو ان کے ساتھ کھڑے ہیں؟ (11)
وہ بادل زمین کی طرف آ رہا ہے بیت المقدس میں ایک شوروغل برپا ہے!
شاید وہ جوان، حضرت عیسٰی ہیں !
جی ہاں! آپ کا گمان صحیح ہے، وہ حضرت عیسی ہی ہیں۔
وہ سفید بادل قدس کے پاس رکتا ہے اور حضرت عیسی اس سے اترتے ہیں۔
عیسائی خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور ان کی طرف بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں ہم آپ کے یارو مددگار ہیں۔
آپ کیا سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام انہیں کیا جواب دیں گے؟
حضرت عیسی فرماتے ہیں: "تم میرے مددگار نہیں ہو"۔ (12)
تمام عیسائی تعجب کرتے ہیں، حضرت عیسٰی علیہ السلام ان کی طرف توجہ کئے بغیر آگے بڑھتے ہیں۔
وہ کہاں جا رہے ہیں؟ اِدھر دیکھو!
امام زمانہ مسجد الاقصٰی کے محراب میں کھڑے ہیں، ان کے تمام اصحاب ان کے پیچھے صف میں کھڑے ہیں اور وقت نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام محراب کی جانب بڑھتے ہیں امام کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں۔
امام زمانہ علیه السلام حضرت عیسٰی علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:
اے عیسٰی علیہ السلام آپ آگے کھڑے ہوں اور ہمارے امام جماعت بنیں۔ (13)
حضرت عیسٰی علیہ السلام کہتے ہیں، میں زمین پہ آپ کا وزیر بننے آیا ہوں نہ کہ امام میں آپ کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ (14)
نماز برپا ہوتی ہے، تمام عیسائی تعجب سے دیکھتے ہیں۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ نماز میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔
یہاں پر بہت سے عیسائی مسلمان ہو جاتے ہیں اور امام کے ساتھیوں کے ساتھ ملحق ہو جاتے ہیں۔
اے میرے ہمسفر! امام کا یہاں پر ایک اور بھی پروگرام ہے 
اور وہ صندوق مقدس تابوت سکینہ کا معاملہ ہے۔
کیا جانتے ہیں کہ صندوق مقدس کیا ہے؟
یقینا آپ نے سنا ہے کہ جب حضرت موسٰٰی علیہ السلام دنیا میں آئے ان کی ماں نے ان کو ایک صندوق میں رکھا اور دریا کے سپرد کر دیا۔
وہ صندوق اس وقت امام کے پاس ہے اور اس وقت وہ اس صندوق کو اپنے ساتھ لائے ہیں شاید یہ صندوق یہودیوں کی ہدایت کا سبب بن جائے!
کیا جانتے ہیں کہ یہ صندوق یہودیوں کے نزدیک کتنا مقدس ہے؟
کیا جانتے ہیں کہ یہ صندوق یہودیوں کے مقدس ترین تبرکات میں سے ہے۔

حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنی وفات سے قبل اصلی تو رات کو مٹی کی لوح پہ لکھا تھا اور اسے اس صندوق میں رکھا تھا اور اپنے جانشین ”یوشع“ کے حوالہ کیا تھا۔
جب تک یہ صندوق ان یہودیوں کے درمیان تھا وہ عزت والے تھے؛ لیکن جب سے وہ صندوق ان کے ہاتھوں سے گیا ان کی عزت بھی ختم ہو گئی۔
جی ہاں! انہوں نے اس صندوق کی حرمت کا خیال نہ رکھا خدا نے اس صندوق کو ان سے لے لیا۔ (15)
اچھا ہے ایک اور سوال بیان کرتا ہوں: کیا جانتے ہیں کہ جب ایک پیغمبر بنی اسرائیل اس دنیا سے گئے تو کون ان کے جانشین ہوئے؟
جس کے پاس یہ صندوق ہوتا، وہ بعد والا نبی ہوتا اور یہودی اس کے سامنے تسلیم خم ہوتے۔ (16)
اب امام کا ارادہ یہ ہے کہ اس صندوق کو یہودیوں کو دکھائیں۔
جب یہودی اس گمشدہ صندوق کو دیکھیں گے تو تعجب کریں گے ایک کثیر تعداد امام پر ایمان لے آئے گی، کیونکہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ جس کے پاس یہ صندوق ہو اس کے سامنے سر تسلیم خم کر لو۔ (17)
ایک بہت تھوڑی تعداد حق کو قبول کرنے سے اجتناب کرے گی۔ امام ان کے ساتھ جنگ کریں گے اور انہیں شکست دیں گے۔


کوفہ کی طرف واپسی:
خبریں ملتی ہیں کہ ایک کے بعد ایک ملک امام کے اصحاب کے ہاتھوں فتح ہو رہا ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ بہت سے ملک بغیر کسی مزاحمت کے امام کی حکومت کو تسلیم کر رہے ہیں اور حکومت عادلانہ مہدوی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اصحاب امام نے صرف تیرہ شہروں اور گروہوں سے جنگ کی ہے۔ (18)
جی ہاں پوری دنیا میں ایک حکومت تشکیل پا چکی ہے۔ (19)
دنیا کے ہر کونے میں توحید پرستی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور پوری دنیا کے لوگوں کے دلوں میں اہل بیت کی محبت پیدا ہو رہی ہے۔ (20)
دنیا کا صرف ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے اور یہ وہی وعدہ ہے کہ جو خدا نے اپنے نبی کے ساتھ کیا تھا۔ (21)
اسی دن جب امام نے مکہ میں ظہور کیا تھا سے لے کر آج تک عالمی حکومت کے قیام میں صرف آٹھ ماہ گزرے ہیں۔ (22)
اب امام اپنے اسلحہ کو زمین پہ رکھتے ہیں کیونکہ ہر جگہ امن و امان قائم ہو گیا ہے۔
امام کوفہ میں سکونت اختیار کرتے ہیں اور یہ شہر عالمی حکومت کا دارالحکومت بن جاتا ہے۔

مسجد کوفہ میں اب مزید لوگوں کی گنجائش نہیں ہے اسی لیے امام شہر کوفہ میں چند دیگر مساجد بنانے کا اقدام کرتے ہیں۔ (23)
امام (عج)، مسجد سہلہ کو اپنے گھر کے طور پر انتخاب کرتے ہیں۔ یہ مسجد حضرت ادریس اور حضرت ابراہیم کا گھر بھی رہی تھی۔ (24)
ٹھیک ہے کہ پوری دنیا امام کے اختیار میں ہے دنیا کی تمام دولت امام کے پاس ہے، لیکن ان کی زندگی بہت ہی سادہ ہے۔(25)
جی ہاں! امام اپنے دادا حضرت علی علیہ السلام کی سنت پہ عمل کرتے ہیں کہ جو اپنی حکومت کے دوران سادہ ترین لباس اور غذا استعمال کرتے تھے۔
امام جہاں بھی جاتے ہیں سایہ ان کے سر پر رہتا ہے یہ بادل ایک خوبصورت آواز دیتا ہے: یہ مہدی ہیں۔(26)
جتنا بھی وقت گزرتا ہے امام کی جوانی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی اور آپ ہرگز بوڑھے نہیں ہوتے۔(27)

(اگلا حصہ آخری ہوگا)
_______________________________________
منابع:

1۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "...جیش السفیانی و أصحابه والناس معه، و ذلک یوم الأربعاء...": بحار الأنوار ج 5 ص 387۔
2۔ أمیر المؤمنین (علیه السلام): "... فیخرج بخیله ورجاله وجیشه فی مئتی ألف و ستّین ألفاً...": معجم أحادیث الإمام المهدی (علیه السلام) ج 3 ص 94
3۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "...جیش السفیانی وأصحابه والناس معه، و ذلک یوم الأربعاء، فیدعوهم و یناشدهم حقّه، و یخبرهم أنّه مظلوم مقهور، و یقول: من حاجنی فی الله فأنا أولی الناس بالله...": نفس المصدر ج 5 ص 387۔
4۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... فیقولون: ارجع من حیث شئت لا حاجه لنا فیک...": معجم أحادیث الإمام المهدی (علیه السلام) ج 3 ص 306۔
5۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "فإذا کان یوم الجمعه یعاود، فیجیء سهم فیصیب رجلاً من المسلمین فیقتله، فیقال: إنّ فلاناً قد قُتل...": بحار الأنوار ج 5 ص 387۔
6۔ أمیر المؤمنین (علیه السلام): "فتکون وقعه یهلک الله فیها جیش السفیانی ویمضی هارباً": معجم أحادیث الإمام المهدی (علیه السلام) ج 2 ص 96۔
7۔ أمیر المؤمنین (علیه السلام): "فیأخذه رجل من الموالی اسمه صبّاح، فیأتی به إلی المهدی (علیه السلام) وهو یصلّی العشاء الآخره، فیخفّف صلاته... فیقول: شأنکم و إیّاه، اصنعوا به ما شئتم...": معجم أحادیث المهدی ج 3 ص 96۔
8۔ الإمام الصادق (علیه السلام): «... فإذا ورد علیک أمر لا تفهمه وتعرف القضاء، فانظر إلی کفّک واعمل بما فیها...": الغیبه للنعمانی ص 334، بحار الأنوار ج 52 ص 365۔
9۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "فیبعث الثلاثمئه والبضعه عشر رجلاً إلی الآفاق کلّها، فیمسح بین أکتافهم وعلی صدورهم»: بحار الأنوار ج 52 ص 345، تفسیر العیّاشی ج 2 ص 60.
10۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "کأنّی بالقائم یفرّق الجنود فی البلاد...": الإرشاد ج 2 ص 379، روضه الواعظین ص 264۔
11۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "فإذا بلغوا الخلیج کتبوا علی أقدامهم شیئاً ومشوا علی الماء": الغیبه للنعمانی ص 334، بحار الأنوار ج 52 ص 365۔
12۔ "تحمله غمامه، واضع یده علی منکب ملکین": کتاب الفتن للمروزی ص 347، تاریخ مدینه دمشق ج 1 ص 229۔
13۔ "ثمّ یأتیه النصاری فیقولون: نحن أصحابک، فیقول: کذبتم، بل أصحابی المهاجرون بقیّه أصحاب الملحمه، فیأتی مجمع المسلمین": کتاب الفتن للمروزی، ص 347۔
14۔ و ینزل عیسی بن مریم (علیه السلام)... فیقول له أمیرهم: یا روح الله تقدّم، صلِّ: مسند أحمد ج 4 ص 217، تفسیر ابن کثیر ج 1 ص 593، الدرّ المنثور ج 2 ص 243۔
15۔ "فیقول: بل صلِّ أنت بأصحابک، فقد رضی الله عنک، فإنّما بُعثت وزیراً ولم أُبعث أمیراً": کتاب الفتن للمروزی ص 347۔
16۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "هذا التابوت هو الذی أنزله الله علی أُمّ موسی فوضعته فیه فألقته فی البحر فلمّا حضرت موسی الوفاه وضع فیه الألواح...": بحار الأنوار ج 87 ص 110، التبیان ج 2 ص 293، تفسیر مجمع البیان ج 2 ص143۔
18۔ (وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ إِنَّ ءَایَهَ مُلْکِهِ أَن یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ فِیهِ سَکِینَهٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّهٌ مِّمَّا تَرَکَ ءَالُ مُوسَی وَءَالُ هَارُونَ...): (البقره: 248). عن الإمام الصادق (علیه السلام): "السلاح فینا بمنزله التابوت فی بنی إسرائیل، یدور الملک حیث دارالسلاح، کما کان یدور حیث دار التابوت": بصائر الدرجات ص 197، الخصال ص 117۔
19۔ "یظهر تابوب السکینه... فیوضع بین یدیه ببیت المقدس، فإذا نظرت إلیه الیهود أسلمت إلاّ القلیل منهم...": الملاحم والفتن للمروزی ص 223، الملاحم والفتن للسیّد ابن طاووس ص 150۔
20۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "ثلاث عشره مدینه و طائفه یحارب القائم أهلها و یحاربونه...": الغیبه للنعمانی ص 309، بحار الأنوار ج 52 ص 363۔
21۔ رسول الله (صلی الله علیه وآله وسلم): "... آخرهم القائم الذی یفتح الله تعالی ذکره علی یدیه مشارق الأرضو مغاربها": الأمالی للصدوق ص 173، کمال الدین ص 282.
22۔ الإمام الصادق (علیه السلام):"إذا قام القائم، لا یبقی أرض إلاّ نودی فیها شهاده أن لا إله إلاّ الله، و أنّ محمّداً رسول الله": ینابیع المودّه ص 236۔ عن الإمام الباقر (علیه السلام): "إذا قام القائم، عُرض الإیمان علی کلّ ناصب، فإن دخل فیه بحقیقه...": الکافی ج 8 ص 227، شرح الأخبار ج 3 ص 375۔
23۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "فی قول الله: (لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ)، یکون أن لا یبقی أحد إلاّ أقرّ بمحمّد(صلی الله علیه وآله وسلم)": تفسیر العیّاشی ج 2 ص 87، بحار الأنوار ج 52 ص 346۔
24۔ الإمام الباقر (علیه السلام): "یضع سیفه علی عاتقه ثمانیه أشهر": کمال الدین ص 318، 329، الغارات ص 12، شرح الأخبار ص 288، الغیبه للنعمانی ص 168، 320، الملاحم والفتن ص 139، 140، بحار الأنوارص 368۔
25۔ أمیر المؤمنین(علیه السلام): "لأنّ مسجد الکوفه لیضیق علیهم... تُبنی له أربع مساجد، مسجد الکوفه أصغرها، و هذا و مسجدان فی طرفی الکوفه...": تهذیب الأحکام ج 3 ص 254، بحار الأنوار ج 52 ص 374۔
26۔ الإمام الصادق(علیه السلام): «کأنّی أری نزول القائم فی مسجد السهله بأهله وعیاله... کان فیه منزل إدریس وکان منزل إبراهیم»: فضل الکوفه ومساجدها ص 43، المزار لابن المشهدی ص 134، بحار الأنوار ج 52 ص 317.
27۔ الإمام الصادق (علیه السلام): "... فوالله ما لباسه إلاّ الغلیظ، ولا طعامه إلاّ الجشب...": الغیبه للنعمانی ص 239، الغیبه للطوسی ص 46، بحار الأنوار ج 52 ص 354۔ "الإمام الصادق (علیه السلام): "علی رأسه غمامه تظلّه من الشمس، تدور معه حیثما دار، تنادی بصوت فصیح: هذا المهدیّ (علیه السلام)": الأمالی للطوسی 292، بشاره المصطفی (صلی الله علیه وآله وسلم) ص 284۔
خبر کا کوڈ : 808627
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب