0
Saturday 3 Aug 2019 15:10

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ
تحریر: محمد شریف نفیس

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو  دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن  ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

قربانی کا معنی و مفہوم:
لغت کے لحاظ سے ہر اس چیز کو قربانی کہا جا سکتا ہے جو تقرب الی اللہ، یعنی اللہ سے نزدیک ہونے کا سبب بنتی ہے۔ پس کوئی حیوان ذبح کر کے اللہ کی قربت حاصل کی جائے، یا کسی اور چیز کا صدقہ دے کر اللہ سے نزدیک ہونے کی کوشش کی جائے، اسے قربانی کہا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے ہر اس نیک عمل کو قربانی کہا ہے جو واقعاً خداوند متعال سے نزدیک ہونے کے لئے انجام دیا جائے۔ (مفردات راغب) البتہ ہمارے عرف میں عید الاضحٰی کے دن اللہ تعالٰی کی خوشنودی اور قربت حاصل کرنے کے لئے کچھ مخصوص اور جامع الشرائط حیوانات ذبح کرنے کو  قربانی کہا جاتا ہے۔ مسلمان اللہ کی خوشنودی کے لئے حیوان ذبح کرتے ہیں۔ در حقیقت وہی حیوان قربان شدہ ہوتا ہے، لیکن اسی سے قربانی کا لفظ اخذ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں بھی متعدد بار اس ذبح شدہ حیوان کو قربانی کہا ہے۔ اس کے علاوہ قربانی کو عمومی مفہوم میں لیا جائے تو ہر اس نیک کام کو قربانی کہا جا سکتا ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنے آپ کو اللہ تعالٰی کی رحمت کے قریب کرنا چاہتا ہے۔ اس لحاظ سے انسان جو بھی نیک عمل خداوند متعال سے نزدیک ہونے کی نیت سے انجام دیتا ہے، اسے قربانی کہا جاسکتا ہے۔

چنانچہ رسول اکرم ؐ کا  فرمان ہے، "ان الصلوة قربان المؤمن" (کنز العمال ، حدیث 18907) یقیناً نماز مؤمن کو اللہ سے نزدیک کرنے والی ہے۔ اسی طرح امیرالمؤمنینؑ کا بھی ایک مشہور فرمان ہے، "الصَّلَاةُ قُرْبَانُ كُلِّ تَقِيٍّ" (نہج البلاغہ، کلمات قصار۱۳۶) نماز ہر پرہیزگار کے لئے اللہ سے نزدیک ہونے کا وسیلہ ہے۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ اللہ سے نزدیک ہونے کا مطلب کوئی زمانی یا مکانی لحاظ سے نزدیک ہونا نہیں، کیونکہ اللہ تعالٰی اور بندے کے نزدیک ایسا کوئی فاصلہ ہی نہیں۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالٰی کی اطاعت و بندگی کر کے اپنے آپ کو اللہ تعالٰی کی رحمت اور لطف و کرم سے نزدیک کرے۔ اللہ کی رحمت اسکے شامل حال ہو جائے۔ عید قربان کے موقع پر کسی حیوان کو ذبح کرنا درحقیقت انسان کا اپنے نفس امارہ کو ذبح کرنا ہے۔ انسان بظاہر حیوان کی گردن پر چھری پھیرتا ہے لیکن اگر فلسفہ قربانی سے آگاہ ہو اور خداوند متعال کی معرفت رکھتا ہو تو درحقیقت ایمان اور عقل کی چھری سے وہ اپنی نفس کو ذبح کر رہا ہوتا ہے، جو اسے ہر برے کام کی طرف ترغیب دلاتا ہے۔ وہ نفس امارہ کی شر سے اپنے دل کو پاک و پاکیزہ کرتا ہے تاکہ اپنے محبوب حقیقی کی راہ میں پیش قدمی کر سکے۔ حج کے موقع پر بھی قربانی کے اس عمل کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ حجاج کرام منٰی کے میدان میں اپنی استطاعت کے مطابق چھوٹے بڑے حیوانات میں سے کسی کو مطلوبہ شرائط کے مطابق ذبح کر کے مستحقین میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ اس عمل کے وسیلے سے وہ اپنے پروردگار کی رحمت کے قریب ہو سکیں۔

قربانی کی تاریخ:
۱۔ اللہ تعالٰی کی قربت اور نزدیکی حاصل کرنے کے لئے قربانی کی سنت حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہی شروع ہوئی تھی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹے ہابیل اور قابیل نے اللہ تعالٰی کا تقرب حاصل کرنے کے لئے الگ الگ قربانی پیش کی۔ حضرت ہابیل پیشے کے لحاظ سے چرواہا تھے، اس لئے انہوں نے ایک  بہترین بھیڑ کو اللہ کی بارگاہ میں قربانی کے طور پر پیش کیا۔ حضرت آدم ؑ کے دوسرے بیٹے قابیل کھیتی باڑی کیا کرتے تھے، انہوں نے پست ترین قسم کی گندم کی ایک مقدار قربانی کے طور پر پیش کی۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آسمان سے ایک آگ آئی اور حضرت ہابیل کی قربانی کو جلادیا، جو اس بات کی علامت تھی کہ قربانی قبول ہو گئی ہے لیکن قابیل کی قربانی بالکل اسی حالت میں باقی رہی۔ اس کا مطلب تھا کہ ان کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ چنانچہ قرآن کریم میں اس واقعے کی یوں منظر کشی کی گئی ہے، "وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ" (مائده :۲۷) اور آپ انہیں آدم کے دونوں بیٹوں کا حقیقی قصہ سنائیں جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی تو اس نے کہا، میں تجھے ضرور قتل کروں گا، (پہلے نے)کہا، اللہ تو صرف تقویٰ رکھنے والوں سے قبول کرتا ہے۔ اس کے بعد یہی عمل تقریباً تمام آسمانی ادیان میں ایک عبادت اور اللہ تعالٰی سے نزدیک ہونے کا وسیلے کے طور پر باقی رہا۔ چنانچہ سورہ آل عمران کی آیت ۱۸۳ میں اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، بلکہ صرف ادیان سماوی ہی نہیں، الہامی مذاہب کے ساتھ دوسرے ادیان و مذاہب میں بھی لوگ اللہ تعالٰی یا اپنے دوسرے باطل خداؤں سے نزدیک ہونے کے لئے جانوروں کی قربانی دیتے تھے۔

۲۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ جب طوفان نوح تھم  گیا تو انہوں نے ایک جگہ جانور ذبح کرنے کے لئے معین فرمایا، پھر وہاں بہت سے جانوروں کو اللہ تعالٰی کی راہ میں قربان کیا۔
۳۔ تاریخ میں ایک اور فقید المثال قربانی کا تذکرہ بھی ملتا ہے، جسے خداوند متعال نے تاقیامت زندہ و جاوید رکھنے کا وعدہ دیا ہے۔ یہ واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی وہ عظیم قربانی ہے، جسے تمام ادیان سماوی، یہودیت، مسیحیت اور دین مقدس اسلام میں عظمت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، یہودی، مسیحی اور مسلمان سب کے ہاں قابل قبول اور محترم ہیں۔ جب آپؑ اپنے عزیز فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور 'پروردہ خلیل اللہ' فرزند صالح و مطیع حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس حکم  کے سامنے تسلیم ہوئے تو اللہ تعالٰی نے اس عظیم قربانی کو قبول فرمایا اور اسے قیامت تک زندہ رکھنے کا وعدہ فرمایا۔ چنانچہ قرآن کریم نے اس عظیم قربانی کو یوں بیان فرمایا ہے، "چنانچہ ہم نے انہیں ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ ان کے ساتھ کام کاج کی عمر کو پہنچا تو کہا، اے بیٹا! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، پس دیکھ لو تمہاری کیا رائے ہے، اس نے کہا، اے ابا جان آپ کو جو حکم ملا ہے اسے انجام دیں، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔

پس جب دونوں نے (حکم خدا کو) تسلیم کیا اور اسے ماتھے کے بل لٹا دیا، تو ہم نے ندا دی، اے ابراہیم!  تو نے خواب سچ کر دکھایا، بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک نمایاں امتحان تھا اور ہم نے ایک عظیم قربانی سے اس کا فدیہ دیا۔ "۔(سورہ صافات: ۱۰۱-۱۰۷) یہاں آخر میں ایک عظیم قربانی کا ذکر ہوا ہے جس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا فدیہ دیا گیا۔  بظاہر عظیم تو وہ فرزند تھے جن کا فدیہ دیا گیا ہے، لیکن قرآن اس ذبیحہ کو عظیم قرار دے رہا ہے۔ خصال صدوق  اور بحار الانوار کی روایات کے مطابق  قیامت تک ہونے والی منیٰ کی قربانیاں حضرت اسماعیل  علیہ السلام  کا فدیہ ہیں۔ عیون الاخبار الرضا میں ذکر ہوا ہے کہ حج کے علاوہ ہر قربانی حضرت  اسماعیلؑ کا فدیہ ہے۔ اس روایت کے مطابق سید الشہداء علیہ السلام کی قربانی اس کا عظیم مصداق قرار پاتی ہے۔ سورہ صافات کی ان آیات میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی اس عظیم قربانی کی خوب پذیرائی  ہوئی ہے۔ یہ قربانی اللہ تعالٰی کو اتنی پسند آئی کہ اس کا ذکر قیامت تک باقی رکھنے کا وعدہ دیا۔ اسی کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالٰی کی طرف سے سلام بھی آیا ہے۔ چنانچہ مذکورہ بالا آیات کے بعد مزید ارشاد فرمایا، "اور ہم نے آنے والوں میں ان کے لئے (ذکر جمیل) باقی رکھا۔ ابراہیم پر سلام ہو۔ ہم نیکو کاروں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں۔" (سورہ صافات:۱۰۸-۱۱۰)۔

۴۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانے میں بھی اللہ کی راہ میں قربانی دینے کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق اُن دنوں دو طرح کی قربانیاں دی جاتی تھیں، خونی قربانی اور غیر خونی قربانی۔ خونی قربانی کی بھی تین قسمیں تھیں، ایک قسم وہ تھی جس میں قربانی کے جانور کو مکمل طور پر آگ میں جلا دیتے تھے۔ اس میں قربانی کے جانور کی کھال کے علاوہ کوئی چیز نہیں بچتی تھی۔ دوسری قسم کی قربانی لوگ اپنے گناہوں کا ازالہ کرنے کے لئے دیتے تھے۔ اس میں جانور کا کچھ حصہ جلاتے تھے باقی حصہ کاہنوں کے لئے رکھتے تھے۔ آخری قسم کی قربانی لوگ اپنی تندرستی کے لئے دیا کرتے تھے۔ اس میں وہ لوگ خود بھی چاہے تو قربانی کے جانور کا گوشت کھا سکتے تھے۔ غیر خونی قربانی میں لوگ مختلف حیوانات کو بیابانوں میں آزاد کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے اسی عمل کی تقلید کرتے ہوئے عرب لوگ بھی اپنے خداؤں/بتوں کی قربت حاصل کرنے کے لئے حیوانات کو بیابانوں میں آزاد کرتے تھے۔ دین مقدس اسلام نے اس ناپسندیدہ عمل کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ وہی قربانی ہے جسے سورہ مائدہ کی آیت ۱۰۳ میں بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کہا گیا ہے۔

۵۔ مسیحیت میں بھی قربانی کا واضح تصور موجود ہے۔ بائبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ موجود ہے، جس میں انہوں نے اپنے بیٹے کو قربانی کے لئے منتخب کیا اور قربان گاہ کی جانب لے چلے۔ قدرت الٰہی کے سبب بیٹے کی بجائے دنبہ ذبح ہو گیا۔ عیسائیوں کے عقیدے میں  وہ بیٹا حضرت اسحٰق علیہ السلام تھے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق وہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ عیسائیوں کے اکثر فرقے مثلاً کیتھولک، آرتھوڈوکس اور ہائی چرچ اینجلیکن وغیرہ قربانی کے قائل ہیں جبکہ پروٹسٹنٹ فرقےکا عقیدہ ہےکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام پھانسی کے پھندے پر جھول گئے تھے۔ لہٰذا ان کی قربانی ہماری جانب سے بھی ہوگئی۔ اب مزید قربانی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
۶۔ زمانہ جاہلیت میں عرب میں بھی قربانی کا تصور موجود تھا۔ وہ اپنے بتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے قربانی دیا کرتے تھے۔ ان کی قربانی کو "بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام" کا نام دیا جاتا تھا۔ جو بتوں کے نام پر کھلے بیابانوں میں آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ اس کے علاوہ  نذر کے جانور بھی قربان کرتے تھے۔ دس ذوالحجہ کو منیٰ میں قربانی کا بندوبست کیا جاتا جس میں سیکڑوں جانور ذبح کئے جاتے۔ رسول اکرم ؐ کے جد امجد حضرت عبدالمطلبؑ  نے زم زم کی تلاش کرتے ہوئے منت مانی  تھی کہ اگر میں اس مقصد میں کامیاب ہوگیا، تو اپنے  ایک بیٹے  کو ذبح کروں گا۔  پھر جب قربانی کا وقت آیا تو قرعہ اندازی کی۔ جس میں حضرت عبداللہ (رسول اکرمؐ کے والد گرامی) کا نام نکلا۔ پھر آپ کے بدلے جانوروں کی مختلف تعداد رکھ کر قرعہ اندازی کی لیکن ہر بار حضرت عبداللہ ؑ کا نام نکلتا۔ بالآخر سو اونٹوں اور حضرت عبداللہ ؑ کے درمیان قرعہ اندازی کی گئی تو اس بار سو اونٹوں کا نام نکلا۔ چنانچہ حضرت عبدالمطلبؑ نے سو اونٹ قربان کئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعد میں دین مقدس اسلام نے بھی ایک انسان کی جان کا "دیہ" سو اونٹ قرار دیا۔

قربانی کے اسرار اور اس کی حکمتیں:
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، قربانی کا جانور ذبح کرنا درحقیقت انسان کا اپنے نفس امارہ کی گردن پر چھری پھیرنا ہے۔ یہ قربانی ایک درس ہے کہ انسان نفس امارہ کی ہر بری خواہش کا ختم کرے، اسے اپنے دل میں پنپنے نہ دے۔ اگر حج بیت اللہ پہ گیا ہوا حاجی اپنی طرف سے جانور تو قربان کرے لیکن اس کے ساتھ اپنی نفسانی خواہشات سے چھٹکارا نہ پائے تو اس نے فلسفہ حج کو نہیں سمجھا ہے۔ قربانی کی معرفت حاصل ہو جائے تو انسان کو اپنے آپ سے گناہوں کا بوجھ ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور اسے ایک قسم کی خوشی اپنے اندر محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ روایات میں نقل ہوا ہے کہ جب قربانی کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتا ہے تو خداوند متعال اس صاحب قربانی کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی کے گھر میں بچہ ہوتا ہے، یا کوئی مسافر گھر واپس آتا ہے، یا کوئی مصیبت ٹل جاتی ہے تو عقیقہ یا شکرانے کے طور پر ایک جانور ذبح کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر جانور کا ذبح کرنا تمام گھر والوں کے دل میں خوشی اور مسرت پیدا کرتا ہے اور عجیب سرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا قربانی والے دن مسلمان جب ہزاروں کی تعداد میں جانور ذبح کرتے ہیں تو ایک خوبصورت سنت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ ہر طرف ایک قسم کی خوشحالی دیکھنے کو ملتی ہے۔

سنت ابراہیمی کی یاد:
اسلامی تعلیمات میں عید قربان کے دن قربانی درحقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنے جواں سال بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کریں۔ یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام دونوں کا ایک امتحان تھا اور اس امتحان میں دونوں سرخرو ہوئے، تو اللہ تعالٰی نے ایک دنبہ بھیجا تاکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے قربان کیا جائے۔ یہیں سے اس سنت ابراہیمی نے قربانی کی شکل پکڑی۔ جسے مسلمان ہر سال عید قربان کے موقع پر بڑے اہتمام سے ادا کرتے ہیں۔

بھوکے لوگوں کو کھلانا:
قربانی کی حکمتوں اور اس کے اسرار میں سے ایک بھوکے لوگوں کو سیر کرانا ہے۔ معاشرے میں کتنے سارے ایسے لوگ ہوں گے جنہیں سال بھر پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا ہوگا، یا کتنے سارے لوگ سال میں گوشت کھانے سے محروم رہتے ہوں گے۔ جب قربانی کا دن آتا ہے تو ایسے لوگوں کے گھروں میں بھی بڑی خوشحالی آتی ہے۔ قرآن کریم بھی اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے: "فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ " (سورہ حج:۳۶) تو اس میں سے خود بھی کھاؤ اور سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے فقیر کو کھلاؤ۔ القَانِعَ اس فقیر کو کہتے ہیں جسے جو کچھ دیا جائے اسے قبول کرتا ہے۔ المُعتَرَّ وہ ہے جو آپ کے پاس سوال کے لئے آتا ہے اور کچھ دیا جائے تو اس پر اعتراض بھی کرتا ہے۔ یعنی کچھ دیا جائے تو اسی کا شکریہ ادا کر کے لینے کے بجائے اس پر کوئی اعتراض بھی لگاتا ہے یا بعض اوقات اپنی زبان سے دوسروں کو تکلیف دینے والے الفاظ بھی ادا کرتا ہے۔ (معجم المعانی مادہ معتر) یہ اسلام کی وسیع النظری کا پیغام ہے کہ انسان اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھے اگرچہ کسی حاجت مند کی زبان سے دکھ بھی پہنچے تو اسے برداشت کر کے اس کی ضرورت پوری کرے۔

قربانی انبیاء کی سنت ہے:
رسول اکرمؐ سے قربانی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ، "ما ھذہ الاضاحی؟" یہ قربانی کیا ہے؟ آنحضرت ؐنے فرمایا: "سُنّۃُ اَبِیکُم اِبراھِیم" یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ اصحاب کرام نے پھر سوال کیا، "فَمَا لَنا فِیھَا یا رَسولَ اللہ؟" یا رسول اللہ ہمیں اس سے کیا حاصل ہوگا؟ فرمایا:  قربانی کے جانور کے ہر بال کے مقابلے میں ایک حسنہ لکھ دی جائے گی۔ اصحاب کرام نے پھر پوچھا، "فالصوف يا رسول الله"؟ اور اون کا ہمیں کیا ملےگا؟ فرمایا، "بكل شعرة من الصوف حسنۃ" اون کے بھی ہر بال کے مقابلے میں ایک حسنہ لکھ دی جائے گی۔ (سنن ابن ماجہ،ج۲،ص۲۷۳) اکثر مفسرین نے سورہ مبارکہ الکوثر کی آیت "فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ " کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہاں نماز سے مراد نماز عید ہے اور "وَانْحَرْ" سے مراد حج میں جانور قربان کرنا یا حج کے علاوہ  بھی جانور کی قربانی دینا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ نماز سے مراد عید قربان کے دن صبح کے وقت پڑھی جانے والی نماز عید ہے اور وَ انْحَرْ سے مراد  وہی مستحب قربانی ہے۔ کیونکہ رسول اکرمؐ عید قربان کے دن پہلے قربانی کیا کرتے تھے پھر صبح نماز عید پڑھا کرتے تھے۔

سب سے عظیم قربانی:
اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینا انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء اللہ کا شیوہ ہے۔ اس سنت حمیدہ کی سب سے بہترین مثالیں انبیاء کرام یا ائمہ ہدیٰ علیہم السلام اجمعین کے ہاں ملتی ہیں۔ تاریخ میں حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت ایوب ؑ کی قربانی کا ذکر عام ملتا ہے کہ  اپنے رب کی ایک ذکر "صبوح قدوس ربنا ورب الملائکۃ والروح" کو بار بار سننے کی خاطر اپنا سارا   مال  قربان کرتے تھے۔بلکہ آیت اللہ دستغیب کی کتاب پند تاریخ میں مذکور مختلف واقعات کی روشنی میں ان دونوں بزرگواروں کی قربانی میں عجیب مشابہتیں نظر آتی ہیں۔ دونوں نے  اللہ کے نام پر اپنی مال مویشی، باغات اور آخر میں بیٹوں کی بھی قربانی دے کر شکر بجا لایا تو اللہ نے انہیں اپنا خلیل بنایا اور نعم العبد جیسے خطاب سے نوازا۔ گو کہ اللہ نے ان کے درجات بلند کرنے کے لئے ایک امتحان سے گزارا تھا جس میں دونوں ہستیاں سرخرو ہوئیں۔ لہٰذا خداوند متعال نے انہیں ان کے مال و اولاد سب واپس بھی فرمائے، لیکن اللہ کے ولیوں کی تاریخ میں ایک قربانی ایسی بھی نظر آتی ہے کہ جس کا تذکرہ نہ ہو تو شاید قربانی کا عنوان ہی ادھورا رہ جائے۔ اس قربانی نے رہتی دنیا تک کے لئے جانور ذبح کرنے کی سنت حسنہ ہی کیا، پورے اسلام کو سربلند کیا۔ اس قربانی نے زمانے میں ایسے نقوش چھوڑے کہ قیامت تک حق و باطل کو پرکھنے کا معیار بن گئی۔ اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی طرف سے دی جانے والی قربانیاں محدود ہوا کرتی تھیں، مگر فرزند رسول گرامی اسلام حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام نے ایک ایسی قربانی دی جو اپنی حقانیت اور مظلومیت کے لحاظ سے لامحدود ہے۔

حضرت ابراہیم و حضرت ایوب علیہما السلام نے اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹا کر صبر کیا تو اللہ نے ان کی قربانی قبول کرتے ہوئے قیامت تک اس کی یاد زندہ رکھا، لیکن یہاں سب کچھ لٹا کر بھی خلیل کربلا حسینؑ کی بہن اللہ کی بارگاہ میں اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے کمال صبر و شکر کے ساتھ کبھی  "اللھم تقبل منا ھٰذا القربان" کہہ رہی ہیں، تو کبھی دشمن کے طعنوں کے جواب میں حیدر کرار کے لہجے میں گویا ہیں، "ما رایت الا جمیلاً"۔ اس قربانی نے جہاں قیامت تک اسلام کی بنیادیں مضبوط کیں، وہاں رہتی دنیا تک کے لئے باطل کے دل میں ایک خوف پیدا کیا، جس سے اس کی بنیادیں لرز کر رہ گئیں۔ اس قربانی نے تمام انبیاء علیہم السلام کی محنتوں کی حفاظت کی ہے۔ اسی قربانی کی بدولت سے آج  تک اللہ کی راہ میں دی گئی قربانیاں زندہ و جاوید ہیں۔ یہی قربانی آج بھی اپنے دامن میں درس حریت رکھتی ہے۔ اس قربانی سے درس لیتے ہوئے دنیا کے بڑے بڑے ظالموں کو شکست فاش دیا جا چکا ہے۔ یہی قربانی اس دنیا میں اس آخری مستضعفین جہاں کی حکومت کے لئے پیش خیمہ ثابت ہوگی کہ جس میں اللہ کی زمین پر عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا۔ جس میں اولیاء اللہ عزیز ہوںگے اور کفار و منافقین ذلت و رسوائی کی جہنم میں ہوں گے۔ خداوند متعال سے دعا ہے کہ ہمیں فلسفہ قربانی سمجھنے کی توفیق دے۔ ہمیں تمام انبیاء کرام کی  اس سنتِ حمیدہ کو ذوق و شوق سے ادا کرنے کی سعادت بخشے۔ ہمیں اس قربانی سے درس لیتے ہوئے اللہ کے نام پر ہر قسم کی قربانی دینے کا جذبہ پیدا کرنے کی توفیق سے نوازے۔ آمین۔
خبر کا کوڈ : 808664
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب